عظمیٰ نیوز سروس
راجوری // جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو نے ایک اہم کارروائی انجام دیتے ہوئے راجوری کے تھنہ منڈی پولیس اسٹیشن میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل محمد الیاس کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ ملزم کے خلاف ایف آئی آر نمبر 05/2026 درج کر کے بدعنوانی روک تھام ایکٹ 1988 (ترمیم شدہ 2018) کی دفعہ 7 کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق شکایت گزار نے اینٹی کرپشن بیورو کو دی گئی درخواست میں بتایا کہ 13 مارچ 2026 کو وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ شاہدرہ شریف تھنہ منڈی جا رہا تھا کہ راستے میں اس کی گاڑی (ایکو) حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں اس کے اہل خانہ زخمی ہو گئے اور گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔
اس واقعہ کے بعد تھنہ منڈی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر نمبر 26/2026 درج کی گئی۔شکایت کے مطابق دورانِ تفتیش مذکورہ ہیڈ کانسٹیبل محمد الیاس، جو کیس کے تفتیشی افسر تھے، نے گاڑی کو اپنی تحویل میں لے لیا اور رہائی کے بدلے 20 ہزار روپے رشوت طلب کی۔ شکایت گزار نے دباؤ اور خوف کے تحت ابتدائی طور پر 5 ہزار روپے ادا کیے، تاہم بعد میں ملزم نے مزید 15 ہزار روپے کا مطالبہ کیا، جو بالآخر 10 ہزار روپے پر طے پایا۔رشوت کی مسلسل مانگ اور ہراسانی سے تنگ آ کر شکایت گزار نے اینٹی کرپشن بیورو راجوری سے رجوع کیا، جس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اینٹی کرپشن بیورو نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی اور منصوبہ بندی کے تحت جال بچھایا۔ کارروائی کے دوران ملزم محمد الیاس کو 10 ہزار روپے رشوت وصول کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔گرفتاری کے بعد اینٹی کرپشن بیورو نے ملزم کے رہائشی مکان واقع راجوری میں بھی تلاشی لی۔ حکام کے مطابق اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور مزید انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔اینٹی کرپشن بیورو نے واضح کیا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