عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی (بی جی ایس بی یو) کے رجسٹرار ابھیشیک شرما نے ہفتہ کے روز یونیورسٹی کیمپس میں زیرِ تعمیر سولر پاور منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ یہ منصوبہ مجوزہ ایک میگاواٹ سولر پاور پروجیکٹ کا حصہ ہے جس کے تحت یونیورسٹی میں 50 کلو واٹ کے سولر پاور پلانٹ کی تنصیب کا کام جاری ہے۔اپنے دورہ کے دوران رجسٹرار کو بتایا گیا کہ ایک میگاواٹ سولر پاور پلانٹ کے تقریباً 85 فیصد کام مکمل ہو چکے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ منصوبہ 15 اپریل 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔رجسٹرار ابھیشیک شرما نے اس موقع پر قابلِ تجدید توانائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سولر پاور پلانٹ کی تنصیب سے یونیورسٹی کی روایتی بجلی کے ذرائع پر انحصار کم ہوگا اور بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف ماحول دوست توانائی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ کیمپس میں صاف اور پائیدار توانائی کے استعمال کو بھی فروغ دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے توانائی کے تحفظ، کاربن کے اخراج میں کمی اور یونیورسٹی کے لیے طویل مدتی مالی بچت ممکن ہو سکے گی۔ حکام کے مطابق اس منصوبے سے یونیورسٹی کو ماہانہ تقریباً آٹھ لاکھ روپے بجلی کے بل میں بچت ہونے کی توقع ہے جو سالانہ بنیادوں پر تقریباً 96 لاکھ روپے بنتی ہے۔حکام نے بتایا کہ جب کیمپس میں مکمل ایک میگاواٹ سولر پاور صلاحیت نصب ہو جائے گی تو یونیورسٹی میں گرین انرجی کی دستیابی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔یہ اقدام قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، پائیدار ترقی اور تعلیمی اداروں میں ماحول دوست توانائی کے استعمال کو بڑھانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔اس موقع پر ایگزیکٹو انجینئر الیکٹرک ڈویڑن راجوری سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی رجسٹرار کے ہمراہ موجود تھے اور انہوں نے منصوبے کی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ فراہم کی۔