وزیراعلیٰ کانیشنل گورننس کانفرنس سے خطاب،نچلی سطح سے ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات کی وکالت
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ’ وکست بھارت‘ کے ویژن کو صرف ملک کے ہر صوبے اور علاقے میں جامع اور مساوی ترقی کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ اگر ترقی چند مخصوص علاقوں تک محدود رہی تو قومی خواب ادھورا رہ جائے گا۔وزیر اعلیٰ’اضلاع کی مجموعی ترقی: وِکست بھارت کے لئے تبدیلی گورننس‘کے موضوع پر منعقدہ روزہ قومی گورننس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس کا اہتمام مرکزی وزارت ِعملہ عوامی شکایات اور پنشن کے تحت اِنتظامی اِصلاحات اور عوامی شکایات محکمہ نے حکومت جموں و کشمیر کے اِشتراک سے کیا تھا۔وزیراعلیٰ نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا، ’’سچ یہ ہے کہ’ وکست بھارت‘ یا ترقی یافتہ ہندوستان تب ہی حقیقت بنے گا جب پورا ہندوستان ترقی کرے گا۔ اگر ترقی چند ریاستوں یا علاقوں تک محدود رہی تو ترقی یافتہ ہندوستان کا خواب پورا نہیں ہوگا۔‘‘اُنہوں نے متوازن ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شمال میں جموں و کشمیر سے لے کر مشرق میں آسام، مغرب میں گجرات اور جنوب میں تامل ناڈو اور کیرالہ تک ہر خطے میں نمایاں پیش رفت ہونی چاہیے۔ اُنہوں نے خبردار کیا کہ جب تک ہم سب اس ترقی کو محسوس نہیں کریں گے، وِکست بھارت ایک خواب اور محض نعرہ ہی رہے گا۔‘‘وزیراعلیٰ نے قومی تبدیلی کے راستے کو اُجاگر کرتے ہوئے نچلی سطح سے بالائی سطح تک کے حکمرانی کے ماڈل کی وکالت کی۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ ترقی کی بنیاد ضلعی سطح پر اچھی حکمرانی ہونی چاہیے۔اُنہوں نے اُمید ظاہر کی،’’ اگر ہمارے اضلاع کارکردگی دکھائیں گے تو ہماری ریاستیں
اور یوٹیز کارکردگی دکھائیں گے اور جب ریاستیں کارکردگی دکھائیں گی تو ملک ترقی کرے گا۔ تب 2047تک’ وِکست بھارت‘ کا ہدف مقررہ مدت سے پہلے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسی کانفرنسیں پالیسی سازوں اور منتظمین کو کامیاب ماڈلز اور اختراعات کے تبادلے کے ذریعے غیر ضروری تکرار سے بچنے میں مدد دیتی ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ماضی میں معلومات کا تبادلہ حوصلہ افزائی کے بجائے حوصلہ شکنی کا شکار رہا، تاہم حالیہ برسوں میں باہمی تعاون اور جامع حکمرانی کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے۔تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ حکمرانی کے مسائل کا کوئی یکساں حل نہیں ہوتا۔ اُنہوں نے کہا،’’کوئی فوری حل موجود نہیں۔ جو ایک ریاست میں کام کرے وہ دوسری میں ضروری نہیں کہ کارآمد ہو۔ لیکن ہم کامیاب طریقوں کو اپنی مقامی ضروریات کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔‘‘وزیرا علیٰ ،جو اِس موقعہ پر مہمان خصوصی تھے ،نے حکمرانی میں ٹیکنالوجی کے اِنقلابی کردار کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی۔اُنہوں نے آفس نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’کاغذی فائلیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔ اب میں شاذ و نادر ہی کوئی کاغذی فائل دیکھتا ہوں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ ڈیجیٹائزیشن سے کارکردگی اور جوابدہی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس سے شفافیت بھی بڑھی ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ہر فائل پر وقت درج ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی نے زندگی آسان بنائی ہے مگر مزید شفاف اور جوابدہ بھی۔‘‘اُنہوں نے ورچوئل میٹنگوں کے استعمال کو بھی سراہا جس سے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ کاری بہتر ہوئی ہے۔ اُنہوں نے مشورہ دیا کہ ان سہولیات کا منظم استعمال کیا جائے تاکہ فیلڈ ورک متاثر نہ ہو۔