گلوان پورہ بڈگام میں ایک کمسن بچی کے اغوا،جنسی زیادتی اور بہیمانہ قتل نے ایک بار پھر کشمیر کے اُس چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے جسے ہم برسوں سے اخلاقیات، تہذیب اور روحانیت کے خوشنما نعروں کے پیچھے چھپاتے آئے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ یہ صرف ایک بچی کا قتل نہیں، بلکہ پورے سماج کے ضمیر، ریاستی نظام، سیاسی قیادت اور اجتماعی اخلاقی ڈھانچے کی موت ہے۔ ایک معصوم جان کو ہوس کے درندوں نے نوچ کر پھینک دیا، اور ہم پھر حسبِ روایت مذمتوں، بیانات اور کھوکھلی یقین دہانیوں کے قبرستان میں کھڑے ہیں۔یہ واقعہ صرف ایک درندے کی حیوانیت نہیں بلکہ حکومت، سیاستدانوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سماجی ڈھانچے اور ہماری اجتماعی بے حسی کی کھلی ناکامی ہے۔ سچ یہ ہے کہ اس بچی کو صرف قاتل نے نہیں مارا، بلکہ اس بوسیدہ نظام نے مارا ہے جو ہر بار جرم کے بعد جاگنے کا ڈرامہ کرتا ہے۔
کشمیر میں ہر سانحے کے بعد ایک ہی سکرپٹ دہرایا جاتا ہے۔ سیاستدان مذمتی ٹویٹ کرتے ہیں، حکومت ’’سخت کارروائی‘‘کا اعلان کرتی ہے، پولیس’’فوری تحقیقات‘‘ کی یقین دہانی دیتی ہے، مذہبی و سماجی تنظیمیں چند دن غصہ ظاہر کرتی ہیں، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک؟ آخر کتنی بیٹیاں اجتماعی بے حسی کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی؟ اور کب تک حکمران عوام کے زخموں پر رسمی بیانات کا نمک چھڑکتے رہیں گے؟
اصل المیہ یہ ہے کہ اس سماج نے انسان کو انسان سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ اخلاقی زوال اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ اب درندگی محض خبروں کا حصہ بن گئی ہے۔ منشیات، فحاشی، بے روزگاری، ذہنی انتشار اور سماجی ٹوٹ پھوٹ نے ایک ایسی نسل پیدا کی ہے جو نہ قانون سے ڈرتی ہے، نہ خدا سے، نہ سماج سے۔ لیکن اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اب بھی ترقی، امن اور نارملسی کے کھوکھلے راگ الاپ رہے ہیں، جیسے زمین پر کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
سیاسی قیادت کا کردار سب سے زیادہ شرمناک ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو ہر لاش پر سیاست کرتا ہے، ہر سانحے کو اپنے مفادات کے ترازو میں تولتا ہے، مگر کبھی اس معاشرے کے اخلاقی انہدام پر سنجیدہ مکالمہ نہیں کرتا۔ انہیں قوم کی بیٹیوں کی نہیں، اپنی کرسیوں اور بیانات کی فکر ہے۔یہاں سیاستدان صرف لاشوں پر سیاست کرتے ہیں۔ کسی کیلئے یہ واقعہ ٹویٹ کا مواد ہے، کسی کیلئے مذمتی بیان جاری کرنے کا موقع، اور کسی کے لئے عوامی ہمدردی سمیٹنے کا ذریعہ۔ جب کیمرے بند ہوتے ہیں تو یہی حکمران، یہی لیڈر، یہی نمائندے عوام کے زخم بھول جاتے ہیں۔ اگر واقعی انہیں عوام کی فکر ہوتی تو آج کشمیر کی بیٹیاں خوف کے سائے میں زندگی نہ گزار رہی ہوتیں۔
