ایجنسیز
اسلام آباد// حکام کے مطابق پاکستان نے آئندہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کے لیے تیاریاں شروع کر دی ہیں، جو مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے خاتمے اور عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کرنے والے بحران کے حل کے لیے ایک اہم معاہدہ ثابت ہو سکتا ہے۔امریکہ اور ایران نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں پاکستان میں براہِ راست نایاب مذاکرات کیے، جن کا مقصد باہمی تنازع کا خاتمہ تھا، تاہم یہ مذاکرات اتوار کو کسی معاہدے کے بغیر ہی ختم ہو گئے۔پاکستان میں سرکاری ذرائع نے جمعہ کے روز بتایا کہ دونوں فریقوں کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تیز رفتار سفارتی سرگرمیاں شروع کی گئیں، جو کامیاب رہیں کیونکہ دونوں ممالک دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر قائم ہیں، جس سے پاکستان کو اپنی ثالثی کی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملا۔پسِ پردہ کوششوں کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف بدھ کے روز تین ممالک کے دورے پر روانہ ہوئے، جبکہ اسی دن فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے۔وزیرِ اعظم نے سعودی اور قطری قیادت سے ملاقاتوں کے بعد جمعرات کی رات ترکی پہنچے، جبکہ فیلڈ مارشل نے ایران میں 24 گھنٹوں سے زائد وقت گزارا اور وہاں کی سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔اگرچہ پاکستانی سول اور عسکری قیادت کی ان ملاقاتوں کے نتائج کے بارے میں باضابطہ طور پر کچھ نہیں کہا گیا، تاہم حکام کے مطابق جمعرات کی شام ملک میں سیکیورٹی ادارے اچانک متحرک ہو گئے۔اسلام آباد کے حکام کے مطابق، ’’اسلام آباد اور راولپنڈی میں تیاریاں شروع ہو چکی ہیں اور ہزاروں پولیس اور نیم فوجی اہلکار دیگر صوبوں سے طلب کیے جا رہے ہیں۔‘‘روایتی طور پر، اسلام آباد انتظامیہ بڑے سیکورٹی انتظامات کے لیے صوبوں سے مدد حاصل کرتی ہے۔پہلے دور کے مذاکرات کے دوران 10 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے ضلعی حکام نے آگاہ کیا ہے کہ دیگر شہروں سے آنے یا جانے والی ٹریفک پر سخت پابندیاں لگ سکتی ہیں۔