عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو مبینہ ایکسائز پالیسی اسکام سے جڑے بدعنوانی کے معاملے میں سی بی آئی کی چارج شیٹ کا نوٹس لینے سے انکار کردیا۔خصوصی جج جتیندر سنگھ نے دہلی کے سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال، سابق نائب وزیر اعلی منیش سیسوڈیا اور دیگر 21 دیگر کو کیس میں بری کر دیا۔عدالت نے کہا کہ چارج شیٹ میں کئی کوتاہیاں ہیں جو ثبوتوں سے ثابت نہیں ہیں۔دہلی راؤس ایونیو کورٹ نے دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں جانچ کررہے سی بی آئی کے تفتیشی افسر کے خلاف محکمانہ انکوائری کی سفارش کی۔دوسری جانب سی بی آئی دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں عام آدمی پارٹی لیڈر اروند کیجریوال اور منیش سسودیا کو بری کرنے والے راؤس ایونیو کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں راؤس ایونیو کورٹ میں پیش ہونے کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیجریوال جذباتی ہو گئے۔ انھوں نے کہا، ” آج عدالت نے اس معاملے میں تمام ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ ہم نے ہمیشہ کہا کہ سچائی کی فتح ہوتی ہے۔ ہمیں ہندوستانی قانونی نظام پر پورا بھروسہ ہے۔ امت شاہ اور مودی جی نے مل کر عآپ کو ختم کرنے کی سب سے بڑی سیاسی سازش رچی اور پارٹی کے پانچ بڑے لیڈروں کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ وزیراعلیٰ کو گھر سے گھسیٹ کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ کیجریوال بدعنوان نہیں ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں صرف ایمانداری کمائی ہے۔ آج عدالت نے کہا ہے کہ کیجریوال، منیش سسودیا اور عآپ ایماندار ہیں۔اروند کیجریوال کی اہلیہ سنیتا کیجریوال نے کہا کہ، “میں آج بھگوان کا شکر ادا کرنا چاہوں گی۔ اروند جی نے اپنی زندگی ایمانداری کے ساتھ گزاری ہے۔ لیکن ان لوگوں (بی جے پی) نے اروند جی اور ان کے ساتھیوں کو جیل بھیج دیا۔ مجھے یقین تھا کہ سچ کی جیت ہوگی۔ میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی جو ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔”راؤس ایونیو کورٹ میں سماعت کے دوران جج نے سی بی آئی کی جانب سے ’ساؤتھ گروپ‘ جیسی اصطلاحات کے استعمال پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “مجھے اس بات پر بھی تشویش تھی کہ ‘ساؤتھ گروپ’ جیسی اصطلاحات استعمال کی گئیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ اگر سی بی آئی نے یہی چارج شیٹ چنئی میں داخل کی ہوتی تو کیا وہ ‘ساؤتھ گروپ’ کا استعمال کرتے؟ عدالت نے سوال کیا۔۔یہ اصطلاح کس نے تیار کی؟”سی بی آئی نے جواب دیا کہ کئی ملزمین کے لیے یہ ایک عام اصطلاح ہے۔ جج نے ریمارکس دیے کہ امریکہ میں ایک کیس اس لیے خارج کر دیا گیا کیونکہ یہ اصطلاح ڈومینیکن گروپ کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ جج نے کہا، “مجھے یقین ہے کہ ‘ساؤتھ گروپ کی اصطلاح استعمال نہیں کی جانی چاہیے تھی۔”