سرینگر//جامعہ کشمیر کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے سوموار کو پانی ، صحت اور Parasites موضوع پر تین روزہ بین الاقوامی ویبنار کا افتتاح کیا۔ویبینار کا انعقاد انڈسٹری سوسائٹی فار پیراسیٹولوجی (آئی ایس پی) کے تعاون سے یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنس نے کیاہے ۔اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر طلعت نے کہا کہ پانی کے تحفظ سے متعلق ایک بہت ہی مضبوط پالیسی کی ضرورت ہے تاکہ سب تک اسکی رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔پانی اور صفائی تک رسائی اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں شامل ہے۔ اس لئے عالمی یوم آب منانا ہم سب کیلئے موقع ہے کہ وہ اس موقع پر پہنچیں اور بہتر کل کیلئے اپنے آپ کو پانی کے تحفظ کے لئے وقف کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم سب کو پانی کی حفاظت کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرروت ہے ۔تقریب میں مہمان خصوصی کے طور شریک انڈین سوسائٹی آف پیراسیولوجی کے صدر پروفیسر سکھبیر کور نے کہا کہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے ترقی پذیر ممالک کو صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ لاحق ہے جو معیشت کو بری طرح متاثر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت کیلئے ناکافی پانی کی وجہ سے 50 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں تقریبا نصف آبادی پانی سے متعلق بیماریوں کا شکار ہیں جبکہ درمیانی آمدنی والے ممالک میں 58 فیصد لوگ غیر محفوظ پانی کا استعمال کرتے ہیں ۔کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ پروفیسر شکیل احمد رامشو نے کہا ’’جموں و کشمیر اور لداخ میں ہمارے پاس 12000 گلیشیئرز موجود ہیں اور پانی اس خطے کیلئے سب سے اہم وسائل میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکام کو پانی کے تحفظ کیلئے پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ متعلقین میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس آبی ذخائر کی کوئی کمی نہیں ہے اورانہیں بچانے کی ضرورت ہے ۔