بانہال // تحصیل کھڑی کے کئی علاقوں سے وابسطہ لوگوں نے کھڑی سے نادکہ تک مجوزہ لنک روڈ کی تعمیر پر اپنے اعتراض اور علاقے کو ہونے والے نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے کے ساتھ پہلی ہی ناچلانہ مہو منگت رابطہ سڑک کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے اور اب اس نئی رابطہ سڑک کی تعمیر سے اس پہاڑی علاقہ کی کئی بستیوں کو خطرہ لاحق ہوگا اور کئی کنبے بے زمین ہو جائیں گے۔ غلام اکبر اور سلیم مخدومی وغیرہ کی قیات میں علاقے کے معززین نے کھڑی سے نادکہ تک تعمیر کئے جانے والے مجوزہ رابطہ سڑک کا معاملہ تحصیلدار کھڑی اور اعلی حکام کی نوٹس میں لایا ہے اور اس مجوزہ رابطہ سڑک کی تعمیر کیلئے متبادل طریقوں کو اپنانے کی اپیل کی ہے تاکہ اس پہاڑی پر اباد لوگوں کیلئے مسائیل کھڑے نہ ہوجائیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ کھڑی ، اڑپنچلہ کے ہالہ ، پاچل ، اْڑکہ ، نادکہ ، ہنجوس اور سرن وغیرہ کی بستیوں کو اس رابطہ سڑک کی زد میں انے سے زبردست نقصانات کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے اور لوگ پریشان ہوئے ہیں کیونکہ اس رابطہ سڑک سے ان کے بچے کھچے کھیت کھلیان اجڑ جائیں گے اور بہت سارے کنبوں کو سڑک کی وجہ سے بے گھر ہونا پڑے گا کیونکہ مجوزہ سڑک کا علاقہ میں زمین کھسک رہی ہے اور کھائی کی صورت میں پسیوں کے سلسلے کا بھی خطرہ لاحق ہے۔ اس مجوزہ سڑک کی زد میں انے والے کھڑی کے ایک وفد نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ کھڑی کے لوگ نادکہ رابطہ سڑک کی تعمیر کے خلاف ہرگز نہیں ہیں لیکن اس کیلئے ادھ درجن کے قریب بستیوں کو بچانا سرکاری کی زمہ داری بنتی ہے ،کیونکہ پہلے ہی کھڑی سے سرن تک لوگوں کی ملکیتی اراضی ناچلانہ مہو سڑک کی زد میں اکر لوگوں کیلئے مسائیل ہی پیدا کرچکی ہے اور اج تک لوگوں کی ارضی لینے کے بعد بھی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک علاقے کو اجاڑ کر دوسرے علاقے کو سڑک رابطے سے جوڑنا بڑی ناانصافی کی بات ہوگی اور اس سے سرن کی کھسکتی ابادی سے لیکر نادکہ تک انیو الی کئی بستیوں کو نقصان ہی اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سنہ 1986 میں ناچلانہ۔ مہو منگت رابطہ سڑک کے چھ کلومیٹر کے حصے پر اباد لوگوں کو اج تک کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے اور اس کیلئے افسروں اور وزرا کے دفتروں کے چکر کاٹ کاٹ کر متاثرہ لوگوں کو ناقابل بیاں مصائب اٹھانے پڑے ہیں لیکن اج تک کھڑی اڑپنچلہ اور سرن وغیرہ کے لوگوں کی ملیکتی اراضی کا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا ہے جبکہ لوگوں کی ملکیتی اراضی بغیر کسی معاوضے کے ختم کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چھ بستیوں کو اجاڑ کر مجوزہ نادکہ رابطہ سڑک کی تعمیر کے خلاف انہوں نے اپنا احتجاج تحصیلدار کھڑی اور ضلع حکام کے علاوہ سیاسی زمہ داروں کی نوٹس میں لایا ہے اور وہ کشمیر عظمی کی وساطت سے سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ سرکار مجوزہ کھڑی۔ نادکہ رابطہ سڑک کی سروے کی نظر ثانی کریں اور کھڑی کی غریب عوام پر رحم کھا کر کسی نئی جگہ سے سڑک کی تعمیر کا بندوبست کریں۔