اگر 370 کھوکھلا تھاتوسپریم کورٹ سے رجوع کیوں کیا ؟ | 70سال تک دھوکہ دیاگیا دفن ہوئے قانون کے نام پر ایکبار پھر عوامی جذبات بھڑکائے جارہے ہیں:ترون چگ

عظمیٰ نیوز سروس

جموں //بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور انچارج جموں و کشمیر ترون چْگ نے این سی کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے آرٹیکل 370 پر دیئے گئے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر قانون پہلے ہی کھوکھلا تھا تو این سی اور پی اے جی ڈی کے دیگرحامیوں نے سپریم کورٹ سے کیوں رجوع کیا‘‘۔ چگ نے کہا کہ کیوں این سی اور دیگر علاقائی پارٹیوں نے آرٹیکل 370 کی بحالی کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے کہا کہ این سی، اس کی قیادت اور گپکار گینگ نے برسوں تک جموں و کشمیر کے لوگوں کو آرٹیکل 370 پر دھوکہ دیا اور آج جب قانون کہیں نہیں ہے یہ سیاسی جماعتیں ایک بار پھر لوگوں کے جذبات کو بھڑکا رہی ہیں۔چگ نے کہا کہ ایس ٹی، ایس سی، او بی سی اور دیگر پسماندہ طبقات کو ان سیاسی گروہوں نے آرٹیکل 370 کے وجود سے ان کے حقوق سے محروم کر دیا تھا، اور اس کی منسوخی کے ساتھ ہی تمام برادریوں کے لوگوں کو ان کے حقوق دئیے گئے ہیں۔این سی کے نائب صدر پر تنقید کرتے ہوئے چْگ نے کہا کہ کل تک سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ انتخابات میں حصہ لینے سے ہچکچا رہے تھے لیکن زمینی طور پر اپنی شکست کو محسوس کرنے کے بعد انہوں نے ایک بار پھر دفعہ 370 پر بیان دینا شروع کر دیا ہے اور لوگوں کے جذبات کا استحصال کرنا شروع کر دیا ہے۔