بروقت ڈیسلٹنگ کی سراہنا ،کسانوں کو وافر آبپاشی کی یقینی دہانی کی
عظمیٰ نیوزسروس
اکھنور// وزیر جل شکتی جاوید احمد رانانے سٹیل برج کے قریب مرکزی رنبیر نہر میں پانی کی فراہمی کا باقاعدہ اِفتتاح کیاجس کے نتیجے میں نہر کے زیرِ کمان علاقوں میں زرعی مقاصد کے لئے آبپاشی کے پانی کی بروقت فراہمی یقینی بنائی گئی۔اِس موقعہ پر رُکن اسمبلی اکھنور موہن لال ، ممبر اسمبلی نگروٹہ دیویانی رانا، چیف اِنجینئر آئی اینڈ ایف سی جموں منوج گپتا اور محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول ( آئی اینڈ ایف سی ) کے دیگر سینئر اَفسران موجود تھے۔اِس موقعہ پر وزیر جاوید رانا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رنبیر کنال اَپنے زیرِ کمان علاقوں میں زراعت کے فروغ میں نہایت اہم رول اَدا کرتی ہے اوراَکھنور سے لے کر آر ایس پورہ تک وسیع زرعی اراضی کو آبپاشی کی سہولیت فراہم کرتی ہے۔اُنہوں نے کسان کمیونٹی کو یقین دِلایا کہ آئندہ آبپاشی سیزن میںزرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پانی کی وافر فراہمی برقرار رکھی جائے گی۔وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ نہروں کی لازمی ڈیسلٹنگ کا کام پہلے ہی مکمل کیا گیا ہے تاکہ نہری نظام کی پانی لے جانے کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکے اور آبپاشی کا پانی نہری نیٹ ورک کے آخری سرے پر واقع دیہات تک بھی بہ آسانی پہنچ سکے۔اُنہوں نے ذاتی طورپر تیاری کے کاموں کی نگرانی کی اور متعلقہ محکمہ کو ہدایت دی کہ تمام کام مؤثر طریقے سے مکمل کئے جائیں۔نہری نیٹ ورک کی سالانہ ڈیسلٹنگ ایک منصوبہ بند مینی ٹیننس کا عمل ہے جس کا مقصد نہر کی تہہ اور کناروں سے جمع شدہ گاد، جھاڑ جھنکار اور دیگر رُکاوٹوں کو ہٹا کر نہر کو اس کی اصل ڈیزائن صلاحیت کے مطابق بحال کرنا ہے۔یہ ڈِسٹری بیوشن نیٹ ورک میں آبپاشی کے پانی کے ہموار اور مؤچر بہائو کو یقینی بناتا ہے اور دُور دراز و ٹیل اینڈ ایئریاز تک بھی پانی کی فراہمی ممکن ہو جاتی ہے جہاں اکثر پانی کی کمی کا سامنا رہتا ہے۔اَفسران نے بتایا کہ ڈیسلٹنگ کے کام عام طور پر نہر کی بندش کے عرصے جنوری سے مارچ کے دوران انجام دئیے جاتے ہیں جب آبپاشی کی طلب کم ہوتی ہے۔ اس سے زرعی سرگرمیوں میں خلل کم سے کم رہتا ہے اور نہری نظام آئندہ فصلوں کے سیزن کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ تین مسلسل برسوں سے محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول نے ڈیسلٹنگ کا کام پہلے کے تین ماہ کے بجائے صرف دو ماہ میں مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔اِسی وجہ سے اس سال نہر کو مارچ میں ہی دوبارہ پانی سے بھر دیا گیا ہے جو کہ ماضی میں تقریباً 13 ؍اپریل کے آس پاس دوبارہ کھولی جاتی تھی، اِس طرح یہ عمل تقریباً ایک ماہ پہلے مکمل ہو گیا ہے۔وزیر جاوید رانا نے محکمہ کے افسران اور فیلڈ سٹاف کی محنت اور لگن کو سراہتے ہوئے ہدایت دی کہ باقی ماندہ کام بھی جلد از جلد مکمل کئے جائیں تاکہ آئندہ زرعی سیزن کے دوران آبپاشی کا نظام بلا تعطل جاری رہ سکے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ خطے میں سیلاب سے تحفظ کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لئے کئی نئے منصوبے زیرِ غور ہیں جن کا مقصد اِنسانی جانوں، زرعی اراضی اور عوامی املاک کو ممکنہ سیلابی خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