اولاداللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے چاہے بیٹا ہو یا بیٹی ۔ انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی اولاد کی اس عظیم نعمت کیلئے دُعائیں مانگی ہیں ۔اولاد والدین کی آنکھوں کی روشنی اور بڑھاپے کا سہارتصور کیا جاتا ہے ۔ ان کے ذریعے سے ہی والدین کی نسل اور اُن کی پہچان باقی رہتی ہے۔ اگر صحیح وقت پر ان کی تربیت کی جائے تواُس کا پھل صرف ان تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ پوری دُنیا میں بسنے والے تمام مخلوقات اس سے استفادہ حاصل کرتے ہیں ۔ اسی طرح اگر اولاد کی تربیت میں غفلت برتی جائے تو اس کا وبال والدین پرہی نہیں بلکہ پورا سماج اس کی گرفت میں آجاتا ہے۔ اس کی مثال ایک درخت کے مانند ہے کہ جس کااگر ہر وقت خیال رکھا جائے تو فائدے سے خالی نہیں ہوتا اور اگر ایسا ہی چھوڑدیاجائے تو ایک دن خود بہ خود زمین بوس ہو جائے گا۔ بقول شاعر ؎
ایک پتھر کی بھی تقدیر سنور سکتی ہے
شرط یہ ہے کہ سلیقے سے تراشا جائے
منظور ندیمؔ
بدقسمتی سے موجودہ دور میں اولاد کی تربیت کی طرف بالکل ہی توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ والدین حضرات نے ا سے اپنا ہاتھ کچھ اسطرح سے کھینچ لیا ہے کہ جیسے کہ اُن کی اولاد پر پڑھانے کے سوا کوئی ذمہ داری ہی نہیں ہے ۔ حالانکہ جس طریقے سے ایک اولاد پر اپنے والدین کے حقوق ہوتے ہیں تو ٹھیک اسی طرح والدین حضرات پر بھی اپنے اولاد کے باضابطہ حقوق ہیں۔ جن میں خاص طور پر اسکی صحیح تربیت کرنا ،اچھا نام رکھنا، دین و دنیا کی تعلیم دینا ہیں ۔اس میں اتنی غفلت اور لاپرواہی سے کام لیا جاتا ہے کہ خود اولاد کے ہاتھوں والدین کی بے عزتی ہوتی ہے۔ اس کا قصوروار اولادہی نہیں بلکہ والدین بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ آجکل کے والدین کے پاس ہر ایک کام کے لئے وقت ہوتاہے لیکن اگر کوئی کام اُن سے نہ ہوپارہا ہے تو وہ صرف اور صرف اولاد کو وقت نہ دینایعنی انکی تربیت میں غفلت کرنا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایسی زندگی کی تعلیم دی تھی کہ اگر اُس کا ذرہ سا بھی حصہ ہمیں نصیب ہو جائے تو ہمارے اولاد صالح بن جائیں گے۔امام غزالی،امام بخاری،امام ترمذی ،شیخ عبدالقادر جیلانی، اویس قرنی رحمتہ اﷲ علیہم اجمعین وغیرہ جیسے اولاد خود بہ خود اس اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچے بلکہ ان کے والدین کی تربیت اور اُنکی فکروں کی وجہ سے یہ حضرات اس اعلیٰ مقام تک پہنچے ہیں ۔ اس سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آجکل ہمارے اولاد کیوں برائی، فحاشی، بدکاری اور غلط کاموں میں ملوث پائے جاتے ہیں ۔ (اس کا ذمہ دار کون ہے؟)ہمارے پیغمبر نبی اکرم ﷺ کے اوپر نبوت کا اتنا بھوج ہونے کے باوجودبھی زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہ چھوڑا ہو کہ جس کی انہوں نے ہمیں عملی طور پر تعلیم نہ دی ہو ۔اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے کام،ملازمت، تجارت اور باقی سبھی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اپنے اولاد کی تربیت کی خاص فکر کرنی چاہئے تاکہ آگے چل کر یہی اولاد ہمارے لئے نجات کا سبب بن جائیں گے۔ ماں باپ اپنے اولاد کو بچپن سے ہی سچائی،دیانتداری، ایمانداری،نماز،خدمت گزاری وغیرہ کی تعلیم فراہم کر کے انکو اس اندازسے تیار کریں کہ ان کے ذریعے سے معاشرے میں بہار آجائے۔تربیت یافتہ اولادہی والدین کے فرمانبردار ، نیک سلوک،اچھا برتائو اور ساتھ ہی خدمت کرنے والے بن جاتے ہیں ۔حدیث میں آیا ہے۔
