میر شوکت
چار مئی کی صبح کولکاتا پر ایک عجیب طرح کی نمی کے ساتھ اتری تھی۔ رات بھر کی ہلکی بارش کے بعد سڑکوں کے کنارے جمع پانی میں بجلی کے کھمبوں پر لگے جھنڈے الٹے سیدھے عکس بنا رہے تھے۔ پرانی عمارتوں کی دیواروں سے سیلن کی بُو اٹھ رہی تھی، ٹرام کی پٹریاں دھندلی روشنی میں چمک رہی تھیں اور چائے کے کھوکھوں پر رکھی دیگچیوں سے بھاپ کے ساتھ سیاسی تبصرے بھی اُبلنے لگے تھے۔ شہر ابھی پوری طرح جاگا نہیں تھا مگر الیکشن جاگ چکا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پورے بنگال پر ایک ہی رات میں جمہوریت کا میلہ بھی اتارا گیا ہو اور پولیس کا پہرہ بھی۔
پولنگ اسٹیشنوں کے باہر قطاریں خاموشی سے لمبی ہوتی جا رہی تھیں۔ لوگوں کے چہروں پر وہ اضطراب نمایاں تھا جو اب اس ملک میں ووٹ ڈالنے سے پہلے شناخت ثابت کرنے کے عمل سے جڑ چکا ہے۔ شناختی کارڈ بار بار جیبوں سے نکل رہے تھے، تصویریں چہروں سے ملائی جا رہی تھیں اور آدمی اپنے وجود کو ثابت کرنے کے لیے اس انہماک سے کاغذوں پر جھک رہے تھے جیسے زندگی اب گوشت پوست سے نہیں بلکہ lamination شدہ کارڈوں سے چلتی ہو۔ اس پورے منظر میں سب سے زیادہ کمزور چیز انسان دکھائی دے رہا تھا اور سب سے زیادہ طاقتور چیز سرکاری فہرست۔
پولنگ اسٹیشنوں کے اندر Election Commission of India کے اہلکار فہرستوں میں مصروف تھے۔ کاغذوں کی کھڑکھڑاہٹ، مہر لگنے کی آواز اور سرکاری لہجوں کی سرد مہری مل کر ایسا ماحول پیدا کر رہی تھی جس میں جذبات کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ متعدد ووٹر، جو برسوں سے اسی حلقے میں ووٹ ڈال رہے تھے، اس بار اپنے نام غائب پاتے تھے۔ ان کے چہروں پر پھیلی ہوئی حیرت محض انتخابی بے ضابطگی کی حیرت نہیں تھی بلکہ اس احساس کی تھی کہ آدمی اپنے ہی شہر میں اچانک اجنبی بنا دیا جائے۔ سرکاری وضاحتیں حسبِ معمول موجود تھیں،’’سسٹم اپڈیٹ‘‘،’’ریویژن‘‘،’’ڈیٹا mismatch‘‘۔ یہ وہ شائستہ اصطلاحات تھیں جن میں جدید ریاست اپنی بے حسی لپیٹ کر پیش کرتی ہے تاکہ ناانصافی بھی انتظامی مجبوری محسوس ہو۔باہر Central Reserve Police Force کے اہلکار تعینات تھے۔ بندوقوں کی دھات صبح کی نمی میں اور زیادہ سرد محسوس ہو رہی تھی۔ ان کی موجودگی بظاہر امن و امان کے لیے تھی مگر اس امن میں ایک انجانا سا خوف شامل تھا۔ ووٹر قطاروں میں آہستگی سے بڑھ رہے تھے، گفتگو دبی آواز میں ہو رہی تھی، اور پورے ماحول پر ایسی خاموش احتیاط طاری تھی جیسے لوگ کسی جشن میں نہیں بلکہ امتحان گاہ میں داخل ہونے جا رہے ہوں۔ یہ جمہوریت کا وہ روپ تھا جس میں عوام کی شرکت سے زیادہ ان کی نگرانی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
شہر کے مختلف حصوں میں All India Trinamool Congress اور Bharatiya Janata Party کے کارکن سرگرم تھے۔ دیواروں پر لگے پوسٹر نمی سے پھول گئے تھے، لاؤڈ اسپیکر وقفے وقفے سے نعرے دہرا رہے تھے اور ٹی وی چینلوں کے رپورٹر پس منظر میں ہجوم تلاش کرتے پھر رہے تھے تاکہ خبر زیادہ’’زندہ‘‘ محسوس ہو۔ دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر جمہوریت کا قتل کرنے کے الزامات لگا رہی تھیں، حالانکہ جمہوریت کی حالت دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ دونوں کے درمیان صلح کرواتے کرواتے خود نیم مردہ ہو چکی ہو۔ ٹی وی اسٹوڈیوز میں بیٹھے اینکر حضرات کی آوازوں میں غیر معمولی جوش تھا۔’’تاریخی جیت‘‘، ’’فیصلہ کن موڑ‘‘،’’سیاسی بھونچال‘‘ اور ’’جمہوریت کا تہوار‘‘ جیسے الفاظ اس فراوانی سے استعمال ہو رہے تھے کہ ایک لمحے کو محسوس ہوتا تھا جیسے پورا ملک کسی نیوز چینل کی اسکرپٹ رائٹنگ ورکشاپ میں تبدیل ہو گیا ہو۔دوپہر تک شہر کی سڑکوں پر گرمی اور بے چینی دونوں بڑھ چکی تھیں۔ چائے کے کھوکھوں پر سیاسی گفتگوؤں کا درجہ حرارت دیگچیوں سے زیادہ تھا۔ وہاں بیٹھے ہوئے لوگ اس پورے انتخابی عمل کو ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کوئی پرانا تماشا ہو جس کا انجام سب جانتے ہیں مگر پھر بھی ہر بار ٹکٹ خرید کر دیکھنے چلے آتے ہیں۔ یہی ہندوستانی سیاست کا سب سے بڑا کمال ہے، یہاں مایوسی بھی روایت بن جاتی ہے۔
