سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے کہا ہے کہ قدرتی آفات کے متاثرین کو اس وقت اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ (ایس ڈی آر ایف) کے تحت دیا جانے والا معاوضہ انتہائی ناکافی ہے اور موجودہ حالات میں اس سے متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا ازالہ ممکن نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سنیل شرما پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف بیانات دینے کے بجائے مرکزی وزارت داخلہ سے ایس ڈی آر ایف کے معاوضے کے قواعد میں ترمیم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
راجوری میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے اعتراف کیا کہ موجودہ ایس ڈی آر ایف ضوابط کے تحت املاک کے نقصان پر دیا جانے والا معاوضہ نہ ہونے کے برابر ہے۔انہوں نے کہاکہ ’میں مکمل طور پر تسلیم کرتا ہوں کہ موجودہ ایس ڈی آر ایف ضوابط کے تحت دیا جانے والا معاوضہ انتہائی کم ہے۔ اس رقم سے تو ریت سے بھرا ایک ٹرک بھی نہیں خریدا جا سکتا، جبکہ لوگوں کے مکانات، دکانیں اور دیگر املاک مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں‘۔سریندر چودھری نے واضح کیا کہ ایس ڈی آر ایف کے معاوضے کی شرح میں اضافہ یا قواعد میں ترمیم کا اختیار جموں و کشمیر حکومت کے پاس نہیں بلکہ یہ معاملہ مرکزی وزارت داخلہ کے دائر اختیار میں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سنیل شرما کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھیں اور متاثرین کے مفاد میں مرکزی وزارت داخلہ کو ایس ڈی آر ایف کے قواعد میں ضروری تبدیلی کے لیے آمادہ کریں، تاکہ قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے لوگوں کو ان کے نقصانات کے مطابق مناسب معاوضہ مل سکے۔نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ سنیل شرما کو صرف سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرکے حکومت پر تنقید کرنے یا بیانات جاری کرنے کے بجائے عوام کے مفاد میں عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت متاثرین کی بحالی اور امداد کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، تاہم مستقل اور مؤثر ریلیف کے لیے ایس ڈی آر ایف معاوضہ پالیسی میں ترمیم ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے خاندانوں کو بہتر مالی امداد فراہم کی جا سکے۔