افسانچے

ملک منظور

 

ندامت

احمد اپنے ابو سے بےحد محبت کرتا تھا ۔اس کا باپ آرمی میں کام کرتا تھا لہذا وہ چھے مہینے کے بعد چھٹی پر آتا تھا ۔احمد کو اس کی بہت یاد آتی تھی ۔وہ ہر دن صبح سویرے اٹھ کر ابو کی گاڑی کو کپڑے سے صاف کرتا تھا ۔اس کی کھڑکیاں کھول کر اکثر کہتا رہتا تھا: یہاں پر ابو بیٹھ کر گاڑی چلائے گا اور میں اس سیٹ پر بیٹھ کر اس کے ساتھ گھومنے جاؤں گا ۔میں کسی کو گاڑی میں بیٹھنے نہیں دوں گا۔ اس کے بعد سکوٹر پر پونچھا مارتا تھا اور خود سے باتیں کرتے ہوئےکہتا تھا ۔جب ابو اس کو چلائے گا تو میں اس کے پیچھے چپک کر بیٹھوں گا اور بہت ساری باتیں کروں گا ۔
احمد اکثر ابو کے آنے کے بارے میں ماں سے پوچھتا رہتا تھا کہ ابو کب آئیں گے ۔
بلآخر وہ دن آگیا جب اس کا ابو گھر آنیوالا تھا ۔اس نے ساری تیاریاں کر رکھیں تھیں ۔وہ ماں کو صبح سے ہی کہہ رہا تھا: امی جب ابو آئے گا تو میں اس کی گود میں چپک کر بیٹھوں گا ۔اس کے ہاتھ سے کھانا کھاؤں گا اور چائے بھی پیوں گا ۔اس کے ساتھ چپک کر سوجائوں گا ۔اس کو کہیں جانے نہیں دوں گا ۔
ماں بھی یہی کہتی تھی ٹھیک ہے ۔آپ کا ابو ہے تو آپ ہی پیار کرنا ۔ شام کے وقت جب اس کا ابو فاروق گھر آیا تو تجویز کے مطابق احمد اس کی گود میں گردن کے ارد گرد باہیں ڈال کر بیٹھ گیا ۔اس کے ساتھ کھانا کھایا اور بہت ساری مٹھائیاں، جو ابو نے لائی تھیں، کھائیں۔سونے کے وقت احمد ابو کے ساتھ ہی سو گیا ۔ کچھ دیر بعد کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔احمد کی امی نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو دیکھا وہ ان کا پڑوسی تھا ۔
پڑوسی نے پوچھا: کیا فاروق گھر میں ہے ۔
ہاں گھر میں ہی ہے ۔۔لیکن کیا بات ہے ۔احمد کی امی نے پوچھا ۔
میری بہو بیمار ہوگئی ہے اس کو فوراً ہسپتال پہنچانا ہے ۔نہیں تو زچہ بچہ دونوں مر جائیں گے ۔۔پڑوسی نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے میں اس کو بلاتی ہوں
احمد‌کی امی‌نے‌شوہر فاروق کو جگایا اور ساری باتیں بتا دیں ۔وہ فوراً کھڑا ہوا لیکن احمد نے‌نہ جانے‌کی ضد کی ۔مت جاؤ ابو ،
میں جانے‌نہیں دوںگا ۔
اس نے ابو کو پکڑ کر رکھا اور جانے نہیں دیا ۔فاروق نے مجبورا ً احمد کو جھٹک کر الگ کیا اور چلا گیا۔ احمد دیر تک روتا رہا اور روتے روتے سو گیا ۔جب وہ صبح سویرے جاگا تو اس نے نہ ابو سے بات کی اور نہ ہی اس کی لائی ہوئی چیزیں کھائیں ۔وہ روٹھ کر ہی اسکول چلا گیا ۔جب‌ وہ اسکول پہنچا تو اس نے اپنے پڑوسی دوست کو مٹھائی کا ڈبہ لے کر میڈم کے پاس جاتے دیکھا ۔وہ کلاس روم کے باہر ہی رک گیا ۔ اس کے دوست نے میڈم کو مٹھائی کا ڈبہ پیش کرتے ہوئے کہا: میڈم میری ماں نے ایک ننھی سی پری کو جنم‌ دیا ۔
اچھا بیٹا یہ تو خوشی کی بات ہے ۔مبارک مبارک میڈم نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
میڈم اگر اس کو احمد کا ابو ہسپتال نہیں پہنچاتا تو وہ مرجاتی۔ بچے نے میڈم سے کہا ۔
پھر تو احمد کا باپ ہیرو ہے کیونکہ اس نے آپ کی مدد کی ۔۔۔!
اصلی ہیرو تو وہی ہوتا ہے جو دوسروں کی مدد کرتا ہے۔میڈم نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
احمد نے‌جب یہ باتیں سنیں تو وہ خوشی خوشی کلاس روم میں داخل‌ ہوا‌ ۔میڈم نے سب بچوں کو احمد کے ابو کے لئے تالیاں بجانے کے لئے کہا ۔احمد بہت خوش ہوا ۔اس کواپنی ضد پر ندامت ہوئی لیکن اپنے ابو پر فخر محسوس ہوا ۔چھٹی کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو ابو کو گلے لگا کر کہا : ابو مجھے معاف کرو ۔ میں نے‌آپ کو خوامخواہ تنگ کیا۔
ابو نے بھی سینے سے لگا کر بہت پیار جتاتے‌ ہوئے کہا
دوسروں کی مدد کرنے سے خدا راضی ہوتا ہے ۔ بیٹا

