جموں//جنگلات، محنت، روز گار ،اے آئی آر اینڈ ٹریننگز محکموں سے متعلق اگلے مالی سال کی بجٹ کی تجاویز کے سلسلے میں پرنسپل سیکرٹری محکمہ خزانہ کی صدارت میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی۔ہر محکمہ سے متعلق تفصیلی منصوبوں کی تجاویز پر سیر حاصل بحث ہوئی اور اس دوران پرنسپل سیکرٹری نے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ فضول اخراجات کو روکنے اور لوگوں کی ضرورت کے مطابق موثر پروجیکٹوں کو عمل میں لانے کے منصوبے تشکیل دیں۔انہوں نے کہا کہ محکمے انتظامی اخراجات کو عمل میں لانے میں احتیاط برتیں اور لوگوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے رقومات کا بہتر تصرف یقینی بنائیں۔انہوں نے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ تمام سطحوں پر معیشت کے فروغ کے لئے نئے اور جدید منصوبوں کی تجاویز ترتیب دیں۔محکمہ جنگلات کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز پر بحث کرتے ہوئے نوین کمار چودھری نے کسانوں اور دیگر شراکت داروں کے لئے اُن منصوبوں کو تشکیل دینے کی ہدایت دی جس میں ماہرانہ رہبری حاصل ہو۔انہوں نے محکمہ سے کہا کہ وہ کنڈی علاقوں میں رہنے والے کسانوں کو بانس اُگانے کے امکانات تلاش کرے۔ انہوں نے متعلقہ افسروں سے کہا کہ وہ لوگوں کو مفت یا معمولی رقم کے عوض نرسریاں قائم کرنے کے لئے پودے فراہم کریں۔انہوں نے متعلقین سے کہا کہ وہ جھیل ڈل سے نکلنے والی گھاس پھوس کا بہتر استعمال یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں ایک جامع منصوبہ ترتیب دیں۔انہوں نے افسروں کو ہدایت دی کہ وہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا( این ایچ اے آئی) کے حکام سے رابطہ کریں تا کہ جموں اور وادی کشمیر کی طرف جانے والی قومی شاہراہ پر سیاحتی مقامات پر بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جاسکے۔انہوں نے جموں وسرینگر شہروں میں بھی شجرکاری مہم میں تیزی لانے کی ہدایت دی ۔محنت و روز گار محکمہ سے متعلق تجاویز پر بحث کرتے ہوئے نوین کمار چودھری نے متعلقہ سیکرٹری سے کہا کہ وہ فالتو قوانین کوختم کرتے ہوئے ریاست میں صنعتی پھیلاؤ کو یقینی بنائیں ۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے دیگر ریاستوں میں اپنائے جانے والے بہترین ماڈلوں کا مطالعہ کرنے کے لئے کہا۔گورنمنٹ پریس منیجمنٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے نوین کمار چودھری نے کہا کہ اس ادارے کے جموں اور سرینگر کے دونوں یونٹوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ان میٹنگوں میں محکمہ جنگلات کے سیکرٹری منوج دویدی، محنت رو زگار محکمہ کے سیکرٹری سوربھ بھگت، پی سی سی سریش چُگ، سٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کے چیئرمین اور تینوں محکموں کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