پونچھ//پونچھ راولاکوٹ راہ ملن بس سروس تیسرے ہفتہ بھی حدِ متارکہ کے آر پار نہ ہو سکی ۔اس دوران ایک بار پھر پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے راولاکوٹ کے وہ مسافر جو یہاں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کو آئے ہیں، واپس وطن نہیں لوٹ پائے۔ واضح رہے کہ حد متارکہ پر ہندوپاک افواج کے درمیان پائی جارہی کشیدگی کے باعث پچھلے دو ہفتے بھی راہ ملن بس سروس آر پار نہیں ہوپائی ۔اس دوران مسافروں اور ان کے رشتہ داروں کی جانب سے سپورٹس سٹیڈیم کے باہر پونچھ جموں اور پونچھ منڈی سڑک پر مختلف قسم کی رکاوٹیں کھڑی کر کے گاڑیوں کی آمدو رفت بند کر کے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظاہرین نے اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے بازی کی اورہندوپاک حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ پونچھ راولاکوٹ راہ ملن بس سروس کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ان لوگوں کا کہنا تھاکہ برسوں کے بعد انہوں نے اپنے بچھڑے رشتہ داروں کو دیکھا اور ان سے ملاقات کرکے سکون پایا لیکن اب اس سروس کو جان بوجھ کر متاثر کئے جا نے کی کوششیںکی جارہی ہیں۔مظاہرین نے تجارت کو بھی بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ ایک گھنٹے تک جاری رہا جس ے بعد وہاں موجود پولیس اور ضلع انتظامیہ کے افسران نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ بس سروس جلد بحال ہو گی اور ان لوگوں کو اپنے وطن واپس بھیجا جائے گا۔افسران کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کیا۔