اینٹی بائیوٹک ادویات کووِڈ- 19مریضوں کیلئے ضررساں

سرینگر//ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ بہت سے کووڈ مریضوں کو غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس دی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہسپتال ایسے مریضوں کیلئے نئی بیماریوں کا موب بنتا ہیں جو کسی وقت جان لیوا بھی ثابت ہورہی ہیں۔ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کووڈ مریضوں کودی جانے والی ادویات کیلئے ایک پروٹوکول ہونا چاہئے کیوں کہ کووڈ ایک وائرس ہے، جو اینٹی بائیٹکس سے نہیں مرتا اس کیلئے مرحلہ وار طریقے سے مریضوں کو ادویات دی جاتی ہے ۔ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ کووڈ –  19ایک وائرل انفیکشن ہے جو صرف اینٹی بائیوٹکس ادویات لینے سے ختم نہیں ہوتا ، بلکہ کووڈ مریضوں کو غیر ضروری ادیات دینے سے انہیں دیگر پریشانیاں پیش آتی ہیں جیسے کہ اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں جو بلیک فنگس اور وہائٹ فنگس کی صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔ ڈاکٹر نثارالحسن کا کہنا ہے کہ اینٹی بائیوٹکس وائرس کے خلاف کام نہیں کرتی ہے جبکہ ماہرین اس بات کو دہرارہے ہے کہ کووڈ مریضوں کو غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس نہ دی جائیں ۔انہوںنے کہا کہ 80فیصدی بیکٹریا مزاحمت کار ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ اینٹی بائیٹک یعنی انفیکشن مخالف کی جو آخری دوائی دی جاتی ہے، اس سے بھی مقابلہ کرتے ہیں اور مریضوں میں زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن مریضوں کو ان ادویات سے دیگر مسائل پیدا ہورہے ہیں ۔ ڈاکٹر نثارالحسن کا مزید کہنا ہے کہ غیر ضروری ادویات نہ صرف بیکٹریاں میں قوت مزاحمت پیدا کرتی ہے بلکہ مریضوں کو غیر ضروری اینٹی بائیوٹکس سے سنگین خطرات پیدا ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی بائیوٹکس کوویڈ مریضوں کو کلورسٹریڈیم ڈفیسائل جیسے موقع پرست انفیکشن کے خطرے میں ڈال رہے ہیں جو ان کی صحتیابی کو خراب کرسکتے ہیں۔ وہ کووڈ مریضوں میں کئی مہلک انفیکشن کے بھی ذمہ دار ہیں جنہوں نے ملک کی متعدد ریاستوں میں وبائی صورت اختیار کی ہے۔ ڈاکٹر نثارالحسن نے متعلقہ اداروں اور سرکار پر زور دیا ہے کہ کووڈ مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے ایک پروٹوکو ل مرتب کریں تاکہ مریضوں کو غیر ضروری ادویات دینے سے بچاجاسکے اور ہر ہسپتال میں کووڈ کا علاج یکساں ہو۔