راجوری//باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں 2015اگست /ستمبر میں اسکالر شپ اسکینڈل سامنے آیاتھا جس پرطلباء نے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے جس پر ریاستی سرکار نے یونیورسٹی وائس چانسلر کے اختیارات واپس لے لئے اور یونیورسٹی کو کچھ دنوں کیلئے بند کرناپڑا۔ حالات کے پیش نظراس وقت کے رجسٹرار عبدالرشید چودھری کو تبدیل کردیاگیاجبکہ ان کے ایک ملازم مظفر احمد کو معطل کردینے کے احکامات صادر کئے گئے تھے ۔ ریاستی سرکار نے طلباء کی طرف سے کئے جانے والے احتجاج پر دو ہفتے کے اندر معاملہ حل کرنے کا یقین دلایاتھا تاہم دو سال گزر جانے کے بعد بھی اس حوالے سے کوئی تحقیقات منظر عام پر نہیں آئی ۔ یونیورسٹی طلباء اور اساتذہ کاکہناہے کہ پولیس اسکالر شپ سکینڈل کی تحقیقات نہیں کررہی ہے جس سے اس کی نیت پر سوالیہ لگتاہے ۔ان کاکہناتھاکہ اسکالر شپ سکینڈل میں ملوث افراد کے دستخط ایف ایس ایل لیب بھیج دئیے گئے تھے تاہم دو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کوئی جواب نہیں آیا ۔ٹیچر ایسوسی ایشن صدر اعجاز احمد میرکاکہناہے کہ پولیس پر انہیں یقین ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ وہ معاملے کو سلجھا نے میں جلداقدامات کرے گی اورطلباء کوانصاف دیاجائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر پولیس معاملے کی تحقیقات کو سامنے نہیں لائے گی تو یونیورسٹی اساتذہ وطلباء پھر سے احتجاج پر اترآئیںگے جس کی ذمہ داری موجودہ سرکار اور تحقیقاتی ایجنسیوں پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ اگر پولیس معاملہ سلجھانے میں کامیاب نہیں ہوتی ہے تو اسکالر شپ اسکینڈل کا معاملہ سی بی آئی کو سونپا جائے جس کی مانگ طلباء بھی کرتے رہے ہیں ۔ وہیں جب اس ضمن میں ایس ایس پی راجوری یوگل منہاس سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ معاملہ ابھی زیر تحقیقات ہے اورجونہی تحقیقات مکمل ہوئی تو ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