جموں//کئی ارکان نے قانون ساز کونسل میں بجٹ 2018-19پر ہوئی بحث میں حصہ لے کر اپنی تجاویز سامنے رکھیں ۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے اجات شترو سنگھ نے ایک عوام دوست بجٹ پیش کرنے کے لئے حکومت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ملازمین کے موافق اقدامات کئے گئے ہیں اور اس طرح ملازمین مزید تن دہی اور لگن کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے۔انہوں نے ریاست میں آبی ذخائر کو تحفظ دینے اور ان کی جاذبیت بحال کرنے کے لئے رقومات مختص رکھنے کی صلاح دی۔پردیپ کمار شرما نے بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس میں سماج کے سبھی طبقوں کا خیال رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مزدروں کی بہبودی کے لئے وضع کئے گئے اقدامات قابل سراہنا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرحدی علاقوں میں زرعی شعبے کے لئے مزید رقومات مختص رکھے جانے چاہئے کیونکہ وہاں سرحد پار کی شلنگ سے فصلوں کو کافی نقصان پہنچتا ہے ۔ یاسر ریشی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر حسیب اے درابو کو وزیر خزانہ کے عہدے پر تعینات کرنا سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کا ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نے اپنا چوتھا بجٹ پیش کیا جس میں عوامی بہبود کی کئی سکیمیں وضع کی گئی ہیں۔انہوں نے ماہی پروری ، بھیڑ پالن اور مگس بانی کے لئے مزید رقومات مختص کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ بے روزگاری کے مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔وبود ھ گپتا نے اس موقعہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک عوام دوست اور شفاف بجٹ پیش کرنے کے لئے وزیر خزانہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوںنے ریاست میں تعلیمی سیکٹر کو بڑھاوا دینے کے لئے نئے سکولوں اور کالجوں کے قیام سے متعلق منصوبے کی تعریف کی۔ انہوں نے کیجول ورکروں کی باقاعدگی اور بی پی ایل کنبوں کو انشورنس سکیم کے دائرے میںلانے کو ایک قابل تعریف قدم سے تعبیر کیا۔اُدھر قانون سازاسمبلی میں بجٹ 2018-19پر ہوئی عام بحث میں کئی ارکان نے حصہ لیا اور بجٹ منصوبوں سے متعلق اپنے خیالات اورتجاویز کا اظہار کیا۔بجٹ پر بحث کو جاری رکھتے ہوئے الطاف احمد وانی نے ریاست میں بجلی سے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہون نے ایس پی اوز کی اجرتوں میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا۔جاوید احمد رینہ نے بحث میں حصہ لیتے ہئوے کہا کہ ریا ست میں دیر پا امن اور معمول کے حالات بحال کرنے کے لئے جامع اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے قبائلی طبقوں کی بہبودی کے لئے جامع منصوبہ مرتب کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔سکھ نندن کمار نے بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں سیاحتی سیکٹر اور صنعتی سیکٹر کو بڑھاو ا دینے کی طرف خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ انہوں نے زرعی سیکٹر کو دوام بخشنے کے لئے مزید اصلاحاتی اقدامات کرنے کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔نور محمد شیخ نے اس موقعہ پر اپنے خیالا ت کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں غریب اور سماج کے پچھڑے طبقے کے لوگوں کی طرف خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔انہوں نے ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرانے کے لئے وزیر خزانہ کی ستائش کی۔عثمان مجید نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاست میں بجلی کے بنیاد ی ڈھانچے کو بڑھاوا دینے اور بجلی پروجیکٹوں کی ریاست کو واپسی کے حوالے سے مناسب اقدامات کریں۔انہوں نے سرکاری اور نیم سرکاری اداروں میں شفافیت کے عمل کو بڑھاو ادینے کی ضرورت پر زوردیا تاکہ لوگ بڑے پیمانے پر مستفید ہوسکیں۔نیلم کمار لنگے نے بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے ایک کامیاب بجٹ پیش کرنے کی خاطر وزیر خزانہ کو مبارک باد دی۔انہوں نے ہر ایک ضلع میں عوامی رابطہ مہم کے دوران مسائل حل کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ کو مبارک باد دی۔انہوں نے کہا کہ مزدور طبقے کے اجرتوں میں اضافہ کرنا ایک قابل ستائش کام ہے۔