کشتواڑ//قصبہ کشتواڑ میں واقع جموں کشمیر کا مشہور تواریخی چوگان میدان انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہے اور یہ ہرابھرا چوگان گرائونڈ گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو کر اپنی شان کھورہا ہے تاہم کشتواڑ ڈیولپمنٹ اتھارٹی و ضلع انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اسے کوڑادان بنانے میں مشغول ہیں۔500سے زائد کنال پر پھیلا ہوا تاریخی چوگان میدان آپسی بھائی چارے کی زندہ مثال ہے جہاں ایک طرف اسکے حضرت شاہ اسرارالدین ؒکا آستان عالیہ ہے وہی اسکے دوسری طرف گوری شنکر کا مندر بھی موجود ہے۔ مسلمان یہاں عید کی نماز ادا کرتے ہیں وہیں ہندو مذہب کے لوگ دسہرہ و دیگر تہوار بھی اسی چوگان میں مناتے ہیں۔چوگان میدان میں صبح و شام سینکڑوں کی تعداد میں قصبہ و محلقہ علاقہ جات کے لوگ سیرو تفریح کرنے کیلئے آتے ہیںجبکہ بڑی تعداد میں بچے ونوجوان دن بھر کھیل کود میں مصرف ہوتے ہیں۔لیکن گندگی کے ڈھیرے ہر طرف پڑے ہونے کے سبب کافی بدبو پھیل رہی ہے ج یہاں آنے والے ہر شخص کیلئے پریشانی کا باعث بن رہی ہے ۔بناستان کے مقامی نوجوانوں نے کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوے کہا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے ہر صبح چوگان میں فٹ بال کھیلنے و سیروتفریح کیلئے آتے ہیں لیکن انھوں نے آج تک اس چوگان کی حالت کبھی بہتر نہیں دیکھی، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر تو معمول کی بات ہے،اگرچہ کچھ وقت قبل لائٹوں کی مرمت کی گئی لیکن یہاں سے گندگی ہٹانے کیلئے متعلقہ محکمہ کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہا ہے جسکے سبب یہ چوگان گرائونڈ اپنی شناخت کھورہا ہے اور اگر یہی سلسلہ چلتا رہا اور اسکی بہتری کیلئے کوئی اقدام نہ کیا گیا تو بہت جلد یہ اپنی پہچان کھودے گا جسکا ذمہ دار کشتواڑ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ہوگی۔یاسین احمد نے بتایا کہ اگرچہ انتظامیہ سوچھ بھارت کے بڑے بڑے دعوے کرتی ہیں اور ہر سال لاکھوں روپیہ خرچ کرتی ہے لیکن باوجود اسکے زمینی سطح پر کچھ نظر نہیں آتا۔انھوں نے بتایا کہ چوگان میں نہ ہی کوڑادان ہے اور نہ کہیں گندگی پھینکنے کیلئے کوئی جگہ ہے جسکے سبب جگہ جگہ پلاسٹک کی بوتلیں ،لفافے ،شراب کی بوتلیں پڑی ہوئی ملتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہ جانے کیوں محکمہ سیاحت و میونسپل کمیٹی اس تواریخی چوگان میدان کو نظر انداز کررہی ہے اور اسکی بہترئی کیلئے کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