جنید احمد بٹ۔ ستورہ ترال
سال ِ گذشتہ وداع ہوچکا ہے اور نیا سال وارد ہوا ہے۔نئے سال کی مناسبت سے دنیا میں مختلف مقامات پر Happy New Year کے نام سے متعدد پروگرام کئے جاتے ہیں اور ان میں بے تحاشہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔حالانکہ اس رقم سے لوگوں کی فلاح وبہبود کے بڑے بڑے کام کئے جاسکتے ہیں، انسانی حقوق کی ٹھیکیدار بننے والی دنیا کی مختلف تنظیمیں بھی اس موقع پر چشم پوشی سے کام لیتی نظر آتی ہیں۔ مگر ظاہر ہے کہ ان پروگراموں کو منعقد کرنے والے نہ ہماری بات مان سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اس وقت ہمارے مخاطب ہیں۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہمیں اس موقع پر کیا کرنا چاہئے؟ اس پر غور وفکر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ حضور اکرمؐ، صحابہ کرامؓ، تابعین، تبع تابعین، مفسرین، محدثین اور فقہاء سے Happy New Year کہہ کر ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے۔ اس طرح کے مواقع کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔
در حقیقت نئے سال میں کوئی بھی نیا پن نہیں ہوتاہے بلکہ سب کچھ ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ازل سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ دن، رات، زمین، آ?سمان، سورج اور چاند سب کچھ وہی ہے اور وقت کی کڑوی یادیں بھی اسی طرح ہمارے ساتھ ہیں۔یہ دیکھا جاتا ہے کہ نئے سال کے ا?ٓغاز کے موقع پر ہمارے بہت سارے مسلم ،خاص طور پر نوجوانوں کی ا?یک بڑ?ی تعداد غیر مسلموں کی طرح خوشیاں مناتے وقت وہ ناجائز اور نامناسب کام کرتے رہتے ہیں، جنہیں ایک سلیم العقل انسان اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا اور نہ ہی انسانی سماج کیلئے وہ کام کسی طرح مفید ہوتے ہیںبلکہ حد درجہ مضرہیں۔مثال کے طور پر 31 دسمبر اور 1 جنوری کے بیچ کی رات میں نئے عیسوی سال کے ا?ٓغاز کی خوشی مناتے ہوئے بڑی مقدار میں پٹاخے بجائے جاتے ہیں اور ا?ٓتش بازیاں کی جاتی ہیں ،بے ہودہ ناچ نغموں کی محفلیں سجائی جاتی ہیں،کیک کاٹے جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ سال 2022ء رخصت ہوچکا ہے،نیا سال وارد ہوا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم تھوڑا سا وقت نکال کر گذشتہ سال کے بارے میں غور و فکر کریں ،خصوصاً خود اپنا محاسبہ کرلیں کہ میں نے اُس سال کیا پایا اور کیا کھویا ہے؟ مجھے اُس سال میںکیا کرنا چاہئے تھا اور میں نے کیا کیا؟ کن چیزوں کو نہ کرنا میرے لئے بہتر تھا، اور میں نے کتنا کچھ غلط کیا ہے؟میں نے کتنےلوگوں کا دل دکھایا ہے اور مجھ سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچا ہے، میں نے کتنے لوگوں سے ساتھ ہمدردی کی، کتنوں کا حق مار دیااور کس قدر گناہ مجھ سے سرزد ہوئے؟ ان تمام چیزوں کا ہمیں محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ میری زندگی کا ایک سال کم ہوگیا اور میں نیکیوں سے محروم رہ گیا، میرا وقت بے جا ضائع ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ ہر آ?نے والا سال انسان کے لئے اُمیدیں اور توقعات لے کر آ?تا ہے اور انسان کے عزم کو پھر سے جوان کرتا ہے کہ جو کام پچھلے سال ادھورے رہ گئے، انہیں اس سال مکمل کر لینا ہے۔ افراد کی طرح اقوام کی زندگی میں بھی نیا سال ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے، یہ قوموں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ گذشتہ سال میں کی جاچکی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آ?نے والے سال میں اسکی بھرپائی کرنے کی کوشش کریں۔ایک سال کا مکمل ہونا اور دوسرے سال کا ا?ٓغاز اس بات کا کھلا پیغام ہے کہ ہماری زندگی میں سے ایک سال کم ہوگیا ہے اور ہم اپنی زندگی کے اختتام کے مزید قریب ہوگئے ہیں۔لہٰذا ہماری فکر اور بڑھ جانی چاہئے اور نہایت سنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی اور اپنے وقت کا محاسبہ کرنا چاہئے۔ ہمارے اندر کیا کمی ہے کیا کمزوری ہے، کونسی بُری عادت وخصلت ہم میں پائی جاتی ہے، اسکو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، نیز اچھی عادتیں، عمدہ اخلاق وکردار کا وصف اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
اگرغورکیاجائے تو نیا سال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کی طرف متوجہ کرتاہے کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہوگیا ہے، اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟ کیوں کہ وقت کی مثال تیز دھوپ میں رکھی ہوئی برف کی اس سیل سے دی جاتی ہے،جس سے اگر فائدہ اٹھایا جائے تو بہتر ورنہ وہ تو بہر حال پگھل ہی جاتی ہے۔غرضیکہ ہم سال کے اختتام پر اپنی ذات کا محاسبہ کرکے اچھے اعمال کی قبولیت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، جو فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی یا گناہ ہوئے، ان پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور نئے سال کی ابتدا پر پختہ ارادہ کریں کہ زندگی کے باقی ماندہ ایام میں اپنے مولا کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے اور منکرات سے بچ کر اللہ کے احکام کو اپنے نبی کے طریقہ کے مطابق بجالائیں گے اور اپنی ذات سے اللہ کی کسی مخلوق کو کوئی تکلیف نہیں پہنچائیں گے۔
[email protected]