بالواسطہ بات چیت آئندہ ہفتے ویانا میں دوبارہ شروع ہوگی
ایجنسیز
نئی دہلی//ایران اور امریکہ کے مذاکرات کاروں نے تہران کے جوہری پروگرام پر جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کا اختتام کیا، جس میں دونوں فریقوں نے پیش رفت کی اطلاع دی اور آئندہ ہفتے آسٹریا کے شہر ویانا میں بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی، جنہوں نے مذاکرات میں سہولت کاری کی، نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے ’نمایاں پیش رفت‘ کی ہے اور امریکی جانب سے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کیا گیا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ مذاکرات کی دوبارہ شروعات سے قبل دونوں دارالحکومتوں میں مشاورت کی جائے گی۔ایران کے وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی امور پر فریقین ایک دوسرے کے قریب آ چکے ہیں اور سابقہ سفارتی ادوار کے مقابلے میں تصفیے تک پہنچنے میں زیادہ سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے مذاکرات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض نکات پر اتفاق ہو چکا ہے جبکہ کچھ معاملات پر اختلاف برقرار ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اگلا دور ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں منعقد ہوگا۔تہران کا کہنا ہے کہ حالیہ نشست میں ایران کی جوہری سرگرمیوں اور ممکنہ طور پر پابندیوں کے خاتمے سے متعلق اہم اور عملی تجاویز پیش کی گئیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، مذاکرات کاروں نے پرامن جوہری توانائی کے ایران کے حق کی توثیق کی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایران نے تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کی تجاویز کی مخالفت بھی کی ہے۔تاہم اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام نے کچھ رعایتیں پیش کی ہوں گی، اگرچہ ان کی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں آئیں۔ زیرِ غور ایک تجویز کے مطابق، ایران تین سے پانچ سال کی معطلی کے بعد بین الاقوامی نگرانی میں کم ترین سطح پر یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔اس کے بدلے میں ایران نے ان اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے جنہوں نے اس کی معیشت پر دباؤ ڈالا ہے۔ عباس عراقچی نے علاقائی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جوہری پابندیوں کے بدلے پابندیوں میں نرمی مرکزی مطالبہ ہے۔مذاکرات کے نتائج کا انحصار بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے کردار پر بھی ہو سکتا ہے۔ اگر کسی فریم ورک معاہدے تک پہنچا جاتا ہے تو مستقبل کی نگرانی اور تصدیقی انتظامات میں ڈائریکٹر جنرل رافیل ماریانو گروسی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔گرچہ دونوں فریقوں نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے، حکام نے تسلیم کیا کہ اہم اختلافات اب بھی باقی ہیں اور ایک جامع معاہدے کے امکانات بدستور غیر یقینی ہیں۔