جموں//مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سرپرستی میں انجام دیئے جارہے اسرائیلی مظالم کو انسانیت سوز قرار دیتے ہوئے شیعہ فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے کہاکہ القدس کواسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے پر اقوام متحدہ میں قرارداد پر ہوئی ووٹنگ سے یہ صاف ظاہر ہوگیاہے کہ اقوام عالم کی نظروں میں سامراج (امریکہ )اور صہیونیت (غاصب اسرائیلی ریاست ) کی کوئی اہمیت نہیں اور یہ دونوں ممالک جارحیت و ظلم و جبر کے سہارے زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکتے ۔انہوںنے ہندوستانی حکومت کی طرف سے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دینے کو سراہتے ہوئے کہاکہ تمام مسلم ممالک کو القدس اور مظلوم فلسطینیوں کے معاملے پرایران اور ترکی طرح واضح موقف اپناناچاہئے نہ کہ ایک ہاتھ امریکہ کی طرف اور دوسرا ہاتھ فلسطینیوں کی طرف بڑھایاجائے ۔پریس کے نام جاری بیان میں عاشق حسین خان نے کہاکہ امریکہ اور اسرائیل کی اس سے بڑھ کر تذلیل اور کچھ نہیںہوسکتی کہ اقوام عالم نے دھمکیوں کے باوجود انہیں مسترد کردیا تاہم مسلمانوں کو اس حوالے سے متحد ہوناپڑے گا جن کی حمایت نہ ملنے کے باعث فلسطینی غاصب اسرائیلیوں کے مظالم کاشکار ہیں اور ایسے ایسے ستم سہہ رہے ہیں جنہیں دیکھ کر دل دہل جاتاہے ۔انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیو اور تصاویر موجود ہیں جن میں اسرائیلی فوجیوں کی درندگی عیاں ہوتی ہے جو نہ ہی بزرگوں اور خواتین کو بخشتے ہیں اور نہ ہی بچوں کو ۔عاشق خان نے کہاکہ اسرائیلی کاکوئی وجود ہی نہیں لیکن یہ سب کچھ امریکی پشت پناہی سے ہورہاہے اور دنیا میں جہاں بھی ظلم ہورہاہے ،اس کی وجہ امریکہ کی غلط پالیسیاں ہیں ۔انہوںنے کہاکہ القدس کیلئے صرف فلسطینی مظلوموں کو ہی قربانی نہیں دینی بلکہ قبلہ اول کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنا ہر ایک مسلمان کا فرض ہے لیکن بدقسمتی سے کچھ مسلمان ممالک امریکہ کی ناراضگی کے خطرے سے القدس کو فراموش کرگئے ہیں اور کچھ نے درپردہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرکے فلسطینیوں کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ۔عاشق خان نے کہاکہ اس مرحلے پر تمام مسلمان ممالک کو متحد ہوناچاہئے اور انہیں بھی اسی طرح کا سخت موقف اپناناچاہئے جو ترکی اور ایران نے اپنارکھاہے ۔ انہوںنے ترک صدر سے مطالبہ کیاکہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے تمام تر سفارتی تعلقات ختم کریں اور دیگر ممالک بھی ایسا ہی کرتے ہوئے نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ سے بھی ہر قسم کے تعلقات منقطع کریں اور ان دو جارحیت پسند ممالک کی اشیاء کا بھی بائیکاٹ کیاجائے ۔انہوںنے کہاکہ ہندوستانی حکومت نے قرارداد کے حق میں ووٹ دے کر اس بات کاثبوت پیش کیاہے کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑی ہے اور وزیر اعظم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک اہم فیصلہ لیا۔فیڈریشن صدر کاکہناتھاکہ تمام مسلمان ممالک کواسی طرح سے یکجہتی کا مظاہرہ کرناچاہئے جس کا ثبوت اقوام متحدہ میں دیاگیاہے اور غاصب اسرائیل سے قبضہ سے القدس ہی نہیں بلکہ پور ے فلسطین کو چھڑایاجائے ۔