یواین آئی
یروشلم//اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے مسجد اقصی میں اسرائیلی آبادکاروں کے ہمراہ داخل ہو کر نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے، جبکہ فلسطینی حلقوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصی کو اسرائیلی آبادکاروں کے لیے مزید کھولنے کا معاملہ زیر غور ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق پولیس نے بن گویر کے ساتھ تقریباً 150اسرائیلیوں کو مسجد اقصی کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دی، جبکہ اسی دوران مسلمانوں کی آمد پر پابندیاں عائد تھیں۔فلسطینی اداروں نے اس اقدام کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے مذہبی کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔القدس انٹرنیشنل انسٹی ٹیوشن نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ پیش رفت مسجد اقصی کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان تقسیم کرنے کے منصوبے کو تقویت دیتی ہے۔ادارے کے مطابق اس اقدام کا مقصد مسجد اقصی کو ایک مشترکہ یہودی مقدس مقام میں تبدیل کرنا ہے، جبکہ اس سے اسرائیلی حکام کو مسجد کے معاملات پر مزید کنٹرول حاصل ہو سکتا ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور مذہبی مقامات سے متعلق اقدامات حساس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