تبریز انصاری کے والدین اس کے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے۔ وہ روزی روٹی کی تلاش میں آٹھ سال قبل پونہ منتقل ہو گیا تھا۔ وہ اپریل میں سرائے کیلا، جھارکھنڈ سے چند کلومیٹر کی مسافت پر واقع اپنے گاؤں بغرض شادی آیا تھا۔ 27اپریل کو 19 سالہ شائستہ پروین سے اس کی شادی ہوئی تھی۔ وہ چند روز کے اندر پونہ لوٹنے والا تھا۔ 17جون کی شب میں وہ جمشید پور سے اپنے ایک رشتے دار سے ملاقات کرکے لوٹ رہا تھا کہ دھتکی ڈیہہ گاؤں کے باشندو ںنے اسے چوری کے الزام میں پکڑ لیا۔ انھوں نے اسے بجلی کے ایک کھمبے سے باندھ کر پیٹنا شروع کیا۔ کچھ گھنٹوں کی پٹائی کے بعد اسے جھاڑیوں میں لے جایا گیا اور وہاں بھی اسے بری طرح زدو کوب کیا گیا۔ اس کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ اٹھارہ گھنٹے تک اس کی پٹائی کی گئی۔ اگلی صبح کو اسے پولیس کے حوالے کیا گیا یا بعض رپورٹوں کے مطابق وہ پولیس کو ایک درخت سے بندھا ہوا ملا۔ پولیس نے اسے لاک اپ میں بند کر دیا۔ اس کے خلاف چوری کی رپورٹ درج کرائی گئی۔ پولیس کے بقول اس نے چوری کا اعتراف کیا۔ اس کے پاس سے بے نمبر کی ایک موٹر سائیکل اور کچھ دیگر اشیا برآمد ہوئیں۔ پولیس نے اس کے خلاف رپورٹ تو درج کی لیکن یہ نہیں دیکھا کہ اس کے جسم پر چوٹ کے نشانات بھی ہیں۔ جب تبریز کی ساس کو معلوم ہوا کہ اس کے داماد کے ساتھ کیا ہوا ہے تو وہ پولیس تھانے گئی مگر اسے تبریز سے نہیں ملنے دیا گیا۔ اس نے وہاں تھانے کے اندر ایک شخص کو پولیس والوں پر چیختے ہوئے سنا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ یہ ابھی تک مرا کیوں نہیں۔ تبریز کی ساس بیگم کا کہنا ہے کہ وہ خود کو نہیں روک سکی اور زبردستی تھانے کے اندر گھس گئی۔ چیخنے چلانے والے کا نام پاپا منڈل بتایا گیا۔ یہ وہی پاپا منڈل ہے جو اس واقعہ میں کلیدی ملزم ہے اور جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ بیگم کا کہنا ہے کہ اس نے تبریز کو بری طرح زخمی حالت میں دیکھا۔ اس کے جسم پر جگہ جگہ زخموں کے نشانات تھے اور اس کا لباس خون آلودہ تھا۔ اگلے روز وہ لوگ پھر گئے۔ اس کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔ ان لوگوں نے پولیس سے گزارش کی کہ اسے اسپتال میں داخل کرا دے۔ لیکن کسی نے توجہ نہیں دی۔ جب اس کی حالت بہت زیادہ بگڑنے لگی تب اسے صدر اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔ یہ کوئی کہانی نہیں ہے بلکہ جھارکھنڈ کے ضلع کیلا سرائے کے ایک مظلوم نوجوان تبریز انصاری کی داستان دلخراش ہے جسے گاؤں والوں نے چوری کے شبہے میں پکڑا اور پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ بیگم کا کہنا ہے کہ اس کو دو چار ہاتھ مار کر چھوڑ دیا گیا ہوتا۔ لیکن جب اس نے اپنا نام تبریز انصاری بتایا تو ہجوم مشتعل ہو گیا اور اس پر مظالم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر تبریز کو بروقت علاج میسر آگیا ہوتا تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔
گزشتہ پانچ برسوں میں ہجومی تشدد کی جو ایک نئی روایت شروع ہوئی ہے مذکورہ واقعہ اس کا ایک بدترین نمونہ ہے۔ اس سے قبل متعدد ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔ لیکن زیادہ تر واقعات میں گائے کے ذبیحے یا بیف کو بہانا بنایا گیا تھا۔ لیکن اس واقعہ میں چوری کو بہانہ بنایا گیا اور ایک بے قصور کی جان لے لی گئی۔ سابقہ واقعات کی مانند یہ واقعہ بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مذہبی جنون کو بری طرح بھڑکا دیا گیا ہے۔ اگر اس واقعہ کا تعلق دھرم سے نہ ہوتا تو اس سے جبراً جے شری رام اور جے ہنومان نہ بلوایا جاتا۔ مذکورہ نعرہ لگوانے سے ہی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حملہ آور ایک خاص مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک دوسرے مذہب کے بارے میں اپنے دل و دماغ میں شدید نفرت پالے ہوئے ہیں۔ حملہ آوروں کی دیدہ دلیری دیکھیے کہ انھیں نہ تو قانون کا خوف تھا اور نہ ہی اس کا ڈر تھا کہ وہ پکڑے جا سکتے ہیں۔ انھی میں سے کسی نے اس دلدوز واقعہ کا ویڈیو بنایا اور اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیا۔ اس ویڈیو سے اس واقعہ کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ معاملہ اس جانب بھی اشارہ کرتا ہے کہ پولیس کس طرح ایک خاص مذہب کے لوگوں کے ساتھ رعایت اور ایک دوسرے مذہب کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کرتی ہے۔ کیا تبریز نے اپنے ساتھ ہونے والی بربریت کی اطلاع پولیس کو نہیں دی ہوگی۔ کیا اس نے نہیں بتایا ہوگا کہ اس کو پکڑ کر گھنٹوں مارا پیٹا گیا ہے۔ چلیے مان لیتے ہیں کہ اس نے ڈر کے مارے نہیں بتایا ہوگا تو کیا پولیس کو اس کے خون آلود کپڑوں اور جسم پر زخموں کے نشانات نظر نہیں آئے۔ اس نے اس کے خلاف چوری کی رپورٹ تو درج کی لیکن اس میں اس کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ اس ملک میں ہجومی انصاف کی بھی ایک نئی روایت شروع ہو گئی ہے۔ یعنی کچھ لوگ کسی کو پکڑیں اور ایک بھیڑ جمع کریں۔ بھیڑ اس کے کردہ یا ناکردہ جرم کی پاداش میں اس کی پٹائی کرے اور اس طرح ایک ہجومی انصاف کو رائج کیا جائے۔ کیا اس ملک میں اب قانون کا راج نہیں رہ گیا۔ کیا حکومت، پولیس اور عدالت نام کی کوئی چیز نہیں رہ گئی ہے۔ کیا اب نظام انصاف بھیڑ کے ہاتھوں منتقل ہو گیا ہے۔
ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے شرپسند عناصر کو شہ ملتی ہے۔ پانچ برسوں کے دوران اس قسم کے جانے کتنے واقعات ہوئے ہیں لیکن کیا کسی کو عبرت ناک سزا ملی ہے۔ کیا اخلاق کے قاتلوں کو سزا ملی۔ کیا پہلو خان کے قاتلوں کو سزا ملی۔ کیا اکبر خان کے قاتلوں کو سزا ملی۔ کیا منہاج انصاری کے قاتلوں کو سزا ملی۔ کیا افرازل کے قاتل کو ابھی تک سزا مل سکی ہے۔ نہیں بالکل نہیں۔ اسی لیے بھیڑ کا حصہ بننے والوں کے حوصلے بلند ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ گلے میں بھگوا رومال ڈال لیں گے یا سر پر بھگوا پٹکہ باندھ لیں گے اور کچھ بھی کرتے پھریں گے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ وہ کسی بھی مسلمان کو پکڑ کر جے شری رام کے نعرے لگائیں گے اور اسی نعرے کے درمیان اس کی پٹائی کریں گے اور ان کے خلاف ایکشن نہیں ہوگا۔ رام کی آڑ میں اور بھگوا رومال کی آڑ میں وہ بچ جائیں گے۔ گویا رام کا نام اور بھگوا رومال ہجومی تشدد کا لائسنس ہے۔ اور پھر ان کے حوصلے بلند کیوں نہ ہوں جب ایک مرکزی وزیر ہجومی تشدد میں ملوث افراد کو جیل سے باہر آنے پر پھولوں کا ہار پہنائے اور ان کا خیر مقدم کرے۔ جب قاتلوں کی اس طرح عزت افزائی ہوگی تو پھر ان کے حوصلے تو بلند ہوں گے ہی۔
سپریم کورٹ نے گزشتہ سال ایسے واقعات پر انتہائی سخت تبصرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس صورت حال کو معمول کی زندگی کا حصہ بننے نہیں دیا جائے گا۔ اس نے ان واقعات میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی ہدایت دی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ہر ضلع میں ایک نوڈل افسر مقرر کیا جائے جو ایسے واقعات کو دیکھے اور ان کو روکے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے۔ لیکن آج تک اس ہدایت پر عمل نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم نریند رمودی نے اپنے نام نہاد نعرہ سب کاساتھ سب کا وکاس میں اب سب کا وشواس بھی جوڑ دیا ہے۔ لیکن کیا ایسے سب کا وشواس جیتا جائے گا۔ کیا انھیں ان واقعات کا علم نہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹویٹ کرنے والے اور بیان دینے والے مودی ایسے واقعات پر خاموش کیوں رہتے ہیں۔ وہ ہجومی تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کیوں نہیں دیتے۔ اس سے قبل انھوں نے ایسے واقعات کی بظاہر مخالفت تو کی مگر کھل کر کوئی بات نہیں کہی، نہ ہی ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف سختی سے نمٹیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں تشدد کی نئی طرح ڈال دی گئی ہے۔ اب فسادات کرا کے نہیں بلکہ بھیڑ اکٹھی کرکے مسلمانوں کو مارا جاتا ہے۔ اب اجتماعی نہیں بلکہ انفرادی موت دی جاتی ہے۔ جب تک حکومت ایسے عناصر کے خلاف سخت ایکشن نہیں لے گی، ایسے واقعات ہوتے رہیں گے اوراخلاق، پہلو خاں، اکبر خاں، منہاج انصاری، افرازل اور تبریز انصاری مارے جاتے رہیں گے اور قانون دور کھڑا اپنی بے بسی پر آنسو بہاتا رہے گا۔