حکومت کی حالت یہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد ایک گھسا پٹا جملہ سامنے آتا ہےکہ’’ملزمان کو بخشا نہیں جائے گا‘‘مگر عوام پوچھتے ہیں کہ آخر پہلے کتنے درندوں کو عبرتناک سزا ملی؟ کتنے مقدمے انصاف تک پہنچے؟ کتنے خاندان آج بھی عدالتوں اور تھانوں کے چکر نہیں کاٹ رہے؟ حقیقت یہ ہے کہ کمزور تفتیش، سست عدالتی نظام اور سیاسی مداخلت نے مجرموں کو بے خوف بنا دیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی سوالات سے بری نہیں۔ ہر واقعے کے بعد سخت کارروائی کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ جرائم بڑھ رہے ہیں اور عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ اگر نظام واقعی متحرک ہوتا تو ایک معصوم بچی کی لاش ہمیں یوں نہ اٹھانی پڑتی۔ سوال یہ بھی ہے کہ ہماری بستیوں، محلوں اور تعلیمی اداروں میں ایسا خوفناک اخلاقی زوال کیوں پھیل رہا ہے؟ کیوں درندے ہمارے درمیان دندناتے پھر رہے ہیں؟۔ آخر کیوں جرائم بڑھ رہے ہیں؟ کیوں درندوں کے دل سے قانون کا خوف ختم ہو چکا ہے؟ کیوں متاثرہ خاندان انصاف کے لئے برسوں دھکے کھاتے ہیں؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ کمزور نظامِ انصاف نے مجرموں کو پیغام دیا ہے کہ اس معاشرے میں چیخیں جلد خاموش ہو جاتی ہیں۔
لیکن صرف حکومت اور سیاستدانوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر ہم بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم بطور سماج بھی مجرم ہیں۔ہمارا سماج اندر سے گل چکا ہے۔ ہم نے اپنی اجتماعی حساسیت کھو دی ہے۔ ہم ظلم پر چند دن شور مچاتے ہیں، پھر اگلی خبر کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ہم نے اپنی نسلوں کی اخلاقی تربیت چھوڑ دی، گھروں سے اخلاقیات کو نکال دیا اور مذہب کو صرف نعروں تک محدود کر دیاجبکہ عورتوں اور بچیوں کے تحفظ کوکبھی سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھا۔ ہم ظلم پر وقتی غصہ دکھاتے ہیں مگر اپنے اردگرد پھیلتی برائیوں پر خاموش رہتے ہیں۔ یہی خاموشی آج ہماری بیٹیوں کی قبروں پر کھڑی ہے اور اب درندگی ہمارے دروازوں تک پہنچ چکی ہے۔
گلوان پورہ بڈگام کی اس معصوم بچی کا خون صرف قاتل کے ہاتھوں پر نہیں، بلکہ ہر اُس شخص کے دامن پر ہے جو اختیار میں ہونے کے باوجود خاموش رہا، جو اقتدار میں رہ کر ناکام ہوا، جو سماج میں رہ کر بے حس بن گیا۔یہ وقت محض مذمت کا نہیں، بلکہ پورے نظام کے احتساب کا ہے۔ اگر اس معصوم بچی کے قاتل کو فوری اور سرِ عام عبرتناک سزا نہ دی گئی تو ہر حکمران، ہر سیاستدان، ہر ادارہ اور ہر وہ شخص جو خاموش ہے، اس خون میں برابر کا شریک سمجھا جائے گا۔اس بیٹی کی چیخیں صرف اس کے قاتل کا نام نہیں لے رہیں، بلکہ پورے معاشرے کو کٹہرے میں کھڑا کر رہی ہیںاور سچ یہی ہے کہ آج ہم سب مجرموں کے درمیان کھڑے ہیں۔ اگر اس سانحے کے بعد بھی ہم نہ جاگے تو یاد رکھنا چاہئے کہ اگلی چیخ شاید کسی اور گھر سے نہیں، ہمارے اپنے آنگن سے بلند ہو۔