آر ایس ایس کی حشیش!

حالیہ انتخابی نتائج حیرت انگیز ہی نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے لئے اچھنبے کی بات ہیں۔ان انتخابات میں بی جے پی نے تین شمال مشرقی ریاستوں میں بڑی آسانی کے ساتھ اپنے زعفرانی جھنڈے گاڑدئے ہیں اور ان ر یاستوں میں سب سے بڑی کامیابی جو بی جے پی کو ملی ہے وہ سرحدی صوبہ تریپورہ ہے ۔انتخابی نتائج کی حیرت انگیزی اس بات میں بھی مضمر ہے کہ ۲۵ برسوں سے وزارت اعلیٰ کی کرسی پر فائز کمیونسٹ لیڈر مانک سرکاراقتدارکھو بیٹھے ہیں ، اس کے باوجود کہ وہ اپنی ذاتی زندگی میں ایک ماڈل قرار دئے جاتے رہے ہیں۔ان کی ایمانداری کاحال یہ تھاکہ آخر تک ر کشے میں بیٹھ کر اپنے دفتر آتے جاتے تھے ، ذاتی استعمال کے لئے کبھی سرکاری گاڑی استعمال نہیں کی اور کم و بیش بیس برس تک وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر رہنے کے باوجود اپنے بنک اکاؤنٹ میں پچیس سو روپیہ سے بھی کم رقم رکھتے تھے ۔یہی ان کی جمع شدہ پونجی تھی ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیا کچھ ہوا کہ اس پایہ کانیتا بھی بی جے پی کی لہروں میں تنکے کی طرح بہہ گیا اور متعدد مضبوط و  منظم سیاسی پارٹیاں ریت کے ٹیلے ثابت ہو ئیں کہ بی جے پی کی سونامی کو روک پائیں نہ ا س کی آندھی میں اپنی چار دیواریوں کو ہی محفوظ رکھ پا ئیں، باوجود یکہ گزشتہ برسوں میں بھاجپاکوئی تیر مارسکی ہے نہ اپنے وعدے کے مطابق کوئی اچھے دن لاسکی ہے؟ بھاجپاسپنوں کے جو خیالی محلات دکھائے تھے وہ سب سراب اور فریب نظر ثابت ہوئے ہیں ، ترقی کی رفتار رک گئی ہے بلکہ کئی درجہ نیچے آچکی ہے ، باہر سے کوئی کالا دھن بی جے پی تو نہیں لاسکی لیکن اپنے بنکوں کے اثاثے اور ہزاروں کروڑ روپے باہر بھجوانے میں کامیاب ہوئی ۔ مالی گھوٹالوں کی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کانگریس کے سٹھ برس کے دوران جتنے سیکنڈل ہوئے، سو سنا ر کی ایک لوہار کے مصداق مودی سر کار کی ناک کے نیچے اس سے زیادہ رقومات صرف تین برسوں کے دوران بھارت سے بدیس منتقل ہو چکی ہیں ۔ سٹھ برس کے دوران گاندھی خاندان میں چار گاندھی پیدا ہوئے جن میں تین کا قتل ہوا لیکن بی جے پی کے تین برس کے دو ر ان کئی ایسے مودی پیدا ہوئے جو بڑے بڑے بنکوں کو ہزاروں کروڑکا چونا لگانے اورپھر ملک سے فرار ہونے میں کامیاب بھی رہے ۔ غریب کسان محض چند لاکھ یا اس بھی کم رقم ادا نہ کرنے کی وجہ سے بے دریغ خود کشیاں کر رہے ہیں اور بڑے بڑے بنک عوام کا پیسہ بڑی بے تکلفی کے ساتھ ’’مودیوں ‘‘پر لٹا رہے ہیں۔ طرہ یہ کہ کہیں سے نہ تو اس لوٹ کھسوٹ کے خلاف احتجاج ہورہا ہے اور نہ کوئی بڑی خبر بنتی ہے ۔ ان بڑے بڑے سیکنڈلوں کو اخبارات کے کونوں میں ہی جگہ ملی اور الیکٹرانک میڈیا کو تو پی ایم مودی کی  ہر بات میں اور ہر حرکت میں اوتاروں جیسی پر چھائیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں، جنہیں وہ بنا کسی ناغہ کے عوام تک دن رات پہنچاتے ہیں ۔ عوام بنیادی حقائق سے سے نابلد ہیں ۔ انہیں اندھیروں میں رکھا جارہا ہے یا اب عوام کی دلچسپیوں کے میدان ہی بدل چکے ہیں ۔ نوٹ بندی فلاپ پروگرام رہا ، اس لحاظ سے بھی کہ کہیں سے کوئی کالا دھن بر آمد نہیں ہوا جس کا شدومد سے دعویٰ کیا گیا تھا ۔ یہ ایک بہت بڑا دعویٰ یہ بھی کیا گیا تھا کہ معتد بہ کالا دھن کشمیر میں ہے جو حوالہ کے ذریعے پاکستان سے آیا ہے ،بلکہ نریندر مودی جی نے اپنی تقریروں میں اسی کالے دھن کو ملی ٹینسی کا جنم داتا تک کہا ۔ ستم ظریفی یہ کہ بھارت میں نوٹ بدلنے کی تگ و دَو میں سینکڑوں مفلس لوگ مر کھپ گئے لیکن کشمیر میں کہیں بھی کوئی اس طرح کی نہ تو پریشانی ہوئی اور نہ کسی کے پاس سے کوئی کالادھن بر آمد ہوا ۔ مودی سرکا ر نے کئی اشیائے خوردنی سے سبسڈی بیک جنبش قلم ختم کردی ہے ،جی ایس ٹی بڑی جلد بازی میں کوئی گراؤنڈ ورک کئے بغیر ہی لاگو کیا گیا ،اس سے ملکی معیشت دگر گوں ہوگئی اور ابھی تک لگ بھگ سکتے کے عالم میں ہے ،کسانوں کی زندگی بد سے بد تر ہوتی جارہی ہے، عدلیہ سے انصاف اُٹھ رہا ہے ،ہندتو کی صفوں میںایک نئی سوچ یہ پروان چڑھ رہی ہے کہ اب دیس میں بی جے پی کے بغیر اور کوئی دیش بھگت ہے ہی نہیں، فرقہ پرستوں کے بغیر تمام مکاتب ِ فکرکے لئے زمین دھیرے دھیرے تنگ کی جارہی ہے ۔ مسلم اقلیت کو تو واضح طور یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ اب ’’مسلم مکت بھارت ‘‘  ناگزیر ہے۔ ہندو راشٹر کے خدوخال صاف معرض وجود میں لائے نظر آرہے ہیں ، اب بس ان میں تھوڑا رنگ بھرنے کا کام باقی رہاہے ۔ایسے میں ہندومسلم سکھ دلت عیسائی سب لوگوں کے مصائب اور مشکلات کی اب کوئی حد ہی نہیں۔ یہ خیال سارے بھارت پر حاوی ہورہا ہے کہ یہ ملک چند سر مایہ داروں کی ذاتی جاگیر ہے جس کی حفاظت کے لئے سرکار وچن بند ہے ۔ ابھی حال ہی میں ایک بین الاقوامی تنظیم آکس فیم نے یہ دلچسپ مگر حیران کن اعداد و شمار ظاہر کئے ہیں کہ پچھلے برس ملک کی کل آمدنی کا ستر فیصد ایک پرسنٹ امیر لوگوں کی تجوریوں میں جمع ہوچکا ہے اور باقی تیس فیصد ستر فیصد آبادی کے حصے میں آیا ہے ۔ اس سے صاف ہوتا ہے کہ مودی سرکار محض اپنے اُن سرمایہ داروں کے لئے دل کھول کر کام کر رہی ہے جنہوں نے اس سرکار کو بر سر اقتدار لانے کے لئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دئے تھے ۔ بہر کیف ہر تحریک کے لئے ذہن سازی اور نظریاتی ہم نوائی ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔اس سلسلے میں آر ایس ایس اپنی زہر ناک کا وشیں مربوط اور منظم طریقے پر جاری رکھی ہوئی ہے ۔اس نے بنیادی سطح پر پچھلے ستر برس کے دوران زبردست منظم ذہن سازی کی ہے ۔اس ’’کارخیر‘‘ میں اس کا ساتھ کانگریس نے وقتی سیاسی تجارت اور منافع کے خیال سے کھلے دل و دماغ سے دیا ۔ سنگھ پریوار نے یہ ذہن سازی سکولی نصاب کی کتابوں کے ذریعے ہی ممکن بنائی ۔ اس بارے میں عقل حیران رہ جاتی ہے کہ آر ایس ایس نے کیونکر کانگریس کی چھتر چھایا میں اس قسم کی ٹیکسٹ بکس دانش گاہوں میں رائج کروائیں جس کے نتائج بہر حال یہی ہونے تھے جو آج ہم اور آپ کھلی آنکھ سے کشمیر تاکنیا کماری دیکھ رہے ہیں۔ فی ا لحال آپ چند مثالوں کو ہی دیکھئے کہ کس طرح سے وِش کنیائیں اور وِش کنیا دور و نزدیک پیدا کی گئی ہیں جو آج کے نئے بھارت میں غالب عنصر ہیں ۔سنٹرل بورڈ کی چھٹی کلاس کی صحت و صفائی کی کتاب میں ہے ’’گوشت خور انسان جھوٹے اور متشدد ہوتے ہیں ،وہ سب جرائم یعنی چوری اور جنسی جرائم میں ملوث ہوتے ہیں ‘‘گجرات پرائمری سکول کی سوشل سائنس میں درج ہے ’’پڑوسی ممالک کو کسی بھی قیمت پرہندوستان سے الگ نہیں ماننا چاہئے، وہ اکھنڈ بھارت کا حصہ ہیں ‘‘اسی صوبہ کی درجہ آٹھویں کی ہسٹری بک میں ہے ’’۱۹۴۷ میں تقسیم کے بعد ایک ملک اسلام آباد کے نام سے و جود میں آیا ،جس کا دارلحکومت ہندو کش پہاڑوں میں (خیبر گھاٹ )ہے ‘‘راجستھان اور مہاراشٹرمیں مغلوں کے بارے میں یہی پڑھایا جارہا ہے کہ وہ ’’درندے ، خونخوار، عیاش اور بد معاش تھے ‘‘۔ یہ کھلے عام نچلی سطح پر نصابی کتابوں کا حال ہے جس سے نئی پود کی منفی ذہن سازی کی جاتی ہے ۔۱۹۷۷ ء میں جب پہلی بار غیر کانگریسی حکومت بنی تو وزارت اطلاعات و نشریات کا محکمہ لال کرشن ایڈوانی کو تفویض ہوا اور یہاں سے ہی ہندو قوم پرستی اور برہمن وادکی فیکٹریاں بھار تی سر کار کے مختلف صیغوں میں کھل گئیں اور تیزی سے اپنا مال شہروں گاؤں اور قریہ قریہ بر آمد کرنے لگیں ۔۱۹۹۸ء میں جب پہلی بار بی جے پی قیادت والی حکومت بنی تو آر ایس ایس کا فرمان باجپائی کے لئے یہی تھا کہ وزارتوں کی تقسیم میں وہ سوائے محکمہ تعلیم کے آزاد ہیں کیونکہ یہ محکمہ ہر صورت میںآر ایس ایس کارکن کے پاس رہنا چاہئے ۔اس طرح یہ محکمہ چھ سال تک مرلی منوہر جوشی کے پاس رہا جس نے تاریخ تو تاریخ سائنس تک کو بھی مسخ کر کے رکھ دیا ۔ خود کانگریس کی سیکولر اور سوشلسٹ عمارت بھی ریت کے ٹیلے کی طرح آر ایس ایس کی سونامی میں ڈھ گئی اور اب حال یہ ہے کہ اس ذہن کو جو تمام شعبوں اور بنیادی اکائیوں سے لے کر عظیم عدلیہ اور دفاعی محکموں تک سرایت کر چکا ہے ، اس کے سامنے بند باندھنا انتہائی مشکل بلکہ مستقبل قریب میں ناممکن ہے ۔ یہی ایک بڑی وجہ ہے کہ اپنے تمام سیاسی اور معاشی منصوبوں میں بری طرح کی ناکامیوں کے باوجود بی جے پی کا جادو سر چڑھ کے بول رہا ہے ۔یہ تیس فی صد عوام جو ووٹ دینے نکلتے ہیں کہ جو ستر پرسنٹ عوام کویر غمال کرکے ان پر دباؤ قائم کرتے ہیں ،ملک کی تعمیر و تر قی ، اقتصادیات ، شرح ونمو ، بے روز گاری ، کسانوں کی خودکشیاں اور بد سے بدتر ہورہے حالات کو نہ دیکھ پاتے ہیں اور نہ دیکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کے ذہن سنگھ پریوار کی حشیش سے ماؤف ہونے کی وجہ سے آنکھیں بند اور سوچ کے دروازے مقفل ہیں ۔ اس لئے گنگا جمنی تہذیب ابھی مدتوں ایک بھولی بسری داستان بنی رہے گی ۔
9419514537