ادبی کنج کا ڈوگری زبان کے ساتھ سوتیلے سلوک پراظہاربرہمی

جموّں//اپنی ہفتہ وار ادبی سرگرمیوں کے لئے معروُف کثیر اللسانی ادبی تنظیٖم ’ ادبی کُنج جے اینڈ کے جموں‘  کے زیر اہتمام ایک سب رس ادبی نِشست کا انعقاد ہوُا۔جِس میںاُردوُ کے علاوہ دیگر زبانوں کے قلم کاروںو ڈوگری پریمیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ نِشست کی صدارت کے فرائض کثیر اللسانی شاعر ادیٖب و بزرگ صحافی آرشؔ اوم دلموترہ راجپوری چئیر مین تنظیم نے کی۔ اپنے اِستقبالیہ خطبے میں صدرِ تنظیم شام طالب نے مختلف زبانوں کی تنظیم ادبی کُنج کی طرف سے ایک قرار داد پیش کی۔ جِسے چئیر مین و دیگر عہدے داران و ممبران نے اِتفاق رائے سے منظور کِیا۔’ قرارداد میںریاستی کلچرل اکیڈمی کے اِس عمل کی شدیِد مذمّت کی گئی  ۔  جِس میں مختلف زبان و ادب کی ترویٖج و ترقّی کے لئے بنائی گئی سنٹرل کمیٹی میںجمّوں سے کِسی ادبی تنظیم کے نُمائیندے کو شامل نہیں کِیا گیا۔جمّوں سے صِرف ایک ایسے فردکو برائے نام شامل کِیا گیا ہے جِس کا ادب کے کِسی شعبے سے تعلق نہیں ہے۔ قابلِ مذمّت بات یہ ہے کہ ریاست کی دوُسری بڑی زبان ’ ڈوگری ‘  سے وابستہ کِسی بھی شخصیّت کو نُمائیندگی نہیں دی گئی۔ ڈوگری جو ڈُگّر خطِیّ کی مادری زبان ہے۔ جِسے اِس طرح نظر انداز کرناایک دُگّر دُشمن شرارت ہی کہا جا سکتا ہے۔اِس سِلسِلے میںڈوگری زبان و ادب کی نُمائیندہ تنظیم ’ ڈوگری سنستھا جموّں‘  کے زیر اہتمام ایک پریس کانفرنس میںاِس صوُرتِ حال پر مفصّل روشنی ڈالتے ہوئے اِس شرارتی عمل کی پُر زور مذمّت کی گئی۔اِس سَلسِلے میں ڈوگری سنستھا بھون جموں میں ایک اور خصوُصی اِجلاس منعقد ہوُا جِس میںفنونِ لطیفہ کے مختلف شعبہ جات سے متعلقہ تنظیموں کے نُمائیندوں نے شرکت کرکے اپنی بھرپوُر حمایت کا یقیٖن دِلایااور ڈوگری سنستھا کے اِس آندولن میں شانہ بشانہ اپنے تعاون اور شرکت کا یقیٖن دِلایا۔آج کی اِس نِشست کے ادبی دوَر کی خصوصیّت تھی ایک شعری دوَر۔ جِس میںخصوُصی طور پر مختلف شعراء حضرات کے پیش کِئے گئیء کلام پر سیر حاصل تبصرہ بھی ہوُا۔ نو آمود شعراء کو رموُزِ غزل کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا گیا۔شعراء کو مشق کے لئے شام طالب ؔ اور آرش ؔاوم دلموترہ کی طرف سے طرح مِصرعے بھی دِئے گئے۔ اِس موقعے پر ادبی کُنج کے ایک پُرانے رُکن و سابقہ سیکرٹری تنظیم شری سُشیل بیگانہ کو اُنکے اوّلیٖن ڈوگری نظمیہ مجموعہ  ،  مون لکیٖراں ‘  کی رسمِ اجراء پر مُبارکباد پیش کی گئی۔ نِشست کاآخری دوُر ایک تعزیاتی دوَر تھا ۔جِس میں اُردوُ زبان و ادب کی معروُف شخصیّت ، سرکردہ ادیِب و شاعر اور ستاراء اُردوُ ادب ڈاکٹر خلیق انجم کی وفات  ،18اکتوُبر2016ء کی وفات پراِظہارِ تعزیت کِیا گیا۔آپ طویل علالت کے بعد شیدائیانِ اُردوُ اور اُردوُ ادب کو داغِ مفارقت دے گئے ۔ خلیٖق انجم نیبہُت سے موضوعات پر کام کِیا۔ اُنھوں نے فلسفائیء غالب پر بھی کام کِیا ہے ۔جِس وجہ سے وہ ماہرِ غالبؔ کہے جاتے تھے۔ وہ کئی برس تک انجمن ترقّی ء اُردوُ (ہند) دہلی کے سیکرٹری بھی رہ چُکے تھے۔ اُن کی وفات پر ممبرانِ ادبی کُنج نے گہرے رنج و غم کا ا ظہار کِیا۔ سوگوار خاندان کے ساتھ اِظہارِ تعزیّت کرتے ہوئے دُعا کی گئی کہ خُدا اُن کی مغفرت کرے۔اِس  سب رس نِشست کے کُچھ شرکاء کے اِسمِا ئے گرامی ،  آرشؔ اوم دلموترہ راجپوری  ، ایم ایل گنجوُ فرصّل ، سنتوش نادانؔ ، فوزیہ مُغل ضیاؔ، بِشن داس خاک ؔ ، راج کمل ، راز ریاض ، سنجیو کُمار ، ایم ایس کامرا، راجن سنگھ شمس ؔ ، محمد باقر صباؔ کرگالی، راجیٖو کُمار ، چرنجییٖت سنگھ چنّ،  ایس کے گُپتا ، منظور بڈانہ ، رومیش راہی ، وِنود کاتب ؔ ۔، وید اُپل ، راکیش ترِپت اور شام طالب ؔتھے۔