انہوںنے ایس آر او 202کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔پون گپتا نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے بجٹ کے کئی معاملات کو اُجاگر کیا جن کی طرف مزید توجہ دینے کی ضرور ت ہے ۔انہوںنے جموں خطے میں سیاحتی سرگرمیوں کو دوام بخشنے کے لئے مزید اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔سید محمد باقر رضوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے دیہی علاقوں کے لئے مساوی بنیادوں پر رقومات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوںنے کرگل زانسکار سڑک کے کام میں تیزی لانے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے سانکو میں ایک عوامی دربار منعقد کرانے کے لئے وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے زوجیلہ ٹنل کی تعمیر کے حوالے سے وزیر اعظم کے اعلان کا شکریہ ادا کیا۔محمد خلیل بندھ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر خزانہ کی طرف سے پیش کئے گئے بجٹ منصوبوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں سماج کے تمام طبقوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔انہوں نے باغبانی شعبے کو بڑھاوادینے کے اقدامات کی تعریف کی۔میاں الطاف احمد نے اس موقعہ پر اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی نوجوانوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ تمام خالی پڑی اسامیوں کو بھرتی ایجنسیوں کو بھیجا جانا چاہیئے۔انہوں نے پی ایچ ای سیکیموں کے لئے مزید رقومات مختص کرانے کا مطالبہ کیا۔شمیم فردوس نے ریاست میں جی ایس ٹی کی عمل آوری میں معقولیت لانے کیلئے حکومت کی مداخلت طلب کی ۔انہوں نے بغیر شادی کی بیٹیوں کو پنشن کے دائرے میں لانے کے لئے حکومت کے فیصلے کی تعریف کی۔انہوںنے سماجی بدعات کو دور کرنے کے لئے جامع اقدامات کرنے پر بھی زور دیا۔ دلیپ سنگھ پریہار نے ایک عوام دوست بجٹ پیش کرنے کے لئے وزیر خزانہ کو مبارک باد دی ۔انہوں نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ورکروں کی نوکریوں کو باقاعدہ بنانے کے لئے حکومت کی ستائش کی۔ انہوں نے ہنرمند اور غیر ہنرمند مزدوروں کی یومیہ اجرتوں میں اضافہ کرنے کی تعریف کی۔چودھری قمر حسین نے ملازمین کے لئے ساتویں تنخواہ کمیشن لاگو کرنے کے علاوہ عوامی بہبودی کی سکیمیں شروع کرنے کے لئے وزیر خزانہ کی تعریف کی۔انہوں نے سماج کے پچھڑے طبقے بالخصو ص شیڈول کاسٹس کی طرف خصوصی توجہ دینے کی بھی وکالت کی۔دلدن نمگیال نے اپنے خیالا ت اظہار کرتے ہوئے ان نکات کی نشاندہی کی جن کی طرف بجٹ منصوبے میں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے ریاست کے دور دراز علاقوں بشمول کرگل ضلع کی ترقی کے لئے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت زور دیا ۔انہوں نے ترتک اور خدبا سڑکوں کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کھولنے کا مطالبہ کیا۔شکتی راج پریہا ر نے بھی بحث میں حصہ لیا اور کہا کہ بجٹ میں ملازمین دوست کئی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جو قابل تعریف ہے۔ انہوں نے اپنے حلقے کے مختلف سیکٹروں میں ترقی کو یقینی بنانے کے لئے فراخدلانہ رقومات کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے ڈوڈہ میں میڈیکل کی تعمیر شروع کرنے کے لئے حکومت کو مبارک باد دی۔عبدالمجید لارمی نے اس موقعہ پر حکومت سے درخواست کی کہ وہ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو ان کے ساتھ کئے گئے وعدے کے مطابق انہیں جلد از جلد ریلیف دیں۔انہوں نے کئی ملازمین کی التوا میں پڑی تنخواہوں کو واگزار کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔عبدالرحیم راتھر نے ا س موقعہ پر ایک کامیاب اور عوام دوست بجٹ پیش کرنے کے لئے وزیر خزانہ کی تعریف کی۔انہوںنے اپنے حلقے میں صنعتی یونٹ قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اردو زبان چوں کہ ہماری سرکاری زبان ہے لہٰذا اس سے فروغ دینے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیے ۔انہوں نے ریاست میں ڈیزاسٹر منیجمنٹ کو مستحکم کرنے کی اہمیت کو اُجاگرکیا۔دیناناتھ بھگت نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ حکومت کی طرف سے اُٹھائے گئے فلاحی اقدامات قابل تعریف ہے ۔انہوںنے کہا کہ سی آر ایف اور پی ایم جی ایس وائی جیسی سکیموں کے تحت رقومات کا مکمل تصرف یقینی بنا یا جانا چاہیئے تاکہ پروجیکٹوں کو بروقت تکمیل ممکن ہوسکے۔