نوشہرہ //نوشہرہ کے راجیور بھاٹ گائوں میں نالے پر پل تعمیر نہ کئے جانے کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے ۔ یاد رہے کہ یہ وہی نالہ ہے جہاں تین سال قبل آئے طوفانی سیلاب کے دوران ایک خطرناک حادثے میں گاڑی بہہ گئی جس کے نتیجہ میں دولہے سمیت چھیاسٹھ باراتیوں کی موت ہوگئی تھی جن میںسے کچھ کی نعشیں آج تک برآمد نہیں ہوئی ہیں ۔ گائوں کے سابق سرپنچ راجندر سنگھ ،پرمجیت سنگھ ، میاں خان وغیرہ کاکہناہے کہ 4ستمبر 2014کو بارات سے بھری ایک گاڑی پانی کے تیز بہائو میں بہہ گئی جس کی وجہ سے چھیاسٹھ باراتیوں کی موت ہوئی اور بس میں سوار کوئی ایک شخص بھی زندہ نہ بچا۔ انہوںنے کہاکہ برسات کے موسم میں یہ نالہ خونی دریا ثابت ہوتاہے لیکن بدقسمتی سے حکام کی طرف سے اس پر پل تعمیر نہیں کیاجارہا۔ انہوںنے کہاکہ حکومت کی طرف سے اس پل کو منظوری نہیں دی جارہی جس سے مزید ہلاکتوں کاخدشہ ہے ۔ انہوںنے حکومت پر الزام لگایاکہ وہ دور دراز علاقوں کی ترقی کیلئے سنجیدہ نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ ندی نالوں میں ڈوب ڈوب کر مررہے ہیں اور سرکار کو کوئی پرواہ ہی نہیں ۔ انہوںنے وزیر برائے تعمیرات عامہ سے اپیل کی کہ وہ اس نالے پر پل تعمیر کرکے انسانی جانوں کو تحفظ دیں۔