انسان کو خا لقِ کائنات نے یوں تو ساری مخلوقات میں سب سے افضل ترین یعنی اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کیا ہے اور اسے سوچنے کی وہ صلاحیت عطا کی کہ انسان نے اس کے استعمال سے چاند پر قدم رکھے اور پہاڑوں سے بھی سونا نکال کر اپنی عقل و فہم سے رب کی بنائی گئی کائنات میں اپنے لئے آسائش کا سامان مہیا کیا۔ لیکن اس دُنیا کے پیچھے بھاگتے بھاگتے انسان صرف ایک بات بھول گیا جو کہ انسان کو سب سے زیادہ ضروری سمجھنی تھی اور وہ یہ کہ اس کا وجود فانی ہے۔جس خا لقِ کائنات نے ایک ادنیٰ سے انسان کو اتنی عقل و فہم سے نوازا،اُس کی طاقت کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن بھی ہے۔ اس بات کا اندازہ ہم آئے دِنوں پوری دنیا میں پھیل رہے وبا یا ـ’’کروناوائرس‘‘سے بھی لگا سکتے ہیں ۔کسی نے سوچا بھی بھی نہ تھاکہ انسان، جس کے پاس آئے دن ایک دوسرے سے ملنے کی فرصت ہی نہیں رہتی، خدا اسے اس طرح کی فرصت عطا کرے گا جس کو پاکر وہ اس فرصت سے نجات کی ہی دعا کرے گا۔؎
اک مدت سے آرزو تھی فرصت کی
ملی ہے اس شرط پے کہ کسی سے نہ ملو
اس بے ثبات دنیا میں انسان ،جوکہ پہلے ہی سے غافل بن کر زندگی گزار رہا تھا لیکن جیسے جیسے دنیا نے ترقی کی ،اس کی غفلتوں کی حدیں پرواز کرنے لگی۔انسان اپنی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کی خاطر ایک مشین کی طرح بن گیا ۔جس طرح ہم مشین سے طرح طرح کے کام لے کر اُس کے استعمال کے بعد اُسے واپس رکھ دیتے ہیں، بالکل اسی طرح ہم صرف مشین کی طرح ایک دوسرے انسان کو استعمال میں لا کر اس سے صرف مطلب کے وقت ہی یاد کرتے ہیں ۔اس سب میں یہ بات بھی بالکل سچ ہے کہ اس تیز رفتاری میں ہم ذہنی سکون سے محروم ہوگئے ہیں ۔اب اگر انسان میں کچھ بچا کھچا سکون تھا تو اس کمی کو کرونا وائرس نے پورا کر دیا ۔یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس دنیا میں گناہوں کے اس قدر انبارلگ گئے ہیں جو ہم تک نیکی کی آوازیں بھی آنے نہیں دیتے۔بے حیائی اور بے شرمی میں لوگ اس قدر گرفتار ہوگئے ہیں کہ انہیں جیسے سدا ا س دنیا میں ہی رہنا ہے۔لوگ یہ بھول بیٹھے ہیں کہ یہ دنیا عبرت کی جا ہے اور ہم جیسے کم ظرف لوگوں نے اس عبرت کی دنیا کو تماشا بنا رکھا ہے ۔ اس وبائی بیماری نے ہر ذی روح کو بے حد پریشان کر دیا۔ آخر پریشان ہوبھی کیوں نہ جائے کیوں کہ جب انسان کی جان پر بن آئے تب انسان کو ربِ کائنات کی یاد آجاتی ہے ،اور وہ اپنے کیے پر افسوس کرنے لگتا ہے لیکن تب شاید بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
اگر ہم اس بیماری کے دوسرے پہلوئوں کو دیکھیں تو اس وبائی بیماری یعنی ’’کرونا وائرس‘‘نے وہ وہ سارے گناہ کسی حد تک کم کر دئے جو ہم سے آئے دنوں میں سر زد ہونے والے تھے ۔در اصل ہم گناہوں کے اس قدر عادی ہوگئے تھے کہ ہمیں گناہوں کے بغیر آرام بھی نہ آرہا تھا۔ویسے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ ہمارے گناہوں کا بدلہ اسی وقت نہیںدیتا جس وقت ہم گنا ہ انجام دیتے ہیں۔یہ بات بھی صحیح ہے کہ جب اللہ کی نافرمانی عام ہو تو اللہ کی قدرت جوش میں آکر اپنے بندوں پر عذاب نازل کرتی ہیں۔ شاید ان سب گناہوں کے پیش نظر اللہ نے ہم پر یہ عذاب یعنی ’’کرونا وائرس ‘‘نازل کر دیا ۔اس مصیبت سے نجات کے لیے دُنیا کے سب ہی ممالک مختلف تدبیریں کر رہے ہیں تا کہ اس متعدی بیماری کو قابو کیا جا سکے۔پوری دُنیا میں لاک ڈائون کا حربہ استعمال کیا گیا اور کیا جا رہا ہے مگر عام لوگ اب بھی اس پر پابندی سے عمل نہیں کر رہے ہیں ۔پوری دنیا کے ممالک میں شفاخانوں میں ایسے بیماروں کے علیحدہ علاج کرانے کے بندوبست کئے گئے اور کئے جا رہے ہیں ۔دُنیا کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔پوری معیشت زمین بوس ہو رہی ہے۔ پورے اخراجات اسی بیماری کے علاج ومعالجہ اور تدابیر پر خرچ ہو رہے ہیں ۔لاک ڈائون کا جدھر اطلاق ہوا ،اُدھر مانو جیسے ساری آبادی نیست نابود ہو گئی ہے ۔جو جہاں تھا وہ وہیں بند ہو کر رہ گیا ۔کسی کو کہیں سے ملنے کی اجازت نہ دی جاتی ہے ۔مسافر جو سفر میں تھے، لاکھوں کی تعداد میںدربدر ہو کر رہ گئے ۔کسی کا کہیں ٹھکانہ نہیں ۔ اب حکومت بار بار اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ مسافروں کے لئے راحت کے مختلف سامان میسر کئے جا رہے ہیں ۔ہوائی راستے ،زمینی آواجاہی اورحتیٰ کہ سمندری سفر پر بھی پابندیاں لگ گئیں ۔وبائی بیماری جب پھیلتی ہے تو کہیں سے کوئی ہل نہیں سکتا اور کہیں کوئی داخل نہیں ہو سکتا ہے اور نہ کسی بستی سے نکل سکتا ہے۔ ؎
کوئی تو جرم تھا جس میں سبھی ملوث ہیں
تبھی تو ہر شخص مُنہ چھپائے پھرتا ہے
غرض کہ پوری دنیا میں ایک افراتفری کا عالم ہے اور جیسے قیامت بپا ہو چکی ہے ۔غریبوں کو کھانے پینے اور ضروریات زندگی کے سامان کہاں سے میسر ہو سکتے ہیں۔جب لاک ڈائون ہوا تو غریب جن کے مقدر میں بھوک اور تنگ دستی روزِازل سے تھی ۔ان کے غموں میں اس سے روز افزوں اضافہ ہی ہو گیا ۔وہ اگر چہ امیروں کے جھوٹے نِوالے کھا کر زیست گزار رہے تھے لیکن اس لاک ڈائون کی وجہ سے ان غرباء کو امیروں نے اپنے در پے بھی آنے نہ دیا۔حکومت نے بھی ان غرباء کے ساتھ کچھ وفا نہ کی ،وفا کرتی بھی کیسے حکومت ـ’خُدا ‘تھوڑی نہ ہے جو ہر ایک ذی روح کے پاس جا کر اُس کو روٹی مہیا کرتا۔خیر سرکار کی طرف سے غرباء کو کچھ مدد تو ملی لیکن وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ڈالنے کے مترادف ہے۔
مختصراًیہ کہ خدا جو اس پوری کائنات کا خالق و مالک ہے ،ہر چیز پر قادر ہے ۔وہ جب چاہے تو ذرے کو آفتاب بنائے ،چاہے تو آفتاب کو ذرہ بنا دے ۔بحیثیتِ مسلمان ہمیں اس پر پورا ایمان و یقین ہے ۔ اس بیماری نے جن لوگوں کو موت کا شکار بنادیا، ان کی موت نے جو داغ اُن کے لواحقین اور رفقاء کودئے ، وہ شاید ہی مٹ سکتے ہیں ۔ایک تو داغِ مفارقت ہوتا ہے لیکن یہ داغ تو داغِ مسمارکہلائیں گے۔جنازہ بھی کیا،کفن دفن بھی کیسا اور الوداع بھی کیسا ۔جیسے کوئی لاوارث لاش تھی اور لاوارث قبرستان میں دفنائی گئی ۔نہ واویلا کرنے والے ،نہ تعزیت پُرسی کرنے والے ۔
رابطہ :عارضی لیکچرر گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول چندوسہ بارہمولہ
ای میل:[email protected]