ایجنسیز
کابل// وہ خاتون غصے سے بھری ہوئی تھی۔ افغان دارالحکومت کے ایک غریب علاقے کی کیچڑ بھری گلی میں، جو پہاڑی کی طرف اوپر جا رہی تھی، کھڑی اس خاتون نے اپنا دوپٹہ ہٹا کر اپنے سفید ہوتے بال دکھائے۔52 سالہ مروفہ، جو کابل کے دہ مزنگ علاقے کی رہائشی ہیں اور بہت سے افغانوں کی طرح ایک ہی نام سے جانی جاتی ہیں، نے کہا،’’یہ بال دیکھ رہے ہو؟ میں اپنے سفید بالوں کے باوجود پانی اٹھانے پر مجبور ہوں۔ یہ برتن بہت بھاری ہیں۔ ہماری کمر میں اب طاقت نہیں رہی، نہ ہی ٹانگوں میں۔‘‘پہاڑی کے نیچے ایک مسجد کا اپنا کنواں ہے جو مفت پانی فراہم کرتا ہے، مگر وہ پینے کے قابل نہیں — پیلا اور کھارا ہے — اور اسے اٹھا کر لانا پڑتا ہے۔ پینے کا صاف پانی تین پہیوں والی موٹر سائیکلوں کے ذریعے علاقے میں لایا جاتا ہے اور فروخت کیا جاتا ہے، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔90 سالہ مقامی رہائشی ولی محمد نے غصے کے ساتھ کہا،’’ہمارے پاس کھانے کے پیسے نہیں، ہم پانی کیسے خریدیں؟‘‘دونوں نے بتایا کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد نئی حکومت نے وہ پائپ کاٹ دیے جو کچھ رہائشیوں نے اجتماعی کنویں سے اپنے گھروں تک پانی لانے کے لیے لگائے تھے۔محمد نے کہا،’’انہوں نے ہمارا پانی بند کر دیا۔ وہ طاقتور ہیں اور ہمیں یہ بھی نہیں بتاتے کیوں۔‘‘تاہم 32 سالہ نجیب اللہ رحیمی کا کہنا تھا کہ گھروں تک لگائے گئے پائپوں کی وجہ سے کنویں کا پانی کم ہو رہا تھا، جس سے پہاڑی کے اوپر رہنے والوں کو پانی نہیں ملتا تھا۔ اسی لیے حکومت نے آ کر پائپ کاٹ دیے۔ہندوکش پہاڑوں کی بلند وادی میں واقع کابل تیزی سے پانی کی قلت کا شکار ہو رہا ہے۔ یہاں کی آبادی زیادہ تر زیر زمین پانی پر انحصار کرتی ہے جو کنوؤں کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ مگر یہ زیر زمین پانی خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے، اور بعض کنوؤں کو 150 میٹر (تقریباً 500 فٹ) تک کھودنا پڑتا ہے۔اپریل 2025 میں امدادی تنظیم مرسی کور کی ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی میں کابل کے آبی ذخائر کی سطح 25 سے 30 میٹر (تقریباً 80 سے 100 فٹ) تک نیچے جا چکی ہے۔ یہ ذخائر زمین کے نیچے بڑی مقدار میں پانی محفوظ رکھتے ہیں، جو برسوں میں بارش کے ذریعے جمع ہوتا ہے۔ زیادہ نکاسی یا کم بارش کی وجہ سے یہ ذخائر ختم ہونے لگتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا،’’اگر کابل میں پانی کے انتظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں نہ کی گئیں تو آنے والی دہائی میں شہر کو ایک بے مثال انسانی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے، اور شاید اس سے بھی پہلے۔‘‘موسمیاتی تبدیلی، جو زیادہ تر ایندھن کے جلنے سے پیدا ہوتی ہے، نے بھی اس مسئلے کو بڑھایا ہے۔ بار بار خشک سالی کی وجہ سے برف باری کم ہو گئی ہے، جبکہ اب اچانک اور شدید بارشیں ہوتی ہیں جو سیلاب تو لاتی ہیں مگر زیر زمین پانی کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچاتیں۔