عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ امرناتھ یاتریوں کو صرف بسوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں مقامی بازاروں اور دیگر مقامات کا دورہ کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنی خریداری کے ذریعے کشمیر کی معیشت کو تقویت دے سکیں۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس سال بڑی تعداد میں عقیدت مند امرناتھ یاترا میں شرکت کریں گے، پرامن طریقے سے درشن کریں گے اور بحفاظت اپنے گھروں کو واپس لوٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت نے اپنی ذمہ داری کے دائرے میں تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے ہیں، جبکہ سیکورٹی، امن و قانون کی صورتحال اور شری امرناتھ جی شرائن بورڈ سے متعلق انتظامات متعلقہ اداروں کی جانب سے انجام دیے جا رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے یاتریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے دورۂ کشمیر کے دوران جموں و کشمیر میں پائیدار امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ریاست کی مجموعی خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کریں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی اس اپیل کا حوالہ دیتے ہوئے کہ یاتری اپنے سفری بجٹ کا کم از کم دس فیصد کشمیر میں خرچ کریں، عمر عبداللہ نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس سے مقامی معیشت کو نمایاں فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا، یاتریوں کو اپنی بسوں سے اتر کر مقامی بازاروں اور دیگر مقامات پر جانے کی اجازت ہونی چاہیے، ورنہ وہ اپنا پیسہ کیسے خرچ کریں گے؟انہوں نے مزید کہا کہ یاتریوں کو صرف گاڑیوں تک محدود رکھنے سے وہ مقامی تجارت اور معیشت میں مؤثر کردار ادا نہیں کر سکتے۔
امرناتھ یاتریوں کو مقامی بازاروں میں جانے کی اجازت دی جائے :وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