روئے زمین پر جتنے نظام پائے جاتے ہیں وہ اپنے نصب العین اور دعاوی کے لحاظ سے مکمل ہوا کرتے ہیں، جس سے مراد یہ ہے کہ اس نظام سلطنت کی بنیاد، کسی اصول طراز کی فکر پر قائم ہوتی ہے اور اسی فکر کے مطابق نظامِ سلطنت کی توسیع و تکمیل ہوتی ہے، یہ الگ بات ہے کہ اکثر اصول طراز اور سیاست دانوں نے کسی ایک پہلو کو دوسرے پہلو پر فوقیت دے کر اُسے ہی کل مان لینے پر اصرار کیا ہے؛ چوں کہ ایسے بے شمار سیاسی نظریے وجود میں آئے ہیں جن میں کبھی تو سیاسی عمل پر عقل انسانی کے اثرات کا پورے شدومد کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے اور کبھی اس کے بالکل برعکس، کہ سیاست و سیادت میں انسانی عقل کا کوئی حصہ نہیں؛ بلکہ یہ چیز بعض قوموں کا ذاتی ورثہ ہے جو ازل سے انھی کے لیے ہے اوراس باب میں انہی کی رہنمائی قابل قبول ہوتی ہے ، سیاست اور نظام کے باب میں یہی بنیادی نقطئہ نظر ہے جو کمیونزم،سوشلزم، ریشنلزم، کمرشیلائزیشن، سیکولرائزیشن، ڈیماکریسی اور نظام اسلامی کے مابین حد فاصل ہے۔
جمہوریت کاآغاز و نظام:
مشہور انقلاب فرانس کے بعد، جو یورپ میں حریت و جمہوریت کے مذبح کی سب سے بڑی اور آخری قربانی تھی، موجودہ جمہوریت کا وجود عمل میں آیا۔ ”تاریخ انقلاب تمدن“ کے مصنف اور مشہور موٴرخ حال کا یہی خیال ہے۔ابتداءً اُس کے اساس اولین پانچ قرار پائے؛ لیکن ان کے تجزیے کے بعد ایک اصول باقی رہتا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ قوت حکم و ارادہ افراد و اشخاص کے ہاتھ میں نہ ہو اور دوسرے لفظوں میں اس اصول کو نفی حکم ذاتی و مطلق کا بھی نام دیا جاسکتا ہے۔
مبادیٴ حریت:
اس سے قبل نظامِ حکومت کا کوئی قانون مرتب نہ ہوا تھا، انقلاب فرانس کے بعد فرانس کا دستور مملکت مرتب کرنے کے لئے ایک قانون ساز کونسل قائم کی گئی، جس میں قوانین وضع کرنے سے قبل بطور مبادیٴ دستور حریت کے چند دفعات مرتب کئے گئے، جنھیں جملہ قوانین کا اصل الاصول قرار دیا جاتا ہے۔ ان اصولوں کا خلاصہ یہ تھا: انسان آزاد پیدا ہوتا ہے اورآزادی ہی کے لئے زندہ رہتا ہے، تمام انسان بلحاظ حقوق مساوی ہیں اورحقوق طبعی پانچ ہیں: حریت، تملک، امن، مقاومت اور قانون ارادئہ عامہ کا مظہر ہے؛ اس لئے ملک کے ہر باشندے کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وکلاء کے توسط سے مجلس اعلیٰ میں شرکت کرے، ہر وطنی بہ لحاظ وطنی ہونے کے یکساں حکم سے موٴثر ہو اس بنا پر ہر شخص کو حسب قدرت وصلاحیت بڑے بڑے عہدے حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ کسی انسان کے لئے کسی حالت میں دوسرے انسان کو قیدی بنانے کی اجازت نہیں؛ بلکہ اس طرح کے تمام رویے سے گریزاں رہے البتہ قانون کی مقرر کردہ صورتوں میں اس کی اجازت دی جاسکتی ہے اور کسی شخص کے لئے روا نہیں کہ وہ دوسرے کو رائے کے اظہار سے روکے، گو وہ رائے دینی اور عام اعتقادیات کے خلاف ہو۔ ملک کے ہر باشندے کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے و فکر کے مطابق گفتگو کرے، لکھے، پڑھے اور چھاپے۔
