عظمیٰ نیوز سروس
چنئی// آئندہ اسمبلی انتخابات کی گونج کے درمیان تمل ناڈو میں خواتین کو کل صبح ایک سرپرائز ملا۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے نہ صرف مستقبل میں امداد کی رقم کو دوگنا کرنے کا وعدہ کیا بلکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ کی توقع کرتے ہوئے تین ماہ کا ایڈوانس اور موسم گرما کا بونس بھی خواتین کے کھاتوں میں جمع کرایا۔ حالیہ ہریانہ، مہاراشٹر اور بہار اسمبلی انتخابات میں خواتین کے لیے چلائی گئی سرکاری اسکیموں کا خاصا اثر دیکھنے کو ملا ہے۔وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اعلان کیا کہ خواتین کو دی جانے والی 1,000 روپے کی امداد (مگلیر ارمائی تھوگئی) کو ڈراویڈئن ماڈل 2.0″ یعنی اگلی ڈی ایم کے حکومت میں 2,000 روپے کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کل صبح خواتین کے بینک کھاتوں میں کل 5,000 روپے جمع کرائے گئے ہیں۔ اس میں اگلے تین مہینوں کے لیے 3,000 روپےکی امداد اور 1,000 روپے کا خصوصی “موسم گرما کا پیکج” شامل ہے۔تمل ناڈو میں ڈی ایم کے حکومت میں “مگلیر ارمائی تھوگئی” اسکیم 15 ستمبر 2023 سے نافذ ہے۔ اس کے تحت ہر ماہ خواتین کے بینک کھاتوں میں 1,000 روپے جمع کئے جا رہے ہیں۔ اب تک 11.4 ملین خواتین اس اسکیم سے مستفید ہو چکی ہیں۔ وزیر اعلیٰ سٹالن نے گزشتہ سال اپریل میں اعلان کیا تھا کہ اسکیم میں نئے استفادہ کنندگان کو شامل کرنے کا عمل جلد شروع ہو جائے گا۔اسی مناسبت سے گزشتہ سال جون میں تمل ناڈو میں 9,000 مقامات پر “چیف منسٹر ود دی پیپل” (مکاڈولادن متلوار) کیمپ لگائے گئے۔ ان کیمپوں کے چوتھے مرحلے میں خواتین کی مدد کے لیے درخواستیں جمع کی گئیں۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ جو لوگ پچھلی بار اندراج سے محروم رہ گئے تھے وہ اس بار بھی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں، جس سے امداد حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد ایک کروڑ 31 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔اگلے چند مہینوں میں دراوڑی ماڈل کی حکومت ختم ہونے کے ساتھ، وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ فروری، مارچ اور اپریل کے مہینوں کی امداد پہلے ہی کھاتوں میں جمع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کل 2,000 روپے ایک ‘سمر اسپیشل’ (موسم گرما کے خصوصی تحفہ) کے طور پر جمع کرائے گئے ہیں، جس سے آج صبح تک کل رقم 5,000 ہو گئی ہے۔