’’آپ ﷺ کا ارشاد ہے : کوئی باپ اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس کو اچھے آداب سکھادی۔ ‘‘ بخاری جلد : ۱،صفحہ نمبر ۲۲۔
مختصراََ والدین کو ہر حال میں اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہئے کیونکہ اس سے ان کا مستقبل ہی نہیں بلکہ پوری قوم کا مستقبل محفوظ رہ جاتاہے ۔ ان کی بچپن سے ہی ظاہری و روحانی تربیت کرنا ،اُنکے اندر اچھے عادات ،اچھے اخلاق پیوست کرنا معاشرے میں پھیلے اندھیرے کا اسطرح خاتمہ کردیتا ہے کہ جس طرح بجلی سے اندھیرا دور ہوجاتا ہے۔ اولاد کی بچپن سے ہی تربیت کی فکر کرنی چاہئے کیونکہ بچے معصوم ہوتے ہیں اور اُن کو اچھے اور غلط کی تمیز ہی نہیں ہوتی ہے وہ کورے کاغذ کی طرح ہوتے ہیں کہ جو چیز بھی ان پر نقش کیا جائے تو الحجر کی طرح پائیداراور مضبوط ہوتا ہے۔ بچوں کی جس انداز سے تربیت کی جائے اُسی طرح کے اوصاف اُن کے اندر پیدا ہوجاتے ہیں یعنی جس درخت پر جس چیز کا پیوند کیا جائے تو آگے چل کر وہی پھل نمودار ہوتا ہے ۔انسان جس چیز پر محنت کرتا ہے وہ چیز وجود میں آتی ہے ۔جس طریقے سے ایک کاری گر اپنی کاری گری سے معمولی چیز کو کمال درجے تک پہنچادیتا ہے ٹھیک اسی طریقے سے اگر اشرف المخلوقات (انسان ) پر محنت کی جائے تو وہ ستاروں سے بھی آگے نکل سکتا ہے۔ انسان نے تو کُتوں کو سُننا سکھایا،بندر کو ناچنا سکھایا،کبوتر کو بولنا سکھایا لیکن جس کے اندریہ تمام اوصاف اﷲ تعلی نے فطرطاً موجود رکھے ہیںاس کی صلاحیتں ان کاموں میں لگی ہوئی ہیں جہاں پر شیطان بھی شرمندہ ہوجاتا ہے ۔ایک اولاد والدین کا ہی نہیں بلکہ اپنے پورے خاندان کا تعارف کر اتا ہے ۔اولاد اپنے والدین کے پاس ایسا قیمتی سرمایا ہے کہ جس کے ذریعے سے والدین وہاں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیںکہ جہاں تک ایک عام انسان کی سوچ بھی نہیں پہنچ سکتی ہے۔والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے اولاد کی قدر کریں ،اُنکو عزت دے ،اُن سے پیارومحبت سے پیش آئے، اُن کی حوصلہ افزائی کرے ،اُن کے اچھے کاموں کی تعریف کرے وغیرہ غرض یہ کہ اولادکی اس طرح غیر محسوس طریقے سے تربیت کرنی چاہئے کہ کبھی بھی اولاد کی حوصلہ شکنی ،بے عزتی اور بدسلوکی سے بات نہیں کرنی چاہئے ۔ والدین حضرات اپنے اولاد کے لئے ایسے رہبر و رہنما بن سکتے ہیں کہ جس کی مثال ملنی مشکل ہی نہیںبلکہ محال ہے ۔ حضور ﷺ کے گھر جب اُنکی بیٹی حضرت فاطمہؓ تشریف لے جاتی تھی تو سرور عالم ﷺ کھڑا ہو کر ان کے ہاتھ کو بوسا کرتے تھے اتنا ہی نہیں بلکہ ہاتھ پکڑ کر اپنی جگہ بٹھاتے تھے۔ اگر ہم اپنے اللہ اور رسول ﷺکی تعلیمات کو اپنائیں گے تو یقینی طورپر ایک اولاد کے دل میں ہی نہیں بلکہ اُسکے خون میں بھی اپنے والدین کی محبت اور اطاعت بس جائے گی۔
��������