یواین آئی
واشنگٹن// امریکہ کے محکمہ انصاف کے اندرونی نگراں ادارے آفس آف انسپیکٹر جنرل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گا کہ آیا حکومت نے مجرم جنسی ملزم جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلز کے اجراء کے قانون پر مکمل عمل درآمد کیا یا نہیں۔ادارے کے مطابق تحقیقات کا محور ایپسٹین فائلز ٹرانسپرینسی ایکٹ ہوگا، جو نومبر میں منظور کیا گیا تھا اور جس کے تحت محکمہ انصاف کو ایپسٹین سے متعلق تمام غیر خفیہ ریکارڈ جاری کرنا لازم تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مقصد یہ جانچنا ہے کہ محکمہ انصاف نے ریکارڈ کی نشاندہی، ترمیم (ریڈیکشن) اور اجراء کے عمل کو کس حد تک قانون کے مطابق انجام دیا۔قانون کے تحت تمام ریکارڈ کو آسانی سے ڈاؤن لوڈ اور تلاش کے قابل بنانا ضروری تھا، جبکہ ترمیم صرف متاثرین اور حساس معلومات کے تحفظ تک محدود رکھی جانی چاہیے تھی اور اس کے لیے 30 دن کی مدت مقرر کی گئی تھی۔ قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی ریکارڈ کو شرمندگی، ساکھ کو نقصان یا سیاسی حساسیت کی بنیاد پر نہ روکا جائے گا۔ تاہم ناقدین نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے قانون پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا۔ٹرمپ دور میں محکمہ انصاف نے کئی مراحل میں فائلز جاری کیں، جن میں سب سے بڑی اشاعت 30 جنوری کو 35 لاکھ صفحات پر مشتمل ریکارڈ کی تھی، جو مقررہ 30 روزہ مدت سے کافی تاخیر سے سامنے آئی۔ ارکانِ کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا کہ طاقت ور شخصیات کی شناخت چھپانے کے لیے فائلز میں ضرورت سے زیادہ ترمیم کی گئی، جبکہ متاثرین نے شکایت کی کہ ان کی ذاتی معلومات بھی ظاہر کر دی گئیں۔واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین 2019ء میں وفاقی الزامات کا سامنا کرتے ہوئے دورانِ حراست جیل میں مردہ پایا گیا تھا اور اس پر کئی سالوں پر محیط عالمی سطح کے جنسی استحصال کے نیٹ ورک کو چلانے کا الزام تھا۔ اس کے تعلقات بااثر شخصیات سے تھے، جن میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور برطانیہ کے سابق شہزادے پرنس اینڈریو بھی شامل تھے۔ ٹرمپ 2025ء میں دوسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں، ان کو بھی ایپسٹین سے ذاتی تعلقات کے باعث تنقید کا سامنا ہے۔ٹرمپ کی انتظامیہ کے بیانات میں تضاد بھی سامنے آیا ہے، جب سابق اٹارنی جنرل پام بوندی نے ایک موقع پر ایپسٹین کلائنٹ لسٹ کی موجودگی کا دعویٰ کیا، مگر بعد میں اس کی تردید کر دی۔ ادھر عوامی دباؤ کے بعد ٹرمپ نے بالآخر اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے اسے نافذ کیا، تاہم سرویز کے مطابق عوام کی بڑی تعداد ان کے اقدامات سے مطمئن نہیں۔