یواین آئی
بیجنگ// چین کا کہنا ہے کہ اسے محدود کرنے کی امریکی کوششیں نہ صرف ناکام ہوں گی بلکہ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں بھی نہیں ہیں۔ امریکہ تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے سے باز رہے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو پین گیو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چین اور امریکہ کے تعلقات کی بنیاد باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور مشترکہ مفاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ زیرو سم پالیسی پر۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے چین کو روکنے اور محدود کرنے کی حکمت عملی ناکام ہو گی اور اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ تائیوان کا مسئلہ چین کے بنیادی مفادات میں شامل ہے اور اسے ’’ریڈ لائن’’قرار دیا گیا ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ایک چین پالیسی اور دوطرفہ مشترکہ معاہدوں کی پاسداری کرنی چاہیے اور تائیوان کو ہتھیار فراہم کرنے سے فوری طور پر باز رہنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے پیسیفک ڈیٹرنس انیشی ایٹو کے لیے 2027 کے بجٹ میں تقریباً 11.7 ارب ڈالر مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے، جسے چین نے خطے میں عدم استحکام کا باعث قرار دیا ہے۔