حق تملک ایک مقدس حق ہے کوئی شخص اسے سلب نہیں کرسکتا تاہم مفادات عامہ سب پرمقدم ہیں لیکن اس کے لئے بھی جب تک قانونی صورت نہ ہو کسی کو اپنی ملکیت سے دست بردار ہونے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، تحریک انقلاب کے مقاصد میں یہ بھی تھا کہ حق حکم و تسلط اشخاص کو نہیں؛ بلکہ ہر فرد بشر کو حاصل ہے کہ وہ حریت سے لطف اندوز ہو اور مامون و محفوظ رہے۔ اسی وطنی حریت کو امت فرنساویہ کے مرض کا شفا قرار دیاگیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ موجودہ جمہوریت کا مبدأ سعادت قانون ساز کونسل کا یہی اعلان تھا جسے تاریخ میں اعلان حقوق انسانی کے محترم لقب سے نوازا گیا ہے۔
موجودہ تصور جمہوریت :
جمہوری طرز حکومت طریقہٴ انتخاب پر مبنی ہے اور موجودہ جمہوریت سے مراد ایسا نظام حکومت ہے جس میں آمریت مطلقہ اور اقتدار ذاتی کی جگہ قوت واقتدار کے تمام عہدے ملک کی عوامی جماعتوں کو حاصل ہوں، حکومت کے کسی ادارے میں وراثت و جانشینی اور ولی عہدی کے قدیم دقیانوسی طرز حکومت کا عمل دَخل نہ ہو؛ بلکہ ملک کی عوامی جماعتوں کو یہ حق حاصل ہو کہ ملک کی جو جماعت قومی و ملکی پروگرام کے موافق ہو اس کو اپنے ووٹوں کے ذریعے منتخب فرماکر حکومت کی گدی پر بٹھادیں اور اپنی مرضی کے مطابق وہ اسے استعمال کریں اور اپنی منشا کے موافق مجلس تشریعی و تنفیذی میں اپنے نمائندہ کو روانہ کرسکیں، نیز اس حکومت کے تمام باشندے جملہ حقوق کے حوالے سے خواہ وہ اقتصادیات سے متعلق ہوں یا معاشرت سے؛ مساوی تصور کیے جاتے ہیں، ملکی اور شہری تمام امور میں اپنی صلاحیت کے مطابق ہر باشندے کو ترقی کے حصول اور سیاسی اعتبار سے اعلیٰ عہدوں تک رسائی میں کوئی رکاوٹ نہ ہو یہ امور ”حریت اجتماع“ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔حریتِ فکر اور آزادیٴ صحافت بھی اس جمہوری طرز حکومت میں ہرعام شہری کو حاصل ہوتے ہیں، ملکی خزانہ کسی مخصوص شخص کی ملکیت نہیں ہوتا ہے؛ بلکہ پورے طور پر عوام ہی اس کی مالک ہوتی ہے، اس خزانے کے اموال امن و سلامتی کے قیام، قوم و ملت کے دفاع، ملک کے نظم و نسق اور عوام کی صلاح و فلاح کے لئے صرف ہونے چاہیے۔ یہ ہیں وہ بنیادی نکات جن پر جمہوریت کے محل کی تعمیر ہوئی ہے۔
موجودہ جمہوریت کے اہم فرائض:
حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کو جس زندگی کی جستجو ہے اس سے وہ تا ہنوز محروم ہے، وہ آخری منزل مقصود جہاں اسے پہنچنا ہے ، کوسوں دور ہے اور حیات انسانی کا اصل مرض اس کے رگ و ریشے میں ابھی بھی سرایت کیے ہوئے ہے، خوش فہم لوگ لاکھ کہیں کہ ہم نے انسانیت کے دکھ کا علاج پالیا ہے؛ تاہم درحقیقت جس کو وہ علاج تصور کررہے ہیں، خود ایک مستقل مرض ہے اورجس کو وہ مسیحا گردان رہے ہیں وہ فرشتہٴ موت ہے ، موجودہ جمہوریت میں اس قدر نقائص ہیں کہ اگر انہیں یکجا کردیا جائے تو آمریت و ملوکیت کا نمایاں فرق باقی نہیں رہتا، زیادہ سے زیادہ عنوان اور لیبل کا فرق ہوسکتا ہے گویا جمہوریت و ملوکیت ایک حقیقت کے دو عنوان ہیں، ہم ذیل میں ان خرابیوں کی قدرے تفصیل بیان کریں گے:
(۱) موجودہ نظام سیاست کی بنیاد ہی اس غیرفطری تصور پر قائم ہے کہ ایک انسان کو دوسرے پر یا سب سے بڑی جماعت کو چھوٹی جماعت پرحکمرانی کا حق حاصل ہو، یہی وہ بنیادی فرق ہے جوانسانی معاشرہ کے تمام مفاسد کی جڑ ہے۔ انسانی فطرت اس سے اُبا کرتی ہے کہ وہ اپنی جنس کے افراد کی غلامی اختیار کرے، خواہ یہ حکمرانی تسلط شخصی و استبداد ذاتی کی شکل میں ہو یا جمہوریت کے روپ میں۔
