محمد بشارت
بدھل//سب ڈویژن بدھل میں سڑکوں کی خستہ حالی نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ بالخصوص بدھل سے راجنگر اپر گھبر تک تقریباً 8 کلو میٹر طویل سڑک انتہائی خراب حالت اختیار کر چکی ہے جس کے باعث مقامی آبادی کو روزمرہ نقل و حمل میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمہ پی ایم جی ایس وائے کی جانب سے سڑک کی مرمت کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے، جس سے لوگوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
مقامی معروف سماجی کارکن اور نائب سرپنچ ارشد حسین میر نے بتایا کہ سڑک کی حالت اس قدر ابتر ہو چکی ہے کہ پیدل چلنا بھی دشوار ہو گیا ہے جبکہ گاڑیوں کی آمد و رفت تقریباً ناممکن بن چکی ہے۔ ان کے مطابق سڑک پر جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے پڑ چکے ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف سفر مشکل ہو گیا ہے بلکہ گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ہفتے ڈرائیوروں کو لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ علاقے کے پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں نے روزگار کے حصول کے لیے بینکوں سے قرض لے کر آٹو اور دیگر گاڑیاں خریدی تھیں، مگر سڑک کی خستہ حالی کے باعث وہ نہ صرف روزگار سے محروم ہو گئے ہیں بلکہ قرض کے بوجھ تلے دب کر رہ گئے ہیں۔ اس صورتحال نے نوجوانوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ادھر ڈرائیوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت سڑک کے گڑھوں کو بھرنے کی کوشش بھی کی، مگر یہ اقدامات عارضی ثابت ہوئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ حکومت اور متعلقہ محکمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سڑکوں کی مناسب دیکھ بھال کو یقینی بنائیں، نہ کہ عوام کو خود یہ کام کرنا پڑے۔علاقہ مکینوں کے مطابق معمولی بارش کے بعد سڑک کے گڑھوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے جس سے سڑک جھیل کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔ پانی بھر جانے کے باعث گاڑیوں کی آمد و رفت مزید متاثر ہو جاتی ہے اور حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔مقامی آبادی نے ضلع انتظامیہ سے پْرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر محکمہ پی ایم جی ایس وائے کو متحرک کرے اور بدھل۔گھبر سڑک کی فوری مرمت کو یقینی بنایا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ یہ سڑک سہولت فراہم کرنے کے بجائے ان کے لیے عذاب بن چکی ہے، جس پر فوری توجہ نہ دی گئی تو مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