اُنہوں نے عملی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں پر مبنی اقدامات حقیقی معنوں میں نافذ ہونے چاہئیں،اُنہوں نے کہا،’’اگر سنگل ونڈو سسٹم ہے تو وہ واقعی سنگل ونڈو ہونا چاہیے، نہ کہ ایک وِنڈوکے بعد دوسری وِنڈواور پھر اس کے پیچھے ایک دیوارآجاتی ہے ۔حکمرانی کو اس طرح نہیں دیکھنا چاہیے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ ایسی کانفرنسیں نہ صرف بہترین طریقوں کے تبادلے بلکہ باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی بنتی ہیں۔اُنہوں نے جموں کو مقام کے طور پر منتخب کرنے پر مرکزی وزیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مستقبل میں سری نگر میں کانفرنسیں منعقد کرنے کی دعوت دی۔ اُنہوں نے کہا،’’مجھے امید ہے کہ شاید اگلے سال ہم آپ کو سری نگر آنے اور اس عمل کو جاری رکھنے کے لئے آمادہ کریں۔‘‘
Package
CM Omar Abdullah meets delegations, individuals at Raabita Jammu_ developmental and other issues raised-3-1
وزیر اعلیٰ کی رابطہ جموں میں وفود اور افراد سے ملاقاتیں
جائز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی
عظمیٰ نیوزسروس
جموں //کئی وفود اور افراد نے جموں میں پبلک آؤٹ ریچ آفس رابطہ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی اور انہیں عوامی ، ترقیاتی اور شعبہ جاتی مسائل سے آگاہ کیا ۔ سابق وزیر رمن بھلہ نے سول سوسائٹی کے ایک وفد کے ہمراہ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور فلاح و بہبودسے متعلق مختلف خدشات اجاگر کئے ۔ وفد نے زیر التوا مسائل کے حل اور منصفانہ ترقی کو یقینی بنانے کیلئے مسلسل پالیسی توجہ کا مطالبہ کیا ۔ سابق وزیر جگجیون لال نے بھی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور اپنے علاقے کے ساتھ ساتھ وسیع تر خطے سے متعلق عوامی اہمیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ آئی جی گورنمنٹ ڈینٹل کالج جموں کے پرنسپل ڈاکٹر پروین اختر لون کی سربراہی میں ایک وفد نے وزیر اعلیٰ کو آنے والے قومی سطح کے تعلیمی ایونٹ کی اہمیت اور خطے میں ڈینٹل ایجوکیشن اور ریسرچ کو آگے بڑھانے میں اس کی اہمیت سے آگاہ کیا ۔ سی آئی آئی جموں و کشمیر کے چئیر مین ڈاکٹر ایم اے عالم کی سربراہی میں ایک وفد نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور معاشی بحالی ، سرمایہ کاری کی ترویج اور روز گار کے پیداوار میں صنعت کے کردار پر تبادلہ خیال کیا ، جبکہ صنعتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرنے کیلئے حکومت کی مسلسل حمایت کا مطالبہ کیا ۔ سابق کابینہ وزیر جگل کشور شرما نے کٹڑا سے ایک وفد کے ہمراہ وزیر اعلیٰ کو اپنے علاقے سے متعلق عوامی اہمیت کے امور سے آگاہ کیا ۔ کھلاڑیوں کا ایک وفد ، جو ایس او 12 ( آؤٹ اسٹینڈنگ سپورٹس پرسنز ) کے تحت منتخب کئے گئے تھے ، نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور اپنی کامیابیوں کو تسلیم کرنے اور سرکاری ملازمت میں مواقع فراہم کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے ان کی کامیابیوں پر مبارکباد دی اور انہیں اپنے اپنے شعبوں میں برتری حاصل کرنے کی ترغیب دی ۔ جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ارون گپتا نے اراکین کے ہمراہ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور تجارت ، صنعت اور معمول کے کاروباری امور سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔ وفد نے طریقہ کار کی رکاوٹوں کو دور کرنے اور جموں میں تجارتی ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے اقدامات کا مطالبہ کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے وفود اور افراد کی بات غور سے سُنی اور یقین دلایا کہ ان کے جائیز مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی نمائندوں ، پیشہ وارانہ تنظیموں ، صنعت کے رہنماؤں اور شہریوں کیلئے قابل رسائی اور جوبدہ ہے اور جموں و کشمیر کے وسیع تر مفاد میں پالیسی فیصلوں کی رہنمائی کیلئے تعمیری مکالمہ جاری رہے گا ۔