اس بات اب انکار کی کوئی گنجائش نہیںکہ آج کا انسان جہاں سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی اور مادی وسائل کے اعتبار سے عروج پر پہنچا ہے، وہیںاس کے برعکس اِس کی باطنی دنیا ایک گہرے خلا ءکا شکار ہوچکی ہے۔
سہولتوں کی فراوانی نےتو اُس کی زندگی کو آسان بنایا ہے،تاہم ان سہولتوں نے اُسے خود غرضی، مقابلہ بازی اور انانیت کے جال میں بھی اُلجھا دیا ہے۔ روحانیت، ہمدردی، ایثار اور برداشت جیسی قدریں پسِ منظر میں چلی گئی ہیں جبکہ مفاد پرستی اور مادہ پرستی نے ہر ذہن میں جگہ بنا لی ہے اور یہی وہ داخلی تضاد ہے،جس نے دورِ حاضر کے انسان کو ایک گہری بے چینی اور عدمِ اطمینان میں مبتلا کرکے رکھ دیا ہے۔
آرام و آسائشوں سے بھرپور زندگی کے باوجود سکونِ قلب کی کمی اس بات کا غماز ہے کہ مادی ترقی نے انسانی وجود کے صرف ایک پہلو کو سنوارا و سجایا ہے، جبکہ اس کی روحانی اور اخلاقی جہت مسلسل نظر انداز ہوتی رہی ہے۔نتیجتاً انسان باہر سے جتنا مضبوط اور کامیاب دکھائی دیتا ہے، اندر سے اتنا ہی منتشر اور کمزور ہو چکا ہے۔ اِسی کیفیت نے نہ صرف فرد کی شخصیت کو متاثر کیا ہے بلکہ اجتماعی سطح پر بھی تعلقات کی نوعیت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ جب زندگی کا محور صرف مفاد ات اور مادہ پرستی بن جائیں تو اقدار کی حرارت ماند پڑنے لگتی ہے اور انسان آہستہ آہستہ اپنی اصل انسانیت سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یوں مادی ترقی کی یہ یک رُخی دوڑ بالآخر روحانی افلاس کی ایک ایسی فضا کو جنم دیتی ہے جو انسانی معاشرے کے توازن کو بُری طرح متاثر کرتی ہے۔
انسانی اقدار کے فروغ میں خاندان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، مگر جدید طرزِ زندگی نے خاندانی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ مشترکہ خاندانوں کا ٹوٹنا، والدین اور اولاد کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری اور رشتوں میں خلوص کی کمی، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ اقدار کا تسلسل متاثر ہو رہا ہے۔ آج کے انسان کے پاس وقت تو ہے مگر تعلقات کے لئے نہیں، وسائل تو ہیں مگر محبت کے لئے نہیں۔ یہ صورتِ حال دراصل اُس گہرے خلا کی عکاس ہے جو خاندانی رشتوں کی روح سے خالی ہو جانے کے باعث پیدا ہوا ہے۔ جب خاندان جو محبت، تربیت اور اقدار کی منتقلی کا سب سے مؤثر ذریعہ تھا، اپنی اصل حیثیت کھونے لگے تو معاشرہ بھی اپنی اخلاقی بنیادوں سے محروم ہوجاتا ہے۔چنانچہ نئی نسل نہ صرف جذباتی سہارا کھو بیٹھتی ہے بلکہ اسے وہ اخلاقی رہنمائی بھی میسر نہیں آتی جو ایک متوازن شخصیت کی تشکیل کے لئے ناگزیر ہوتی ہے۔ اس کمزوری کا اثر صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے سماجی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
جب رشتوں میں خلوص، ایثار اور باہمی احترام کی جگہ خود غرضی اور بے حسی لے لے تو معاشرہ ایک ایسی بے روح مشین میں تبدیل ہونے لگتا ہے جہاں تعلقات محض ضرورت اور مفاد کے تابع ہو جاتے ہیں۔ یوں خاندانی نظام کی یہ کمزوری درحقیقت انسانی اقدار کے مجموعی زوال کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ہاں!سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے جہاں معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، وہیں انہوں نے انسان کو ایک ایسے فکری انتشار میں مبتلا کر دیا ہے جہاں سچ اور جھوٹ، خیر اور شر کی تمیز دُھندلا گئی ہے۔ نمائش، تصنع اور وقتی شہرت کی خواہش نے سچائی، اخلاص اور دیانت جیسی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ انسان اپنی اصل شخصیت سے دور ہو کر ایک مصنوعی شناخت کا اسیر بنتا جا رہا ہے۔ یہی فکری انتشار دراصل انسان کی داخلی یکسوئی کو پارہ پارہ کر رہا ہے۔
مسلسل معلومات کے دباؤ اور آراء کے ہجوم نے سوچنے، پرکھنے اور ٹھہر کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔ نتیجتاً انسان ردِّعمل کی نفسیات کا شکار ہو کر گہرائی اور سنجیدگی سے دور ہوتا جا رہا ہے، جہاں حقیقت کی تلاش کے بجائے تاثرکو حقیقت سمجھ لیا جاتا ہےاور اس طرح انسانی قدروں کا بحران سنگین صورت اختیا ر کرتا چلا جارہا ہے۔ اگر انسان اپنی اصل پہچان یعنی ایک بااخلاق، باکردار اور بااحساس مخلوق کو دوبارہ دریافت کر لے تو یہ بحران ایک نئے فکری و اخلاقی احیاءکا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یہی شعوری بیداری دراصل اس تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے جس کی آج کے انسان اور معاشرے کو شدید ضرورت ہے۔