عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //مرکزی حکومت اور مسلح افواج کی جھانکیوں میں بھی ملک کی طاقت اور کامیابیوں کا مظاہرہ کیا گیا۔ فضائیہ ہیڈکوارٹر کی جھانکی میں ’جنگ کے بعد ملک کی تعمیر میں سابق فوجیوں کے رول‘ کو ظاہر کیا گیا، جبکہ بحریہ ہیڈکوارٹر کی جھانکی ’سمندر سے خوشحالی‘ کے موضوع پر مبنی تھی۔تینوں افواج کی مشترکہ جھانکی ’آپریشن سندور: اشتراک سے فتح‘ کے موضوع پر پیش کی گئی، جس میں آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی فضائیہ، بری فوج اور بحریہ کے رول کو دکھایا گیا۔ جھانکی میں رافیل لڑاکا طیارہ، آکاش گائیڈیڈ میزائل، فضائی دفاعی نظام ایس-400 کے ساتھ ساتھ پاکستان اور اس کے زیرِ قبضہ علاقوں میں اُن ٹھکانوں کی تصاویر بھی شامل تھیں، جنہیں آپریشن سندور کے دوران تباہ کیا گیا۔مرکزی وزارتوں کی جھانکیوں میں وزارتِ ثقافت، اسکولی تعلیم و خواندگی کے محکمے ، وزارتِ آیوش اور وزارتِ داخلہ کی جھانکیاں شامل تھیں۔ وزارتِ داخلہ کی ایک جھانکی ’بھُج زلزلہ: 25 برس کی مضبوطی‘ اور دوسری ’عوام مرکوز نظامِ انصاف: تین نئے فوجداری قوانین 2023‘ پر مبنی تھی۔اس کے علاوہ ہاؤسنگ و شہری امور کی وزارتِ، اطلاعات و نشریات کی وزارتِ، پنچایتی راج کی وزارتِ، بجلی کی وزارتِ اور ہنر مندی و کاروباری ترقی کی وزارتِ کی جھانکیاں بھی پریڈ میں شامل رہیں۔یومِ جمہوریہ کی پریڈ میں وندے ماترم اور آتم نربھر بھارت کے موضوعات کے تحت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور 13 مرکزی وزارتوں کی جھانکیاں پیش کی گئیں، جن میں گجرات کی جھانکی میں ترنگے کا سفر اور بہار کی جھانکی میں مکھانے کی طاقت کی دلکش جھلک دیکھنے کو ملی۔اس سال مختلف ریاستوں، مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں اور وزارتوں کی جھانکیوں میں ہندوستان کی ثقافتی وراثت، تحریکِ آزادی، خود کفیلی ، تکنیکی ترقی اور قومی یکجہتی کی بھرپور عکاسی کی گئی۔ ریاستی جھانکیوں میں گجرات کی جھانکی خاص طور پر توجہ کا مرکز رہی، جس میں 1906 سے 1947 تک قومی پرچم کے سفر کو دکھایا گیا۔گجرات کی جھانکی ’وندے ماترم‘ کے موضوع پر مبنی تھی۔ بہار نے اپنے مشہور مکھانے پر مبنی جھانکی پیش کی۔ آسام کی جھانکی ’آشاریکانڈی‘ نے ٹیراکوٹا شلپ گرام کی روایتی فنکاری پیش کی۔ چھتیس گڑھ نے ’دی منتر آف فریڈم، وندے ماترم‘ کے موضوع کے تحت آزادی کے جذبے کو اجاگر کیا۔ ہماچل پردیش نے ’دیودھرتی، ویردھرتی‘ کے طور پر اپنی روحانی اور بہادرانہ روایات کو پیش کیا۔ جموں و کشمیر کی جھانکی میں مقامی دستکاری اور لوک رقص دکھائے گئے۔ کیرالا نے ’واٹر میٹرو اور شت پرتیشد ڈیجیٹل ساکشرتا—آتم نربھر بھارت کے لیے آتم نربھر کیرالا‘ کے موضوع کے ذریعے جدید ترقی کی تصویر پیش کی۔مہاراشٹر کی جھانکی ’گنیش اُتسو‘ خود کفیلی پر مرکوز رہی، جبکہ منی پور نے ’زرعی میدانوں سے بین الاقوامی منڈیوں تک: خوشحالی کی جانب‘ کے موضوع کو پیش کیا۔ ناگالینڈ کی جھانکی میں ’ہارن بل فیسٹیول: ثقافت، سیاحت اور خود انحصاری کا اتسو‘ دکھایا گیا۔