(۲) ایک صالح اور مہذب حکومت وہی ہوسکتی ہے، جس کی بنیاد اخلاقی اور مابعد الطبیعی تصورات پر قائم ہو؛ کیوں کہ یہی چیز حیات انسانی کے لئے اصل روح کی حیثیت رکھتی ہے اور اسی سے زندگی کے منتشر اجزاء میں ربط پیدا ہوسکتا ہے اور عالم گیر اضطراب و بے چینی کو دور کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ دیگر کسی نظام کے ذریعہ یہ خواب شرمندئہ تعبیر نہ ہوگا؛ چونکہ دنیا کے سیاسی نظاموں میں اخلاقی اقدار کو کوئی جگہ نہیں ملی ہے؛ اس لیے موجودہ جمہوریت میں منتخب ہونے والے نمائندوں کے لئے کوئی اخلاقی معیار مقرر نہیں اور آج نمائندگی کا اہل اس شخص کو تصور کیا جاتا ہے جو سب سے زیادہ زمانہ ساز ڈپلومیٹک، اور چرب زبان ہو، گو اس کے اخلاق و کیریکٹر کتنے ہی گرے ہوئے ہوں۔ ظاہر ہے کہ ایسے نمائندوں سے انسانیت کے اہم مسائل حل نہیں ہوسکتے کہ ع از مغز دو صد خر، فکر انسانی نمی آید
(۳) جمہوری آئین کو وطنیت و قومیت کے دائرے میں محدود کردیاگیا ہے، اسے ہمہ گیر و یونیورسل حیثیت حاصل نہیں ہے؛ اس لئے وہ صرف اپنے ملک کے اصل باشندوں کے حق میں تو مفید ہوسکتا ہے؛ تاہم آبادی کا وہ حصہ جو غیرملکی کہلاتا ہے اس کے فیوض و ثمرات سے بالکلیہ محروم ہیں۔
(۴) موجودہ جمہوریت کا دارومدار جماعتی طرز فکر، جماعتی کردار اور جماعتی نظریہٴ سیاست پر ہے، ملک میں اگر دو یا دو سے زائد سیاسی جماعتیں ہیں توہر جماعت کا نمائندہ اپنے مخصوص جماعتی طرز پر سوچتا ہے اور جماعت سے وفاداری یا عصبیت کی بنیاد پر ہر بات میں اسی کی حمایت کرتا ہے، خواہ وہ بات کتنی ہی غلط اور غیر منصفانہ کیوں نہ ہو؛ اس لیے کہ ہر جماعت کا اپنا ایک نصب العین ہوتا ہے۔ پارٹی کے ہر رکن کو جائز یا ناجائز ہر اعتبار سے ہر محاذ پر اور ہر راہ پر اسی کی منہ بھرائی کرنی پڑتی ہے۔
(۵) اس طرز حکومت میں اتھارٹی ایک مخصوص طبقے کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور مختلف جماعتوں میں جس کی اکثریت ہوتی ہے وہی با اقتدار ہوکر زمام کار سنبھالتی ہے۔ آئین کی رو سے اکثریت کا ہر فیصلہ جائز تصور کیا جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی بے رحمانہ اور ظالمانہ ہو اور وہ جائز یا ناجائز ہر طریقے سے اقلیتوں پر اپنا تسلط جمائے رکھتی ہے۔
(۶) موجودہ نظام جمہوریت میں نمائندگی کے لیے افراد اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں، جس کا حریت عامہ پر نہایت خطرناک اور غلط اثر پڑتا ہے، ان میں سے ہر شخص ترغیب و ترہیب کے ذرائع اختیار کرتا ہے اور بسا اوقات عوام خوف یا طمع کی وجہ سے رائے دہی پرمجبور ہوتے ہیں، اس طرح عوام کی آزادیٴ فکر کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ صحیح نمائندہ منتخب نہیں کرپاتے ہیں۔
(۷) نمائندگی کی طرح، رائے دہندگی کے لئے بھی کوئی اخلاقی معیار مقرر نہیں؛ بلکہ اس کا معیار ٹیکس اور لگان کی حد تک محدود رہتا ہے اور ہر جماعت اپنی نمائندگی کے لیے ایسے شخص کو منتخب کرتی ہے جو اس کے مفاد اور زاویہٴ نظر کی رہبری کا فریضہ انجام دے خواہ وہ کتنا ہی غلط ہو اور زیادہ سے زیادہ اپنی جماعت کی ہمنوائی کرنے والاشخص ہی منتخب ہوتا ہے۔ کتنا بڑا ظلم ہے کہ تعلیمی، تجارتی اور معالجاتی امور میں صداقت و دیانت داری کا امتحان لیا جاتا ہے؛ مگر جہاں پوری قوم کے نفع و ضرر کا سوال ہے وہاں نمائندگی کے لئے نہ کوئی اخلاقی معیار مقرر ہے اور نہ رائے دہندگی کے لیے وقار پرکھنے کا کوئی ذریعہ۔
