راجوری//ضلع مجسٹریٹ راجوری نے ایگزیکٹو مجسٹریٹ تھنہ منڈی کا حکمنامہ معہ مہرسماجی روابط کی سائٹ پر وائرل ہونے پر تحقیقات کا حکم جاری کیاہے ۔یہ حکمنامہ دو نوجوانوں کی ضمانت سے متعلق تھا جنہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی پاداش میں عدالتی تحویل میں دیاگیاتھا۔سرکاری ذرائع نے بتایاکہ ایگزیکٹو مجسٹریٹ درجہ اول تھنہ منڈی کی عدالت سے انہی کی مہر والا ایک آرڈر زیر نمبر JC/350/17بتاریخ 27اکتوبر2017سماجی روابط کی ویب سائٹ پر وائرل ہوگیا جو راجوری قصبہ کے دو نوجوانوںکی رہائی سے متعلق ہے جنہیں غیر قانونی سرگرمیوں کی پاداش میں عدالت تحویل میں رکھاگیاتھا۔ ذرائع نے بتایاکہ دونوں نوجوانوں کی رہائی کے بارے میں ضلع جیل ڈھانگری کے سپرینڈنٹ سے جواب طلب کیاگیاہے ۔اس پر مقامی لوگوں نے حکام کو تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔ ایک مقامی شخص نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ایک طرف پولیس غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کے دعوے کررہی ہے اور دوسری طرف تحصیلدار تھنہ منڈی نے ان کی رہائی کا حکم دیاہے جو بدقسمتی کی بات ہے ۔ اس کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ راجوری نے تحقیقات کرنے کا حکم جاری کیاہے ۔ذرائع کے مطابق یہ آرڈر وٹس ایپ پر حاصل کیاگیا جس کا معائنہ کیاگیا اور اس معاملے پر تحصیلدار تھنہ منڈی سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے جنہوںنے اس طرح کا کوئی بھی حکمنامہ جاری کرنے سے انکار کردیاہے ۔ذرائع نے بتایاکہ تحصیلدار تھنہ منڈی سے کہاگیاہے کہ وہ نائب تحصیلدار سے بھی اس بارے میں دریافت کریں اور ریکارڈ کی جانچ کرکے رپورٹ پیش کریں ۔ذرائع کاکہناہے کہ ضلع مجسٹریٹ سطح پر اس معاملے کا معائنہ کیاجارہاہے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حالیہ عرصہ میں پولیس نے اٹھائیس افراد کو حراست میں لیا ہے جن میںسے کچھ کو ضلع جیل ڈھانگری منتقل کیاگیاہے۔