مینڈھر//بالاکوٹ علاقہ میں حد متارکہ پر بسنے والے لوگوں نے سرکار سے اپیل کی ہے کہ سرحدی علاقہ میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہندو پاک افواج کے مابین گولہ باری کے دنوں میںا ن کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے در در کی ٹھو کریں کھا ناپڑتی ہیں ۔یوتھ لیڈر ظہیر خان ،گل صید خان،نمبردار فیض اکبر خان اور سابق سرپنچ عارف خان کا کہنا ہے کہ سرکار حد متارکہ کے قریب رہ رہی آبادی کی جانب کوئی دھیان نہیں دے رہی اور نہ ہی ان کے مسائل حل کئے جارہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ جہاں انہیں گولہ باری اور فائرنگ کے دوران نقصان سے دوچار ہوناپڑتاہے وہیں بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں اوران کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے لیکن اس وقت تک سرکار نے ان کی مدد کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ان کاکہناتھاکہ کئی بار لیڈران نے لوگوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ان کیلئے پختہ بنکر اورکالونیاں تعمیر کی جائیںگی جبکہ ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ نے بھی یہ وعدہ کیا تھا کہ بہت جلد بنکروں کی تعمیر کا کام شروع ہونے جارہاہے لیکن اس وقت تک تمام وعدے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں جبکہ لوگ لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرچکے ہیں۔انہوںنے کہا کہ علاقہ میں بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں اورسڑکوں کی حالت انتہائی خراب بنی ہوئی ہے جن پر گاڑیاں چلانا مشکل ہے اور لوگوں کو کئی کلو میٹر پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ پانی کی سپلائی کا یہ حال ہے کہ کئی کلو میٹر دور سے کاندھوں پر برتن بھرکر لانے پڑتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اسی طرح سے دیگر سہولیات بھی فراہم نہیں اور ایسے حالات میں جب ان کے سروں کے اوپر سے گولیاں برستی ہیں تو وہ سخت مصیبت میں پھنس جاتے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ مشکل یہ بھی ہے کہ تاربندی کے اندر رہنے والے لوگوں کو قید ی بنادیاجاتاہے اور فوج گیٹ ہی نہیں کھولتی ۔مقامی لوگوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ کسی وزیر کو اس علاقے کے تفصیلی دورے پر روانہ کرکے ان کے مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