نتائج آنے شروع ہوئے تو Bharatiya Janata Party کی کامیابی کی خبریں شہر میں تیزی سے پھیلنے لگیں۔ پٹاخوں کی آوازیں، مٹھائیوں کی خوشبو اور نعروں کا شور ایک دوسرے میں گھلنے لگا۔ دوسری طرف All India Trinamool Congress کے دفاتر کے باہر خاموشی پھیلتی جا رہی تھی۔ شکست اور جیت کے یہ مناظر ہندوستانی سیاست میں اب اتنے مانوس ہو چکے ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر پارٹی نے اپنے کارکنوں کو دو الگ الگ تقریریں پہلے سے لکھوا رکھی ہوں ۔ایک فتح کے لیے اور ایک دھاندلی کے الزام کے لیے۔اسی دوران کچھ علاقوں سے ہنگاموں اور جھڑپوں کی خبریں آنے لگیں۔ جلتے ہوئے ٹائروں کا دھواں شام کے آسمان میں آہستگی سے پھیل رہا تھا۔ دکانوں کے شٹر آدھے بند تھے، گلیوں میں بھاگتے ہوئے لوگوں کے قدموں میں خوف اور غصہ ایک ساتھ شامل تھا، اور ہر سیاسی جماعت خود کو مظلوم ثابت کرنے میں مصروف تھی۔ اس پورے منظر میں سب سے دلچسپ کردار ہمیشہ کی طرح ٹی وی چینلوں کا تھا، جن کے رپورٹر جلتی ہوئی موٹر سائیکلوں اور ٹوٹے ہوئے شیشوں کے سامنے کھڑے ہو کر ’’زمینی صورتحال‘‘ بیان کر رہے تھے۔ ان کی آوازوں میں ایسا جوش تھا جیسے فساد نہیں، کسی کرکٹ میچ کا آخری over چل رہا ہو۔ اس ملک میں المیہ جتنا بڑا ہو، نیوز روم کی روشنی اتنی ہی تیز ہو جاتی ہے۔پھر حلف برداری کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ بریگیڈ پریڈ گراؤنڈ کو اس شان سے سجایا گیا جیسے کوئی سلطنت دوبارہ آباد ہو رہی ہو۔ روشنیوں کی قطاریں، بڑے اسکرین، قافلے، حفاظتی حصار اور ہر طرف لہراتے ہوئے جھنڈے۔ اس پورے اہتمام میں غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور ووٹر لسٹ سے غائب نام کہیں دکھائی نہیں دیتے تھے۔ سیاست کا یہ قدیم ہنر ہے کہ وہ روشنیوں کی مدد سے حقیقت کے داغ وقتی طور پر چھپا دیتی ہے۔
Narendra Modi کی آمد کے ساتھ ہی ماحول میں عقیدت آمیز شور پھیل گیا۔ موبائل فون ایک ساتھ فضا میں بلند ہوئے، کیمرے تیزی سے حرکت میں آئے اور پھر وہ لمحہ آیا جب وزیر اعظم ایک بزرگ کے سامنے جھک کر پرنام کرنے لگے۔ اس ایک منظر نے پورے سیاسی ماحول کو چند لمحوں کے لیے جذباتی عقیدت میں تبدیل کر دیا۔ نیوز چینلوں کی آوازیں نرم پڑ گئیں، سوشل میڈیا پر احترام اور تہذیب کے قصیدے لکھے جانے لگےاور یوں محسوس ہونے لگا جیسے چند سیکنڈ کے اس جھکاؤ نے مہنگائی، بے روزگاری، ووٹ چوری کے الزامات اور جلتے ہوئے ٹائروں کے دھویں کو وقتی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا ہو۔ ہندوستانی سیاست میں جھکنے کا فن بھی عجیب ہے، یہاں بعض اوقات ایک کامیاب پرنام پورے منشور سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتا ہے۔
رات گئے جب تقریب ختم ہوئی، اسٹیج کی روشنیاں مدھم پڑنے لگیں اور شہر آہستہ آہستہ اپنی اصل تھکن میں واپس آنے لگا، تو سڑکوں پر پھر وہی عام آدمی باقی رہ گیا جس نے صبح قطار میں کھڑے ہو کر اپنا نام ڈھونڈا تھا۔ اخباروں کی سرخیاں بہت پُرجوش تھیں، ٹی وی چینل اب بھی’’تاریخی مینڈیٹ‘‘ دہرا رہے تھے، مگر شہر کے چہروں پر وہی پرانی تھکن تھی۔ شاید اس لیے کہ یہاں ہر الیکشن کے بعد حکومتیں ضرور بدلتی ہیں، مگر قطاریں، فہرستیں، دھواں، نعرے اور عوام کی بے یقینی ہمیشہ اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