تازہ واقعات میں لورن پونچھ اور ڈوڈہ میں لینڈ سلائیڈنگ سے10افراد کی موت،22لاشیں بر آمد،6لاپتہ
عشرت بٹ +اشتیاق ملک +سمت بھارگو
پونچھ+ڈوڈہ+راجوری//جموں و کشمیر کے خطہ پیر پنچال اور چناب میں قدرتی آفتوں سے گذشتہ 24گھنٹوں میں 29افراد ہلاک ہوئے۔ان میں سے 6افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔پونچھ میں دو واقعات کے دوران مجموعی طور پر 22 امواتیں ہوئیں ، جن میں سے 14 لاشیں برآمد ہوئی ہیں، 6 لاپتہ اور دو مسخ شدہ لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ متاثرین کی ہیں لیکن ڈی این اے کے نمونے لینے کے بعد اس کی وضاحت ہوگی۔ راجوری میں 4اور ڈوڈہ میں بھی 3لوگ مارے گئے۔اس سے قبل اتوار کو پونچھ میں چار مختلف مقامات پر لوگ پھنس گئے تھے جبکہ جموں ، راجوری و پونچھ میں 11افراد کو بچا لیا گیا تھا۔
ضلع پونچھ
پونچھ ضلع میں پیر کو بارش سے متاثرہ علاقے میں مٹی کے تودے گرنے سے ایک ڈھوک میں موجود سات افراد کی ہلاکت ہوئی۔یہ واقعہ لوران گائوں کے نندی چھول علاقے میں ڈھوک دومیل کے مقام پر پیش آیا۔ حکام نے بتایا کہ مٹی کا تودہ گرنے والا ڈھوک مٹی کا بنایا ہوا تھا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سول انتظامیہ سمیت رضاکاروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں، اور ہنگامی تلاش اور امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔پونچھ کے ضلع ترقیاتی کمشنراشوک کمار شرما نے بتایا کہ لوران ڈومیل گائوں میں ہونے والے اس واقعے میں 7 افراد کی جانیں گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ساتوں لاشیں نکال لی گئی ہیں اور انہیں قانونی کارروائیوں کے لیے بھیج دیا جائے گا۔جاں بحق افراد میں27سالہ تنویر احمد ولد غلام محمد بھٹ، 38سالہ زاہدہ بیگم دختر محمد رفیق بٹ، 33سالہ شمیم اختر زوجہ ریاض احمد بٹ،31سالہ شبنم بانو زوجہ عبدالمجید بھٹ،6سالہ منان رفیق ولدمحمد رفیق بھٹ، 4سالہ علیشہ دختر محمد رفیق بھٹ اور محمد عرفان ولد محمد سبحان ساکنان آریگام لوراں شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے سات افراد میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پونچھ ہفتہ کی شام سے موسلادھار بارشوں کی زد میں ہے۔پونچھ ضلع میں مجموعی طور پر 17افرادہلاک اور چھ لاپتہ ہیں۔
سرنکوٹ
اتوار کو سرنکوٹ میں لینڈ سلائیڈنگ اورمٹی کے تودے گرنے کے متعدد واقعات کے دوران 15افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ 3زخمی ہوئے۔ان پندرہ افراد میں پیر کی شام تک 9افراد کی لاشیں بر آمد کی گئیں جن میں دو لاشیں کٹی ہوئی تھیں، جن کی شناخت کی جارہی ہے۔جبکہ ابھی بھی 6لاپتہ ہیں۔ یہاں اتوار کی علی الصبح سرنکوٹ پونچھ کے لوئر مرہ گائوں میں ایک مکان طوفانی بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آیا، جس سے مکان میں موجود تمام8 اہل خانہ ملبے تلے دب گئے۔حکام نے بتایا کہ ایک دو سالہ لڑکے صوفیان یاسر سمیت پانچ افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئیںجبکہ باقی لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ سانگلہ گائوں میں سیلاب سے ان کا گھر بہہ جانے کے بعد ایک اور خاندان کے چار افراد لاپتہ ہو گئے۔ لاپتہ افراد میں عبدالحمید، ان کی اہلیہ شریفہ بیگم، بیٹی اریبہ اور بہن منیرہ بیگم شامل ہیں۔نون بندی گائوں میں مکان گرنے سے 28 سالہ خاتون نازیہ کوثر جاں بحق ہو گئی، اس کے شوہر، محمد حافظ، اور تین بچوں کو زخمی حالت میں بچا لیا گیا۔شاہ زیب احمد (22) اس وقت جان کی بازی ہار گیا جب اس کا گھر سنگلانی-سرنکوٹ میں گر گیا۔ حکام نے بتایا کہ دھندک لتھونگ پل کے قریب ایک ندی سے ایک خاتون کی نامعلوم لاش بھی نکالی گئی۔حکام نے بتایا کہ پونچھ ضلع کی تحصیل حویلی میں تقریبا ًنصف درجن مکانات گرنے سے ایک شخص ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔ضلع کے چار مختلف مقامات سے اب تک مجموعی طور پر نو لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں سے سات کی شناخت ہو چکی ہے اور دو کی شناخت ہونا باقی ہے۔ایس ایس پی پونچھ شفقت حسین نے بتایا کہ اب تک نو لاشیں نکالی جا چکی ہیں اور چھ مزید لوگ لاپتہ ہیں۔
ڈوڈہ
