محمد طفیل ندوی
آج کادورتیزرفتارتغیرات کادورہے،مہنگائی کاطوفان ہرگھر کے دروازے پر دستک دےرہاہے،ضروریات زندگی کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں،بازار کی رونقیں جیبوں کی ویرانی کا سبب بن رہی ہیں، اور ہر شعبۂ ہائے زندگی میں اخراجات کی زنجیریں روز بروز طویل ہوتی جا رہی ہیں،گھر کا کرایہ مہنگا،بجلی کا خرچ مہنگا،علاج معالجہ مہنگا، دوائیں مہنگی، بچوں کی تعلیم مہنگی، سفر مہنگاحتی کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں،ایسے حالات میں ہر طبقہ زندگی نے اپنی اجرتوں اور معاوضوں میں اضافہ کیامگر افسوس کہ ایک طبقہ ایسا بھی ہے جس کی خدمات سے پورامعاشرہ فیضیاب ہوتا ہے لیکن اس کی تنخواہوں پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے، اور وہ ہیں مساجد کے ائمہ اور مؤذنین،سوچنے کی بات ہے کہ جب ایک مزدور اپنی مزدوری بڑھاتا ہے تو لوگ اس کی مجبوری کو سمجھتے ہیں، جب ایک ڈاکٹر اپنی فیس میں اضافہ کرتا ہے تو لوگ حالات کا تقاضا سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں،جب ملازمین اپنی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں تو ادارے غور و فکر کرتے ہیں لیکن جب مسجد کے امام یا مؤذن کی تنخواہ کا ذکر آتا ہے تو اکثر خاموشی چھا جاتی ہے،گویا وہ اس معاشرے میں نہیں رہتے،ان کےگھروں میں چولہا نہیں جلتا،ان کے بچوں کو تعلیم اور علاج کی ضرورت نہیں پڑتی،امام مسجد محض نماز پڑھانیوالا شخص نہیں بلکہ وہ دین کا داعی، اخلاق کا معلم، عقائد کا محافظ اور معاشرے کی اصلاح کا علمبردار ہوتا ہے،وہ محراب میں کھڑا ہو کرلوگوں کو اللہ سے جوڑتا ہے،منبر پر بیٹھ کر ایمان کی شمع روشن کرتا ہے، نکاح پڑھاتاہے، جنازہ پڑھاتا ہے، اختلافات میں صلح کراتا ہے،غم میں تسلی دیتا ہےاورخوشی میں دعائیں دیتا ہے،اسی طرح مؤذن وہ خوش نصیب ہے جو دن میں پانچ مرتبہ اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتا ہے،لوگوں کو نماز کی طرف بلاتا ہے اور مسجد کی رونق کا سبب بنتا ہے،اگر ان عظیم خدمات کے باوجود ان کی معاشی حالت کمزور رہے تو یہ یقیناہمارے اجتماعی ضمیر کیلئے لمحہ فکریہ ہے،دلوں پر ہاتھ رکھ کر سوچیے! کیا موجودہ دور میں چند ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ایک خاندان کے اخراجات کیلئےکافی ہو سکتی ہے؟کیا ایک امام یا مؤذن اپنے بچوں کی معیاری تعلیم، اپنے والدین کے علاج اور اپنے گھرکی ضروریات ان محدود وسائل سے پوری کر سکتا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگامسجدیں صرف عمارتوں کے نام نہیں بلکہ دین کے مراکز ہیں، اور ان مراکز کی روح ائمہ اور مؤذنین ہیں،عمارتوں کی تزئین و آرائش پر لاکھوں خرچ کئےجاتے ہیں، میناروں اور گنبدوں کو خوبصورت بنایا جاتا ہے،لیکن جن لوگوں کی محنت سے مسجد آباد رہتی ہے، ان کی ضروریات کو نظر انداز کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے،یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جب ایک امام یا مؤذن معاشی پریشانیوں میں گھرا ہوتا ہےتو اس کے ذہن پر فکروں کا بوجھ بڑھ جاتا ہے،وہ اپنے فرائض انجام تودیتا ہے،مگر دل میں بچوں کی فیس، گھر کے خرچ اور علاج کی فکروں کا طوفان موجزن رہتا ہے،اگر معاشرہ انہیں معاشی آسودگی فراہم کرے تو وہ زیادہ یکسوئی، زیادہ خلوص اور زیادہ اطمینان کیساتھ دینی خدمات انجام دے سکتے ہیں،یہ صرف ان کا حق ہی نہیں بلکہ مسجد اور نمازیوں کا بھی فائدہ ہے،ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسجد کی انتظامیہ، ہر محلہ اور ہر صاحب حیثیت فرد اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں،حالات کے مطابق ائمہ و مؤذنین کی تنخواہوں کاجائزہ لیاجائے، سالانہ اضافہ مقرر کیا جائے،علاج، تعلیم ودیگر ضروریات میں ان کی معاونت کی جائے اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ امت اپنے خادموں کی قدر کرنا جانتی ہے،جو لوگ دین کی خدمت میں اپنی زندگیاں وقف کئے ہوئے ہیں،ان کی عزت، تکریم اور کفالت بھی دین ہی کا تقاضا ہے،آئیے!آج ہم اپنے دلوں سے سوال کریں، اپنے ضمیر کو آواز دیں اور اپنے رویوں کا محاسبہ کریں،اگر مہنگائی نے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ہے تو یقیناائمہ و مؤذنین کے گھروں کو بھی نہیں چھوڑا،اگر ہر طبقہ اپنی ضرورت کے مطابق معاوضہ حاصل کر رہا ہے تو دین کے ان خادموں کو بھی ایسا حق ملنا چاہیےجو ان کی ضروریات کیلئے کافی ہو،یہی انصاف ہے، یہی قدردانی ہے اور یہی وہ عمل ہے جو ہمارے لئےدنیا میں باعث خیر اور آخرت میں موجب اجر بن سکتا ہے۔
[email protected]>
������