(۸) موجودہ طریق انتخاب سے منتخب ہونے والے شخص کو ایک مدت تک کے لیے بالکلیہ آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے اور رائے دہندگان کو اس کے عزل و برطرفی کا کوئی اختیار نہیں، گویا وہ طوعاً و کرہاً اتنی مدت تک اس کی قیادت تسلیم کرنے پر مجبور ہیں خواہ وہ اس کا اہل نہ رہ گیا ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ظاہرہوتا ہے کہ عوام سے نمائندہ اسی وقت تک ربط و تعلق اور میل جول برقرار رکھتا ہے جب تک وہ ان سے ووٹ حاصل کرتا رہتا ہے، منتخب ہونے کے بعد وہ ہر طرح مطمئن ہوگیا اور رائے دہندگان کی خواہشات کا مطلقاً پاس لحاظ نہں ہوتا ہے۔
جمہوریت و ملوکیت :
نظام جمہوریت کے پیچھے کوئی اخلاقی تعلیم یا کوئی ایسی شریعت نہیں ہے جو اس کو حدود اور مقرر کردہ ضابطے میں رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت اپنے حدود سے متجاوز ہوکر ملوکیت و آمریت کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔چنانچہ جناب اسرار عالم صاحب جمہوریت کے عملی نقشے کا تجزیہ ان الفاظ میں کرتے ہیں :
’’ڈیماکرائزیشن ‘‘(جمہوریت) سیکولر کرنے کی وہ کوشش ہے، جو بظاہر لوگوں کو اظہار رائے کا حق دے کر جاتی ہے؛ لیکن جس کے پس پردہ دراصل امت کے ذہن اور صالح دماغوں کو بے دخل کرنا ہوتا ہے، چند سیکولر دماغ پوری آبادی کو اس کے ذریعے اغوا کرکے اپنے مقاصد پورے کرتے ہیں۔ جہاں یہ طریقہ ان کے خلاف جاتا ہے تواسے آمرانہ طریقے سے کچل دیتے ہیں، اس وقت انہیں جمہوریت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ (عالم اسلام کی اخلاقی صورت حال، ص: ۲۴۱)
مذکورہ بالا تجزیہ درحقیقت جمہوریت کی عملی تشریح ہے، جو اس بات کا پتا دے رہی ہے کہ جمہوریت اور ملوکیت کے درمیان کوئی نمایاں فرق نہیں پایا جاتا، زیادہ سے زیادہ لیبل کا فرق ہوسکتا ہے؛ یعنی ایک عنوان کی دو فرعیں جمہوریت کی اس تشریح کے بعد یہ بات بالکلیہ واضح ہوجاتی ہے کہ نظام اسلامی کے ساتھ جمہوریت کی ہم آہنگی کسی شکل میں نہیں ہوسکتی۔
جمہوریت اور ریشنلزم :
نظام اسلامی اورجمہوریت کے درمیان قدرے اشتراک اس امر میں ضرور ہے کہ ان دونوں نظام ہائے سلطنت نے شخصی اور وراثتی سلطنت کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے میں اہم کردار ادا کیے ہیں لیکن اس ادنیٰ سی مناسبت کی وجہ سے ان دونوں نظام ہائے سلطنت کے اصولی و فروعی آپسی تناقض سے چشم پوشی کرنا کسی اعتبار سے بھی معقول نہیں۔ چوں کہ نظریے کے کسی بھی باب میں اتفاق کا لفظ اسی وقت استعمال کیا جاسکتا ہے جب کہ کم از کم ان دونوں نظریات کے بنیادی اصول و اغراض میں اتفاق ممکن ہو، حالاں کہ جمہوریت اوراسلامی نظام کے بنیادی نظریے میں زمین و آسمان کا فرق ہے؛ کیوں کہ حکومت اسلامی مسلمانوں کے ایمان باللہ، ایمان بالآخرة اوراسلامی مقاصد کو بروئے کار لانے کی ضامن ہے۔
(بقیہ جعمہ کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)