زیادہ ترسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی نصب
ایجنسیز
ڈھاکہ// بنگلہ دیش میں عام انتخابات کیلئے نصف سے زیادہ پولنگ مراکز کو ’’حساس‘‘ قرار دیا گیا ہے، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 90 فیصد مراکز سی سی ٹی وی نگرانی میں ہوں گے اور دارالحکومت ڈھاکہ میں تعینات متعدد پولیس اہلکار باڈی کیمرے پہنیں گے۔حکام کے مطابق الیکشن کمیشن کا سکیورٹی نظام خطرے کے تجزیے پر مبنی ہے۔ الیکشن کمشنر ابوالفضل محمد ثناء اللہ نے منگل دیر گئے میڈیا بریفنگ میں کہا، ’’سکیورٹی تعیناتی مقامی حساسیت کے جائزے کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔‘‘الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایا کہ یہ انتخابات ملک کی انتخابی تاریخ میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی سب سے بڑی تعیناتی اور ٹیکنالوجی کے سب سے وسیع استعمال کا مشاہدہ کریں گے۔ثناء اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو توقع ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پولنگ کے دوران اور انتخابات کے بعد ووٹرز کے لیے پْرامن ماحول یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ امن و امان کی صورتحال پر الیکشن کمیشن بڑی حد تک مطمئن ہے اور ’’ماضی کے کسی بھی وقت کے مقابلے میں ہم اب بہتر پوزیشن میں ہیں۔‘‘ان کے یہ ریمارکس اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے جب پولیس کے انسپکٹر جنرل بہارال عالم نے کہا کہ ملک بھر کے تقریباً 43 ہزار پولنگ مراکز میں سے 24 ہزار کو ’’زیادہ‘‘ یا ’’درمیانے‘‘ درجے کا خطرناک قرار دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق خطرے سے دوچار پولنگ مراکز کی فہرست الیکشن کمیشن کو فراہم کر دی گئی ہے، جس کے مطابق ڈھاکہ کے 2,131 مراکز میں سے 1,614 کو خطرناک قرار دیا گیا۔ تاہم فوج نے اس سے قبل ایک میڈیا بریفنگ میں کہا تھا کہ ڈھاکہ شہر میں انہوں نے صرف دو مراکز کو ’’خطرناک‘‘ قرار دیا ہے۔الیکشن کمشنر بریگیڈیئر جنرل (ر) ابوالفضل محمد ثناء اللہ نے منگل کو بتایا کہ ملک بھر میں آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ قومی انتخابات اور ریفرنڈم کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً 9 لاکھ 58 ہزار قانون نافذ کرنے والے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے دارالحکومت کے علاقے آگرگاؤں میں نرباچن بھون میں انتخابی تیاریوں پر پریس بریفنگ کے دوران بتایا، ’’پہلی بار انتخابی سکیورٹی کے لیے یو اے ویز (بغیر پائلٹ فضائی گاڑیاں)، ڈرونز اور باڈی کیمرے استعمال کیے جا رہے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ جمعرات کو 299 حلقوں میں ووٹنگ ہوگی، جبکہ شیرپور-3 میں ایک امیدوار کی وفات کے باعث ووٹنگ ملتوی کر دی گئی ہے۔انتخابات کے دوران 2,098 ایگزیکٹو مجسٹریٹس اور 657 جوڈیشل مجسٹریٹس فرائض انجام دیں گے۔انہوں نے مزید کہا، ’’پہلی بار قانون نافذ کرنے والے ادارے یو اے ویز، ڈرونز اور باڈی کیمرے استعمال کر رہے ہیں۔ تقریباً 25 ہزار باڈی کیمرے میدان میں تعینات ہوں گے، جن میں سے کچھ براہ راست ویڈیو فراہم کریں گے جبکہ دیگر مقامی طور پر ریکارڈ کریں گے۔ مزید برآں مسلسل نگرانی کے لیے 90 فیصد سے زائد مراکز میں پہلے ہی سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں۔‘‘انہوں نے بتایا کہ ووٹنگ صبح 7.30 بجے سے شام 4.30 بجے تک جاری رہے گی، تاہم جو ووٹرز 4.30 بجے تک پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود ہوں گے انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 42,659 پولنگ مراکز میں ووٹنگ ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق پہلی بار ووٹ دینے والے ووٹرز کل 12 کروڑ 77 لاکھ 5 ہزار 97 ووٹرز کا تقریباً 3.58 فیصد ہیں۔
انتخابات سے قبل سفر کا غیر معمولی رش
ایجنسیز
ڈھاکہ// بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ اور دیگر بڑے شہروں میں منگل کے روز غیر معمولی سفری رش دیکھنے میں آیا، جب ہزاروں افراد انتخابات سے قبل اپنے آبائی علاقوں جانے کے لیے بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر جمع ہوگئے۔بنگلہ دیش میں 12 فروری کو پارلیمانی انتخابات ہوں گے، جو اگست 2024 میں ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلے انتخابات ہوں گے۔ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے مطابق مسافروں کی غیر معمولی تعداد کا سامنا ہے اور بڑے بس اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر ٹکٹ کے حصول کے لیے لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ڈھاکہ کے موہاخلی بس ٹرمینل کے قریب چائے کا اسٹال چلانے والے عبدالرحیم نے کہا، ’’یہ تقریباً ویسا ہی رش ہے جیسا عید کی تعطیلات میں اپنے گھروں کو جانے والے مسافروں کا ہوتا ہے۔‘‘عینی شاہدین کے مطابق دیگر بس اڈوں اور ڈھاکہ کے مرکزی کمالاپور ریلوے اسٹیشن پر بھی اسی طرح کے مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں سے ملک کے مختلف حصوں کے لیے بس اور ٹرین سروس چلتی ہے۔ڈھاکہ میں ایک کمرشل پریس ورکر جاشم الدین نے کہا، ’’میں چاہتا ہوں کہ میرا خاندان گاؤں کے گھر منتقل ہو جائے کیونکہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ووٹنگ کے دوران اور اس کے بعد تشدد کا خدشہ ہے۔‘‘اخباری رپورٹس کے مطابق جنوب مشرقی بندرگاہی شہر چٹوگرام اور دیگر بڑے شہروں سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے آبائی دیہات جا رہے ہیں، تاہم بعض مقامات پر مسافروں نے ٹرانسپورٹ آپریٹرز کی جانب سے اضافی کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی کی۔کئی مسافروں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھنٹوں بسوں کے انتظار میں گزارے، جبکہ ٹرمینل حکام کا کہنا تھا کہ انتخابات کی ڈیوٹی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کئی بسیں طلب کر لی ہیں جس سے ٹرانسپورٹ کی کمی پیدا ہو گئی ہے۔بنگلہ دیش پولیس کے انسپکٹر جنرل بہارال عالم نے کہا کہ ووٹنگ کے دوران اور اس کے بعد امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کو مسلح افواج اور نیم فوجی دستوں کی معاونت حاصل ہوگی۔