ڈوڈہ میں طوفانی بارش، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے عمر رسیدہ خاتون سمیت 3افراد جاں بحق جبکہ 6زخمی ہوئے۔ڈوڈہ بٹوت کشتواڑ قومی شاہراہ پر راگی نالہ کے قریب بھدرواہ سے جموں جارہی ایک بس زیر نمبر JK02AB/4877 پر پہاڑی کا ایک بڑا حصہ گر پڑا جس کے باعث 2افراد لقمہ اجل اور دیگر 6زخمی ہوئے۔ اس دوران دیگر 2نجی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔مہلوکین میں کلونت سنگھ (30)ولد بودھی سنگھ اور منیش کمار(26)ولد سریندر سنگھ ساکن بھدرواہ شامل ہیں۔زخمیوں میں شفافیہ منظورساکن بھالا ، مونی دیوی جودھپورہ ، سلیم ادھم پور ، راجیش کمار بھدرواہ، ستیہ دیوی بھدرواہ اور رابیہ بیگم شامل ہیں ۔ ادھر تحصیل گنیکا کے گائوں جٹھی میں اپنے گھر کے قریب لینڈ سلائیڈنگ کے دوران چٹان گرنے سے 85 سالہ شیو دیوی زوجہ جگیر سنگھ موقع پر جاں بحق ہوئیں۔ ان کی موت بھی طوفانی بارش کے دوران ہوئی۔ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر انل کمار ٹھاکر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ضلع میں پیر کو شدید بارشوں کے نتیجے میں دو الگ الگ واقعات میں 3 افرادہلاک اور 6 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مال مویشیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے. جس کے بارے میں فیلڈ عملہ سے نقصانات کی مکمل رپورٹ طلب کی گئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ دوسری جانب پتھرا دھار، ملان دیسہ میں آسمانی بجلی گرنے سے تقریبا پانچ سے چھ مویشی اور دیگر جانور ہلاک ہوگئے۔
راجوری
راجوری میں اتوار کو ہوئے قیامت خیز سیلابی ریلے کے نتیجے میں ہلاتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔یہاںپنکی دیوی کی لاش گزشتہ روز برآمد ہوئی تھی جبکہ دو لاپتہ لڑکوں کی لاشیں پیر کے برآمد ہوئی ہیں۔یہ دونوں لڑکے ملک مارکیٹ میں کرائے کے مکان میں مقیم تھے اور پانی کے ریلے میں بہہ گئے اور دونوں لاپتہ ہیں۔لاپتہ لڑکے وقاص احمد کی لاش ندی کے علاقے سلانی پل سے برآمد ہوئی جبکہ دوسرے نوجوان جاوید احمد کی لاش نوشہرہ سے برآمد ہوئی ہے۔ یہ لاش کل شام نوشہرہ میں دریا کے بیچ میں ایک بہت بڑی چٹان پر دیکھی گئی لیکن لاش نہ نکالی جاسکی اور پیر کو فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاش کو نکالا۔محکمہ جل شکتی کا ایک ملازم عبدالغنی ولد محمد رفیق تاحال لاپتہ ہے اور اس کی لاش ابھی تک نہیں مل سکی ہے۔
سیلاب کی صورتحال کا جائزہ
ایل جی کامتاثرہ علاقوں میں فوری امداد کا حکم
ایل جی کامتاثرہ علاقوں میں فوری امداد کا حکم
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز جموں و کشمیر کے کئی اضلاع میں شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد صورتحال کا جائزہ لیا، اور حکام کو ہدایت دی کہ وہ امدادی کارروائیوں میں تیزی لائیں اور متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر کو بحال کریں۔لیفٹیننٹ گورنر نے موسم کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے سینئر حکام سے بات کی اور انہیں فوری امدادی اقدامات اور ضروری خدمات کی جلد بحالی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ایکس پر ایک پوسٹ میں، سنہا نے ڈوڈہ ضلع میںجانوں کے ضیاع پر غم کا اظہار کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پونچھ، راجوری، ریاسی اور ادھم پور میں کلیدی سڑکوں کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے، جبکہ کئی متاثرہ علاقوں میں پانی کی سپلائی بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔سنہا نے فیلڈ ٹیموں کو رہائشی مکانات اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا فوری جائزہ لینے کی بھی ہدایت دی تاکہ بروقت راحت اور بحالی کے اقدامات کو ممکن بنایا جا سکے۔
سیلاب و بارش کے متاثرین کے لواحقین
وزیر اعلی کا 6 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان
وزیر اعلی کا 6 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر // وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سوگوار خاندانوں کی مدد کے لیے فوری اقدام کے طور پر راجوری اور پونچھ اضلاع میں بارش سے متعلقہ واقعات میں جان گنوانے والے ہر فرد کے لواحقین کے لیے 6 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا ریلیف کا اعلان کیا ہے۔سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور بارش سے متعلقہ دیگر واقعات سے ہونے والے المناک جانی نقصان پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کا ازالہ اگرچہ کوئی بھی مالی امداد نہیں کر سکتا تاہم حکومت مشکل کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا”اگرچہ پونچھ اور راجوری میں کل کے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور بارش سے متعلق دیگر واقعات سے ہونے والے ناقابل تلافی جانی نقصان کی کوئی مالی امداد کبھی بھی تلافی نہیں کر سکتی، سوگوار خاندانوں کی امداد کے فوری اقدام کے طور پر ہر مرنے والوں کے لواحقین کے لیے 6 لاکھ روپے کی ایکس گریشیا ریلیف دیا جائیگا”۔اس ریلیف پیکج میں اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فنڈ سے 4 لاکھ روپے اور چیف منسٹر ریلیف فنڈسے اضافی 2 لاکھ روپے شامل ہیں۔انہوں نے متاثرہ علاقوں میں ضروری خدمات کی بحالی اور امدادی اقدامات کو تیز کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کی جانب سے مربوط کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