ایجنسیز
ڈھاکہ// بنگلہ دیش کے ضلع میمن سنگھ کی تریشال اپازیلا میں نامعلوم افراد نے ایک 62 سالہ ہندو تاجر کو اس کی دکان کے اندر تیز دھار ہتھیار سے حملہ کر کے قتل کر دیا، مقامی میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا۔نیوز پورٹل bdnews24.com کے مطابق تریشال تھانے کے انچارج محمد فیروز حسین نے بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی رات بوگر بازار چوک پر پیش آیا۔مقتول کی شناخت سوسن چندر سرکار کے نام سے ہوئی ہے جو ‘بھائی بھائی انٹرپرائز’ کے مالک اور ساؤتھ کاندا گاؤں کے رہائشی تھے۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے تیز دھار ہتھیار سے وار کر کے سرکار کو زخمی حالت میں دکان کے اندر چھوڑ دیا اور شٹر بند کر دیا۔ اہلِ خانہ انہیں تلاش کر رہے تھے، اور جب انہوں نے دکان کا شٹر کھولا تو وہ خون میں لت پت پائے گئے۔انہیں فوری طور پر میمن سنگھ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔مقتول کے بیٹے سوجن سرکار نے کہا،’’ہم کافی عرصے سے چاول کا کاروبار کر رہے تھے، کسی سے ہماری دشمنی نہیں تھی۔ ملزمان نے میرے والد کو بے دردی سے قتل کرنے کے بعد دکان سے لاکھوں ٹکا بھی لوٹ لیے۔‘‘ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو جلد گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔سرکار کا قتل اقلیتی برادری کے خلاف حالیہ پرتشدد واقعات میں تازہ واقعہ بتایا جا رہا ہے۔ دسمبر میں ایک شدت پسند نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد ملک میں ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔بنگلہ دیش ہندو بدھسٹ کرسچین یونٹی کونسل نے گزشتہ ماہ الزام لگایا تھا کہ عام انتخابات کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ فرقہ وارانہ تشدد میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ کونسل کے مطابق صرف دسمبر 2025 میں فرقہ وارانہ تشدد کے 51 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔بنگلہ دیش میں 12 فروری کو پارلیمانی انتخابات ہوں گے، جو اگست 2024 میں بڑے عوامی احتجاج کے نتیجے میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد پہلے انتخابات ہوں گے۔2022 کی مردم شماری کے مطابق بنگلہ دیش میں ہندو آبادی تقریباً 1 کروڑ 31 لاکھ ہے، جو ملک کی کل آبادی کا لگ بھگ 7.95 فیصد بنتی ہے۔