بہادر بچہ

ایک دن کبیر اپنے دوست ابرار کے ساتھ اسکول جارہاتھا ۔وہ دونوں سڑک کے کنارے کنارے چل رہے تھے کہ اچانک ابرار سڑک کے کنارے سے ہٹ گیا اور ایک موٹر سائیکل سوار نے اس کو دھکا دے دیا ۔ابرار سڑک کے کنارے پر گر گیا ۔اس کی ناک اور کانوں سے خون بہنے لگا ۔کبیر کافی پریشان ہوگیا ۔موٹر سائیکل سوار موقعہ پا کر بھاگ گیا ۔کبیر نے ابرار کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔اس نے گاڑی والوں سے مدد کی اپیل کی لیکن کسی نے اس کی طرف توجہ نہیں دی ۔اسی اثنا میں ایک آٹو والا پاس آکر رک گیا ۔کبیر نے آٹو والے سے کہا : انکل انکل میرے دوست کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔وہ خون میں لت پت بیہوش ہو گیا ہے ۔پلیز میری مدد کرو
کوئی بات نہیں بیٹا چلو میں اس کو اپنے آٹو میں ہسپتال پہنچاؤں گا ۔ ڈرائیور نے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔
آٹو ڈرائیور نے ابرار کو آٹو میں رکھ کر آٹو تیزی سے بھگایا ۔ بیچ راستے میں کبیر نے‌ آٹو ڈرائیور سے کہا : انکل اپنا فون دے دو ۔میں ابو کو فون کرکے آپ کو پیسے دلاؤں گا اور حادثے کے بارے میں بتاؤں گا ۔
پیسوں کی ضرورت نہیں ہے بیٹا لیکن ان کو بتاؤ کہ ابرار کے گھر والوں کو مطلع کریں ۔ ڈرائیور نے فون دیتے ہوئے کہا ۔
اس دوران وہ ہسپتال پہنچ گئے جہاں ابرار کو ایمرجنسی میں داخل کیا گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ابرار کے والدین بھی پہنچ گئے ۔کبیر نے راحت کی سانس لے کر ڈرائیور انکل کو پیسے دلا کر اس کا شکریہ ادا کیا۔پھر کبیر کے والدین بھی آگئے ۔وہ بیٹے کے کام سے بہت خوش ہوئے ۔اسی اثنا میں ابرار کو ہوش آگیا۔ڈاکٹر نے معائینہ کرنے کے بعد کہا : خوش قسمتی سے بچہ وقت پر ہسپتال پہنچا۔خطرے کی کوئی بات نہیں۔
کبیر اپنے والدین کے ساتھ خوشی خوشی گھر چلا گیا ۔اگلے دن جب وہ اسکول پہنچا تو پرنسپل نے‌اس کو اپنے دفتر میں بلا کر شاباشی دی ۔کچھ دنوں کے بعد اسکول میں سالانہ پروگرام منعقد ہوا ۔جس میں کبیر کو بہادر بچے کا خطاب دیا گیا ۔برنسپل نے‌خطاب میں کہا : بہادر وہ نہیں ہوتا ہے جو موٹا ہو یا طاقتور ہو ۔بہادر وہ ہوتا ہے جو مشکل حالات میں رونے کے بجائے مقابلہ کرتا ہے۔کبیر نے حادثے کے بعد ہمت نہیں ہاری ۔اس کے‌حوصلے نے نہ صرف ابرار کی جان بچائی بلکہ ہمارا سر بھی فخر سے اونچا کیا ۔اس لیے اس سال کبیر کو ہم اسکول کا بہترین طالب علم قرار دیتے ہیں اور اس کے والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔

 

قصبہ کھل کولگام ،موبائل نمبر؛9906598163