ایجنسیز
تل ابیب//اسرائیل کی فوج نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے 200 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ وہ امریکا-ایران جنگ بندی کے باوجود وہاں اپنی فضائی اور زمینی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق بدھ کو جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے اور توپ خانے سے گولہ باری کی گئی، جن میں بنت جبیل کے قریب کے علاقے بھی شامل ہیں، جہاں اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔جنوبی لبنان میں لڑائی اس وقت بھی جاری ہے جب اسرائیلی اور لبنانی حکام نے دہائیوں بعد اپنی پہلی براہِ راست بات چیت مکمل کی ہے۔ لبنانی حکام جنگ بندی چاہتے ہیں تاکہ ان لڑائیوں کو روکا جا سکے جن کی وجہ سے ملک میں 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ اسرائیل چاہتا ہے کہ لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری سنبھالے۔
حزب اللہ کے رکن پارلیمان فضل اللہ حسن نے واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ لبنانی حکومت کی براہِ راست بات چیت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’شرمناک‘ قرار دیا اور حزب اللہ کے اسلحے کے مستقبل کے تعین کے لیے عوامی ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا۔فضل اللہ نے کہا کہ اگر لبنانی حکومت واقعی عوامی خواہشات کی نمائندگی کرنا چاہتی ہے تو اسے اسرائیل کے ساتھ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے پر مذاکرات کے بجائے عوامی رائے شماری کرانی چاہیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لبنان نے ایسے وقت میں اسرائیل کو سیاسی پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جب وہ لبنانی عوام کو قتل کر رہا ہے اورقتل عام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’فائدہ صرف دشمن کو ہو رہا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ایک عوامی ریفرنڈم سے ظاہر ہوگا کہ لبنانی عوام کی اکثریت اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی مہم کی حمایت کرتی ہے۔شمالی اسرائیل کے سرحدی شہر شموناکیرات میں کچھ اسرائیلی شہریوں نے لبنان کے ساتھ جاری مذاکرات کے نتائج پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ایک مقامی شہری ایلی مزراحی نے کہا، ’’حزب اللہ لبنانی فوج سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘ ان کے مطابق اسرائیل کو اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے جب تک لبنان میں فیصلہ کن کامیابی حاصل نہ ہو جائے۔