سلیم یوسف راتھر
والدین ہونا دنیا کے سب سے کم قدر کیے جانے والے کاموں میں سے ایک ہے۔ یہ نہ تو وقت کی قید میں ہے اور نہ ہی یکساں اور تکرار والے کاموں تک محدود یے۔ یہ ایک لازوال ذمہ داری ہے۔ یہ آپ کو تھکاتے ہوئے بھی حیرت زدہ کر دیتی ہے۔ یہ آپ کو اس وقت تراشتی ہے جب آپ کسی دوسری روح کی نشوونما کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ اس عمل میں بنتے بھی ہیں اور مٹتے بھی ہیں۔ یہ آپ کے کمزور اعصاب کو جھنجھوڑ دیتی ہے، مگر آپ کے عزم کو مضبوط بناتی ہے۔ ایک بچے کی پرورش کے پُرسکون ہیجان میں، آپ اپنی ذات کے کچھ حصے کھو دیتے ہیں، تاکہ اپنے اندر چھپے گہرے اور دانا ورژن کو پا سکیں۔
والدین کا کردار اتنا ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی تہذیب۔ انسانی معاشروں نے شکار کرنے والے قبائل سے لے کر ’’انڈسٹری 4.0‘‘(جدید صنعتی دور) کے آغاز تک کا سفر طے کیا ہے۔ تاریخ کے اس طویل سفر میں، والدین کے کردار نے بھی ارتقاء پایا ہے—محض بقا کی جبلت سے لے کر باشعور پرورش کے فن تک۔ یہ ثقافت، جدوجہد، ٹیکنالوجی اور وقت کے سانچے میں ڈھلا ہوا ایک طویل عمل ہے۔
جنگلوں میں زندہ رہنے کا ہنر سکھانے سے لے کر اسکرینوں اور چیٹ باٹس کی دنیا میں جینا سکھانے تک، والدین کی ذمہ داریاں یکسر بدل چکی ہیں۔ پرورش کا یہ سفر ان مشترکہ دیہاتی کوششوں سے شروع ہوا جہاں پورا گاؤں مل کر ایک بچے کی پرورش کرتا تھا، اور آج یہ ان خاموش بوجھوں تک آ پہنچا ہے جو اکثر ایک تنہا والدین (سنگل پیرنٹ) اٹھاتے ہیں۔ ہم نے اس کے تمام روپ دیکھے ہیں،بقا کی فکر والی پرورش، تادیبی پرورش، خوابوں کی تکمیل والی پرورش، اور اب وہ ’’شعوری پرورش‘‘ (Conscious Parenting) جو محض فرمانبردار بچے نہیں، بلکہ جذباتی طور پر محفوظ اور باصلاحیت انسان چاہتی ہے۔
شعوری پرورش محض بچوں کی پرورش کا نام نہیں ہے۔ یہ والدین کے لیے خود آگاہی اور اندرونی تبدیلی کا ایک گہرا موقع ہے۔ اسلامی روایت سے اس سبق پر غور کریں: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے اپنے نواسے حضرت حسنؓ کا بوسہ لیا، جبکہ ایک بدوی، اقرع بن حابس، حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ اقرع نے کہا، ’’میرے دس بچے ہیں اور میں نے کبھی ان میں سے کسی کو نہیں چوما۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا، ’’جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)۔ ایک اور روایت کے الفاظ ہیں: ’’میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں اگر اللہ نے تمہارے دل سے رحمت نکال دی ہے؟‘‘ لہٰذا، رحمت محض ایک جذبہ نہیں، بلکہ ایک پروان چڑھایا ہوا کردار ہے۔ ہمیں جذباتی سرد مہری کو ترک کرنے کی ضرورت ہے۔
بہت سے والدین لاشعوری طور پر بچوں کے ذریعے اپنے خواب پورے کرنے، انہیں خاندانی وقار کا آئینہ دار بنانے اور مخصوص توقعات پر چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ جذباتی دباؤ اور انفرادیت کے خاتمے کا باعث بنتا ہے۔ یہاں خلیل جبران کی بصیرت اہمیت اختیار کر جاتی ہے:’’تم انہیں اپنی محبت دے سکتے ہو، مگر اپنے خیالات نہیں۔کیونکہ ان کے پاس اپنے خیالات ہیں۔تم ان کے جسموں کو تو گھر دے سکتے ہو، مگر ان کی روحوں کو نہیں۔کیونکہ ان کی روحیں آنے والے کل کے گھر میں بستی ہیں،جہاں تم نہیں جا سکتے، اپنے خوابوں میں بھی نہیں۔‘‘
شعوری پرورش ہمیں بچے کے منفرد مزاج کو قبول کرنے، ان کی اصلیت کی حوصلہ افزائی کرنے اور موازنہ کرنے سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔ ہمارے بچوں کو مہنگے تحائف، مسلسل اصلاح اور بہترین تکنیکوں کے بجائے ہماری جذباتی دستیابی، توجہ اور موجودگی کی ضرورت ہے۔ یہ بچوں میں ’’ہم عمروں کے زیرِ اثر آنے‘‘ (Peer
Orientation) کے تناظر میں بھی اہم ہے۔ کنٹرول کرنے سے زیادہ طاقتور تعلق بنانا ہے۔ کنٹرول کے بجائے تعلق کو چن کر، ہم اپنے بچوں کو ہم عمروں کی طرف جھکاؤ سے بچاتے ہیں،وہ رجحان جس میں بچہ گھریلو ماحول میں جذباتی دوری کی وجہ سے اپنے دوستوں میں اپنائیت تلاش کرتا ہے۔ ہم عمروں کی بے تجربہ کاری کو بڑوں کی دانائی کے مضبوط سہارے سے بدلنے کی ضرورت ہے۔ہمارے بچے ڈیجیٹل خلفشار، مسابقتی ماحول اور جذباتی تناؤ کے شکار گھرانوں میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ ہماری ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ یہ غیر مشروط محبت کے ذریعے بچوں کے لیے ایک ‘محفوظ زون تخلیق کرنے کا نام ہے۔ مکان کو ایک حقیقی گھر میں بدلنے کا نام ہے۔ یہ ایک مکمل یا پرفیکٹ بچہ پیدا کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔ ڈاکٹر شیفالی تسباری کے الفاظ میں، یہ ایک انسان کی پرورش کے دوران خود ایک زیادہ باشعور انسان بننے کا نام ہے۔
(مضمون نگارشعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور ہار اسکنڈری اسکول زچلڈارہ میں پڑھاتے ہیں)