عظمیٰ نیوز سروس
تہران//ایران میں جاری جنگ کے دوران اعلی تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے عالمی سطح پر شدید ردعمل پیدا کر دیا ہے۔ 6 اپریل 2026، پیر کے روز ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران بھر میں 30 سے زائد جامعات پر حملے کیے، جن میں اساتذہ کو نشانہ بنایا گیا اور 60 سے زائد طلبہ جاں بحق ہوئے۔ ان میں کچھ طلبہ ایسے بھی شامل تھے جو شہری علاقوں میں اپنے گھروں میں مقیم تھے۔ایرانی ہلال احمر، جو ریڈ کراس کے مساوی ایک ادارہ ہے، کے مطابق 28 فروری سے اب تک ایران میں 1,05,325 شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی ہے۔اسی دوران پیر کی صبح تہران میں واقع شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی پر بھی حملہ کیا گیا۔ یہ ایران کی نمایاں ترین جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ حملے کے نتیجے میں یونیورسٹی کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچا اور اطراف کے علاقوں میں گیس کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ابتدائی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملے کے بعد یونیورسٹی کی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملہ نہ صرف جامعہ کی عمارتوں پر ہوا بلکہ قریب واقع گیس تقسیم کے ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث اطراف میں گیس کی سپلائی متاثر ہوئی۔یونیورسٹی کے صدر نے اس نقصان کی تصدیق کی، تاہم حکام کے مطابق جاری جنگ کے باعث کلاسز پہلے ہی آن لائن جاری تھیں، جس کی وجہ سے کیمپس بڑی حد تک خالی تھا۔ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جنگ بندی مذاکرات کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ’’اسرائیلی- امریکی حملہ آوروں نے ایران کے ایم آئی ٹی کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ دیگر جامعات پر حملوں کا تسلسل ہے‘‘۔شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی، جو 1966 میں قائم ہوئی، نہ صرف ایران کی سب سے نمایاں جامعہ ہے بلکہ انجینئرنگ سمیت کئی شعبوں میں دنیا کی صف اول کی جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ اسے اکثر ایران کا ایم آئی ٹی کہا جاتا ہے۔