عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی //مہاراشٹر کے بارامتی میں جمعرات کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سرکردہ رہنما اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی آخری رسومات سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئیں۔ بدھ کے روز بارامتی ہوائی اڈے کے قریب ایک المناک طیارہ حادثے میں ان کی موت کے بعد ہزاروں افراد نے ودیا پرتشٹھان پہنچ کر انہیں آخری وداع دی، جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ دریں اثنا، فضا ’اجیت دادا امر رہے‘ کے نعروں سے گونجتی رہی، جب کہ سوگوار ماحول میں لوگوں کی آنکھیں نم دکھائی دیں۔اجیت پوار کی آخری رسومات ودیا پرتشٹھان کے احاطے میں ادا کی گئیں، جہاں پولیس کی سلامی دی گئی اور تمام سرکاری پروٹوکول کی پابندی کی گئی۔
ان کے بیٹوں پارتھ پوار اور جے پوار نے چتا کو آگ دی۔ آخری دیدار کے لیے بارامتی ہی نہیں بلکہ ریاست کے مختلف اضلاع اور پڑوسی علاقوں سے بھی عوام کی بڑی تعداد پہنچی۔ راستوں کے دونوں جانب لوگوں کی قطاریں دیکھی گئیں، جو اپنے محبوب رہنما کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب تھیں۔آخری رسومات میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر نتن گڈکری، بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن نبین، مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے اور شیو سینا یو بی ٹی کے قائد ادھو ٹھاکرے سمیت کئی سرکردہ سیاسی شخصیات موجود رہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے اجیت پوار کی سیاسی زندگی، انتظامی صلاحیتوں اور عوامی رابطے کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔64 سالہ اجیت پوار، جو ’دادا‘ کے نام سے جانے جاتے تھے، کے انتقال سے نہ صرف مہاراشٹر میں بی جے پی کی قیادت والی اتحاد حکومت میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے بلکہ ان کی قیادت میں سرگرم نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ وہ چھ مرتبہ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ رہ چکے تھے اور ریاستی سیاست میں ایک مضبوط اور فیصلہ کن کردار کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔اجیت پوار انتخابی مہم کے سلسلے میں ممبئی سے بارامتی آ رہے تھے، جہاں انہیں ضلع پریشد انتخابات کے لیے عوامی اجتماعات سے خطاب کرنا تھا۔ وہ اپنے پیچھے اہلیہ سنیترا، دو بیٹے جے اور پارتھ اور ایک بڑا سیاسی و عوامی حلقہ چھوڑ گئے ہیں۔