جرمنی میں مقیم آبی وسائل کے ماہر نجیب اللہ سدید کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی نے پہلے سے موجود بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا،’’اگر موسمیاتی تبدیلی نہ بھی ہوتی، تب بھی کابل کو اس بحران کا سامنا ہوتا، کیونکہ آبادی اور شہری پھیلاؤ میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔‘‘گزشتہ دو دہائیوں میں کابل کا حجم دوگنا سے زیادہ ہو چکا ہے۔ 2001 میں طالبان کے زوال کے بعد بیرون ملک سے افغانوں کی واپسی ہوئی، اور 2023 کے بعد پاکستان اور ایران سے بے دخلی کے باعث ایک نئی لہر آئی۔ 2001 میں تقریباً 25 لاکھ آبادی والا شہر اب تقریباً 60 لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔کچھ علاقوں میں سطحی آبی ذخائر پہلے ہی خشک ہو چکے ہیں۔ اور اب شہر اتنا تعمیر ہو چکا ہے کہ بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے لیے جگہ ہی نہیں پاتا۔سدید نے کہا،’’اگر روزانہ بارش بھی ہو، تب بھی زیر زمین پانی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ پانی کے جذب ہونے کی جگہ باقی نہیں رہی۔‘‘انہوں نے کہا کہ پانی کے وسائل کا ناقص انتظام بھی اس مسئلے کو بڑھا رہا ہے، خاص طور پر مشروبات بنانے والی کمپنیاں اور گرین ہاؤسز جو بڑی مقدار میں پانی استعمال کرتے ہیں۔وزارت آب و توانائی کے ترجمان قاری مطیع اللہ عابد نے کہا،’’کابل میں پانی کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ بنیادی وجوہات میں آبادی میں اضافہ، بارش میں کمی اور پانی کے استعمال میں اضافہ شامل ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ حکومت نے کچھ اقدامات کیے ہیں، جیسے زیر زمین پانی کے استعمال پر پابندیاں، واٹر میٹرز کی تنصیب، اور کاروباروں کے لیے کوٹہ مقرر کرنا۔ حد سے زیادہ پانی استعمال کرنے والوں کو شہر چھوڑنے کا کہا جا رہا ہے۔زیر زمین پانی کو بحال کرنے کے لیے چھوٹے ڈیم (چیک ڈیم) اور بارش کے پانی کو جذب کرنے والے ہزاروں کنویں بھی بنائے گئے ہیں۔انہوں نے شاہ و عروس ڈیم کی تکمیل (2024) اور قرغہ ڈیم سے مٹی کی صفائی کا بھی ذکر کیا، جس سے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھی ہے۔دو بڑے منصوبے، جو اس بحران کو کافی حد تک کم کر سکتے ہیں، تاخیر کا شکار ہیں۔ایک منصوبہ پنجشیر دریا سے تقریباً 200 کلومیٹر طویل پائپ لائن ہے، جبکہ دوسرا شاہ توت ڈیم ہے، جو شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب مغرب میں منصوبہ بندی کے مراحل میں ہے۔مرسی کور کی رپورٹ کے مطابق، یہ دونوں منصوبے مل کر تقریباً 40 لاکھ افراد کو پانی فراہم کر سکتے ہیں۔سدید کے مطابق،’’دونوں منصوبوں کا مجموعہ مستقبل کے لیے ایک پائیدار حل ہو سکتا ہے۔‘‘کابل زون کے ڈائریکٹر شفیع اللہ زاہد نے بتایا کہ پنجشیر پائپ لائن کے لیے تقریباً 130 ملین ڈالر کا بجٹ منظور ہو چکا ہے، مگر مزید جائزے کے بعد ہی عملی کام شروع ہو سکے گا۔شاہ توت ڈیم، جو افغان-بھارتی مشترکہ منصوبہ تھا، بھی مالی مشکلات کا شکار ہے اور اس کی تکمیل میں 6 سے 7 سال لگ سکتے ہیں۔سدید نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے اہم آبی منصوبوں کے بجائے دیگر انفراسٹرکچر کو ترجیح دی۔انہوں نے کہا،’’بہت سی سڑکیں اور فلائی اوور بنائے جا رہے ہیں، مگر پانی کے منصوبوں کو ترجیح نہیں دی جا رہی۔ یہ منصوبے توجہ حاصل کرنے والے ہیں، لیکن عوام کی صحت اور بنیادی حقوق کے لیے ضروری نہیں۔ پانی سب سے ضروری ہے، سڑکوں سے بھی زیادہ اہم۔‘‘