جموں//اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشدنے موجودہ تعلیمی صورتحال اورطلباء کے مسائل پرتشویش کااظہارکیاہے۔یہاں جاری پریس بیان میں اے بی پی کے ریاستی سیکریٹری دیپک گپتا نے کہاہے کہ گذشتہ کچھ ہفتوں کے دوران طلباء کے مختلف مسائل سامنے آئے ہیں جن میں سی بی ایس سی پرچے اورجے کے بورڈ آف سکول ایجوکیشن کے گیارہویں جماعت کے پرچے کاافشا ہونا،ڈی سی کٹھوعہ کی جانب سے تعلیم کوتجارت بنانے سے روکنے کاحکمنامہ ، جموں یونیورسٹی کے طلباء کااحتجاج اورمظاہرہ اوراس پر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں اورحکومت کی عدم توجہی شامل ہیں۔دیپک گپتانے کہاکہ جموں کشمیربورڈا ٓف سکول ایجوکیشن کاگیارہویں جماعت کاپرچہ افشاہونابورڈکاانتظامی طورپرناکام رہنے کاثبوت ہے جس کاحکومت کوسنجیدہ نوٹس لیناچاہیئے کہ اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانی چاہیئے ۔انہوں نے کہاکہ سکولوں میں اضافی فیس کاوصول کرنااہم نوعیت کامعاملہ ہے جس پرروک لگائی جانی چاہیئے۔انہوں نے کہاکہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کٹھوعہ نے اپنے اختیارات کااستعمال کیااورفیسوں کیلئے ضوابط طے کرنے کی ہدایات دی ہیں جوکہ خوش آئند ہے۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے احکامات تمام اضلاع کے مجسٹریٹوں کوکرنے چاہیئیں۔انہوں نے کہاکہ جموں کشمیرملک کی ایسی ریاست ہے جہاں پرہمیشہ مسائل رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سرحدی علاقوں بشمول آرایس پورہ وغیرہ میں طلباء کوسرحدی گولہ باری کی وجہ سے مشکلات کاسامناہے ۔انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں اے بی وی پی نے ایس ڈی ایم آرایس پورہ کومیمورنڈم پیش کرکے بھی طلباء کے مسائل کامستقل ازالہ کرنے کامطالبہ کیاہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ طلباء کے مسائل کاازالہ کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ۔