جاوید اختر بھارتی
گستاخی معاف! حد ہوگئی مغالطہ کی۔ حد ہوگئی نذرانے کے نام پر لوٹ کھسوٹ کی، حد ہوگئی پیری مریدی کو بڑھاوا دینے کی اور حد ہوگئی بزرگوں کے قصے کہانیاں سننے اور سنانے کی۔ معاشرے کے اندربُرائیاں فروغ پارہی ہیں، شادی بیاہ میں فضول خرچیاں بڑھتی جارہی ہیں، ناقص اور نئی نئی رسمیں پروان چڑھائی جارہی ہیں۔ دین کے نام پر ہونے والے جلسے نام و نمود ، شہرت اور نمائش تک محدود، محض واہ واہ اور کھوکھلے نعروں تک ہی محدود۔ نعت خواں اور پیشہ ور خطیب کوصرف داد اور دولت چاہئے۔زیادہ سے زیادہ بھیڑ ہوجائے تو جلسہ کامیاب، زیادہ سے زیادہ نعرہ لگے تو جلسہ کامیاب، جتنی رات دیر تک جلسہ چلے اُتنا کامیاب۔ مہنگا سے مہنگا خطیب و شاعر ہو تو جلسہ کامیاب ۔جتنی تڑک جھڑک کے ساتھ تقریریں ہوں ،جلسہ اتنا کامیاب۔ غرضیکہ اب جلسے کی کامیابی کا معیار ریڈیمیڈ ہوگیا۔ جبکہ میڈیم جلسے کا خرچ دو تین لاکھ روپے تک ہوتا ہے۔ کیونکہ مقررین کے بھی باقاعدہ ریٹ ہیں۔ بیشتر مقررین نے اپنا سکریٹری رکھا ہوا ہے اور انہیں کے ذریعے مقررین کی تاریخ ملتی ہے ۔ ایک مقرر اپنا چارج کم از کم بیس سے پچیس ہزار روپے رکھتا ہے اور نعت خواں تو اُن سے بھی آگے ہیں۔ حال یہ ہے کہ ایک مقرر اور ایک نعت خواں اور اسٹیج کو سجانے سنوارنے کا خرچ ساٹھ سے پچھتر ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ نعت خواں اور شاعر نے نعت ِرسولؐ پڑھنے کے لئے اپنااپنا ریٹ مقرر کیا ہوا ہے۔ ایک ایک رات میں چار چھ نعت پڑھنے کا پچیس، تیس، چالیس ہزار روپیہ لیتے ہیں اور مسلمانوں کایہ حال ہے کہ مہنگے سے مہنگےشاعر کو بُلاکر فخر محسوس کرتے ہیں ،گویا جلسہ سننے اور سنانے اور عمل کرنے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ دیکھنے اور دکھانے اور دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے ہوتا ہے۔
شادی بیاہ میں سینکڑوںافراد پر مشتمل بارات جاتی ہے، جہیز کا مطالبہ بھی ہوتا ہےاور کھانے پینے کی فرمائش بھی۔ امیر و غریب کی بنیاد پر دسترخوان پر لکیریں بھی کھینچی جانے لگیں، پڑوسیوں اور رشتہ داروں کو مختلف کٹیگری میں بانٹا جانے لگا، سیندور دیکھ کر لیلار پھوڑا جانے لگا۔ لاک ڈاؤن کے وقت بڑے کم خرچ پر شادیاں ہوجاتی تھیں، یہاں تک کہ امیر و دولت مند بھی بڑے ہلکے پھلکے انداز میں شادی بیاہ کی تقریبات کا انعقاد کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہی اسلامی طریقہ ہے، یہی شرعی حکم بھی ہے مگر جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم ہوا پھر وہی نمائش کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اب نہ اسلامی تعلیمات کی پرواہ ہے اور نہ شرعی احکام کا پاس و لحاظ، اور نہ ہی فرمان رسولؐ کی پرواہ ہے۔ اور جلسے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کے بعد پھر رفتار پکڑنے لگے۔ علماء کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے کہ جو خود کو وارث انبیاء کہتے ہیں اور اپنی تقریر کا ریٹ بھی مقرر کئے ہوئے ہیں، سارے علماء کرام ایسےتو نہیں، لیکن اکثریت ایسے ہی علماء کی ہے ۔ وہ منہ کھول کر پیسہ مانگتے ہیں اور اتنا مانگتے ہیں کہ پیروں تلے زمین کھسکنے لگتی ہے۔ ان کی تقریریں بھی صرف پیر، ولی، امام، محدث اور بزرگوں کی کرامات پر منحصر ہوتی ہیں اور بے شمار ایسی کرامتیں بیان کرتے ہیں کہ اب تو غیر مسلم بھی سوال کھڑا کرنے لگے ہیں اور یہ جواب نہیں دے پاتے۔ وجہ یہ ہے کہ پیشے ور خطیب، مقرر اور عالم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری تاریخ صرف ہم ہی پڑھتے ہیں حالانکہ یہ غلط فہمی کا شکار ہیں کیونکہ ہر مذہب کی تعلیمات ہر مذہب کے ماننے والوں کے اندر پڑھنے والے موجود ہیں، اسی وجہ سے تو نیوز چینلوں پر ڈیبیٹ میں یہ علماء لڑکھڑا جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ جلسے کا ماحول ہے کہ مقرر جو چاہے بول جائے، کوئی روکتا نہیں ،کوئی ٹوکتا نہیں۔ حضرت سیدنا عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی کرامات بیان کریں گے اور اپنے آپ کو ان کا مرید بھی کہیں گے مگر غوث اعظم ؒ کا مسلک کیا تھا، غوث اعظم ؒ کے نماز کا طریقہ کیا تھا، یہ کبھی نہیں بتایا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگ اب سوال کرتے ہیں کہ کیا ایک مرید کو اپنے پیر کا مسلک ماننا ضروری نہیں ہے؟ کیوں کہ سوال کرنے والے کو معلوم ہے کہ غوث اعظم ؒ کس مسلک کے ماننے والے تھے۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ آپ کسی کی معتبر و غیر معتبر کرامتیں بیان کرکے اس بزرگ کا مقام و مرتبہ بڑھا نہیں سکتے بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود اپنے برگزیدہ بندوں کے مقام و مرتبے کو بلند کیا ہے۔ ہاں! آپ البتہ جھوٹے واقعات اور جھوٹی کرامتیں بیان کریں گے تو گنہگار ضرور ہوں گے اور ان کی سیرت و تعلیمات پر عمل کریں گے تو کامیاب ہوں گے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا عالم و خطیب کیوں نہ ہو، اُسے ہرحال میں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ربّ کے قرآن اور نبیؐ کے فرمان میں کل جو تاثیر تھی، وہی تاثیر آج بھی ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہماری زبان میں تاثیر نہیں رہی اور نیک نیتی کے ساتھ اسلامی تعلیمات کو نہ بتانے کا جذبہ رہا، نہ سننے سنانے کا طریقہ رہا۔گویا جلسہ معاشرے سے برائی کے خاتمے اور پاکیزہ معاشرے کی تشکیل کے لئے ہوتا ہی نہیںہے۔ لاکھوں لاکھ روپے جلسے پر خرچ ہوتے ہیں ،مقررین کی بھی اپنی اپنی فرمائش اور خواہش ہوتی ہے اور اپنی خواہشات کا اظہار کرنے کے لئے آنے جانے کا ٹکٹ، نذرانے کے طور پر موٹی رقم اور جلسہ گاہ تک جانے کے لئے کار چاہئے اور جب اسٹیج پر پہنچتے ہیں تو ایسا استقبال ہوتا ہے کہ چند لمحوں کے لئے سارا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے۔ ذرہ برابر اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ ہم اسٹیج کو منبر رسولؐ بھی کہتے ہیں اور جب مقرر کی آمد ہوتی ہے تو قرآن و حدیث، حمد باری تعالیٰ، نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم روک کر مقرر کا استقبال کرتے ہیں تو بتایئے کہ ہم یہ گستاخی کرتے ہیں یا منبر رسول کی شان بڑھا تے ہیں؟
آج تک کسی فلمی شاعر نے یہ جرأت نہیں کی ہے کہ اس نے کسی مشہور نعت کی زمین میں کوئی گانا لکھا ہو اور نہ ہی کسی میوزک ڈائریکٹر نے یہ جسارت کی ہے کہ کسی مشہور نعت کی طرز پر کسی گانے کی دھن ترتیب دی ہو ۔ مگر غیر فلمی لوگ مشہور فلمی گانوں کے وزن میں نعتیں منقبت یا حمدیہ کلام تحریر کرتے ہیں اور پھر ان کو نوے فیصدی فلمی گانوں کی طرز میں پڑھا جاتا ہے اور بر صغیر کے بہت سے معروف و غیر معروف نعتیہ شعراء حضرات کا جو پہلے سے موجود ذخیرہء کلام ہے ، اس میں سے بھی اکثر کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا ہے ۔ چنانچہ جب ہم کوئی ایسی نعت یا منقبت وغیرہ سنتے ہیں تو اصل گانے کے بول دماغ میں گونجنے لگتے ہیں ۔ چند ایک بہت سینئر نعت خواں حضرات کو چھوڑ کر آج باقی کے جتنے بھی نعت خواں ہیں ،ان میں شاید ہی کوئی ایسا ہو ،جس نے کسی فلمی گانے کی طرز پر نعت نہ پڑھی ہو بلکہ بعض کا تو اوڑھنا بچھونا ہی بھارتی گانوں کی دُھنوں میں ترتیب دی گئی نعتیں پڑھنا ہے اور پھر ظاہر ہے کہ ہوبہو نقل بنانے کے لئے ان گانوں کو درجنوں بار سننا بھی پڑتا ہو گا، ایسا کرنے والوں میں بہت بڑے بڑے نام بھی شامل ہیں ۔تو کیا یہ کوئی بہت اچھی بات ہے؟ کیا یہ نعت کی توہین نہیں ہے کہ اسے گانے کی طرز پہ پڑھا جائے؟ کیا عشق رسولؐ میں اتنی محنت بھی نہیں کر سکتے کہ نعت کو اپنے انداز میں پڑھیں کہ اسے سن کر کسی فلمی گانے کی یاد نہ آئے اور حمد، نعت و منقبت کو گانے کی طرز میں پڑھنا تو بجائے خود کتنا بڑا المیہ ہے۔ الغرض آج منعقدہ جلسوں پر غور کریں تو اسی بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اب جلسوں کی بھی اصلاح ضروری ہے، ورنہ یہ جلسے میلے میں تبدیل ہو جائیں گے جس کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ اس لئے جلسوں کے تقدس کو باقی رکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔
[email protected]